سائٹ اور واٹر بورڈ میں کروڑوں کے واجبات کی ادائیگی کا تنازع

اسٹاف رپورٹر  منگل 21 جنوری 2020
سائٹ لمیٹڈ نے مارچ 2019 میں روڈ کٹنگ کی مد میں واٹر بورڈ کو 13 کروڑ 22 لاکھ روپے کے واجبات کیلیے خط لکھا تھا
 فوٹو : فائل

سائٹ لمیٹڈ نے مارچ 2019 میں روڈ کٹنگ کی مد میں واٹر بورڈ کو 13 کروڑ 22 لاکھ روپے کے واجبات کیلیے خط لکھا تھا فوٹو : فائل

کراچی:  سائٹ اور واٹربورڈکے درمیان ایک دوسرے پرکروڑوں روپے کے واجبات کی ادائیگی کاتنازع شدت اختیارکرگیا۔

کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈکی جانب سے اکتوبر2018 میں بلدیہ ٹاؤن کراچی کو پانی کی سپلائی بہتر بنانے کیلیے حبیب بینک چورنگی سائٹ سے واٹربورڈکے پمپ نمبر 3 تک 24 انچ قطرکی پانی کی لائن کی تنصیب کا کام شروع کیا گیا تھا جس پر سائٹ لمیٹڈ نے مارچ 2019 میں سائٹ کی حدود میں روڈ کٹنگ کی مد میں واٹر بورڈ کو13کروڑ 22 لاکھ روپے سے زائدکے واجبات کی ادائیگی کیلیے خط لکھ دیا۔

واٹربورڈ نے واجبات کی ادائیگی پرکوئی توجہ نہ دی جس کے بعد سائٹ لمیٹڈکی جانب سے جولائی2019 میں روڈکٹنگ کی مد میں واجبات کی ادائیگی کیلیے واٹربورڈ کو ایک اور یاد دہانی مراسلہ بھیجا گیا،6ماہ گزر جانے کے بعد دسمبر2019 میں بھی واٹربورڈ پر واجبات کی ادائیگی کیلیے زور دیا گیا۔

چیف سیکریٹری کی زیرصدارت اجلاسوں میں یقین دہانیوں کے باوجود واٹر بورڈ نے سائٹ انتظامیہ کے مراسلوں کاجواب دینے اور واجبات کی ادائیگی پرکوئی توجہ نہیں دی ،سائٹ لمیٹڈکی موجودہ انتظامیہ نے ایم ڈی سائٹ کی قیادت میں روڈ کٹنگ کی مد میں واٹربورڈسے واجبات کی وصولی کیلیے سنجیدہ کوششیں شروع کردی ہیں۔

سائٹ نے واٹربورڈکو ایک اور مراسلہ ارسال کیاجس میں ایک بار پھر سائٹ کے بھاری واجبات کی ادائیگی یقینی بنانے پرزور دیا گیا ،مذکورہ مراسلے کی کاپی وزیراعلیٰ سیکریٹریٹ کو بھی ارسال کی گئی، ذرائع کاکہنا ہے کہ واٹربورڈ کی انتظامیہ نے بھی سائٹ کے مراسلوں کے جواب میں سائٹ لمیٹڈ پر واٹر بورڈکے واجبات کنگھالنے شروع کردیے،پانی کے بلوں کی مد کی سائٹ انتظامیہ پر بھاری واجبات نکالنے کی کاغذی تیاریاں شروع کردی گئی ہیں۔

واضح رہے کہ سائٹ انتظامیہ کو اس وقت مالی مشکلات کا سامنا ہے، گزشتہ کئی سالوں سے سرکاری اداروں پرسائٹ لمیٹڈ کے کروڑوں روپے کے واجبات ہیں،سائٹ انتظامیہ ان واجبات کی وصولی میں اب تک کامیاب نہیں ہوسکی ، موجودہ انتظامیہ سنجیدہ کوششوں میں مصروف ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔