خان صاحب! سوال تو ہوگا

واصب امداد  جمعرات 23 جنوری 2020
کیا میڈیا سوال نہ کرے کہ گندم کا بحران کیوں پیدا ہوا؟ (فوٹو: انٹرنیٹ)

کیا میڈیا سوال نہ کرے کہ گندم کا بحران کیوں پیدا ہوا؟ (فوٹو: انٹرنیٹ)

صدرِ مملکت کا ایک بیان میرے سامنے ہے۔ سمجھ میں نہیں آرہا کہ اس بیان کو کس طرح کے ردِعمل سے نوازا جائے۔ جنابِ صدر فرماتے ہیں کہ آٹے کے حالیہ بحران کا انہیں علم نہیں، مگر اصولاً اس کا علم انہیں ہونا چاہئے تھا۔ رک جائیے کہ لطیفہ ابھی ختم نہیں ہوا۔ عارف علوی آگے کہتے ہیں کہ یہ جو آج کل ہم سے مہنگائی ختم کرنے کے دعوؤں سے متعلق سوال ہورہے ہیں ان سوال کرنے والوں تک میں یہ بات پہنچانا چاہتا ہوں کہ ہمارے دعوے دراصل خزانے کی صورتِ حال جاننے سے پہلے کے ہیں۔ جی ہاں یہ بیان ہمارے صدرِ مملکت کا ہی ہے۔

یوں سمجھ لیجئے کہ پورا ملک ایسے ہی چل رہا ہے۔ جیسا چل رہا ہے، اس کا علم چلانے والوں کو نہیں ہے مگر وہ سمجھتے ہیں کہ اصولاً یہ علم انہیں ہونا چاہیے۔ عوام جن پر تکیہ کیے بیٹھے ہیں کہ ان کے دکھوں کا مداوا کریں گے۔ وہ بے خبر ایک عجیب خوابِ غفلت میں وقت گزاری کررہے ہیں، گو وہ سمجھتے ہیں کہ انہیں ایسا ہرگز نہیں کرنا چاہیے۔

احتساب، انصاف، خوشحالی اور ترقی کے ساتھ اب لفظ مافیا کا بھی استعمال تواتر سے ہونے لگا ہے۔ یوں کہیے کہ اپنی نالائقی چھپانے اور الزام کسی اور پر دھرنے کا ایک نیا حیلہ ایک نیا بہانہ ہے، کہ بھئی ہم کیا کریں، ہم تو جہاں ہاتھ ڈالتے ہیں وہیں ایک مافیا نکلتا ہے۔ یہاں ناجائز حکم نہ ماننے والی بیوروکریسی بھی ایک مافیا ہے۔ یہاں سوال کرنے والا میڈیا بھی مافیا ہے۔ یہاں مہنگائی کے خلاف احتجاجاً دکان بند کرنے والے دکاندار بھی مافیا۔ یہاں شبر زیدی کے ناکارہ حربے نہ ماننے والے تاجر بھی مافیا۔ بس یہاں کے وکلا بھی، ینگ ڈاکٹرز بھی، حتیٰ کہ جو بھی عمران خان کا ساتھ نہ دے اور ان کی شان میں قصیدہ گوئی نہ کرے، وہ سب مافیا کے کارندے کہلائیں۔

سمجھنے سے قاصر ہوں کہ زیادہ بے وقوف کون ہے؟ بے وقوف بنانے والے یا بے وقوف بننے والے؟ کس ڈھٹائی سے حکومتی وزراء اپنے پیدا کردہ ہر بحران کا سوال ہونے پر ذمے دار مافیا کو قرار دیتے ہیں اور معصوم عوام بھی ان کے منہ سے لفظ مافیا نکلتے ہی کسی اَن دیکھے اور انجانے دشمن کو برا بھلا کہنا شروع کردیتے ہیں، جو ان کے خیال میں خان صاحب کی حکومت کو ناکام بنانے کے درپے ہے۔

کل تک جو میڈیا خان صاحب کو پسند تھا۔ جس میڈیا پر خان صاحب کے 126 دن کے دھرنے کی میراتھن کوریج ہوئی۔ جہاں اشتہارات کٹوا کر خان صاحب کا ہر چھوٹا بڑا جلسہ دکھایا گیا۔ جس میڈیا پر شریف خاندان کی کرپشن کے قصے ہر شام دکھائے اور سنائے جاتے رہے۔ آج وہی میڈیا خان صاحب سے ان کی گورننس پر جب سوال کرتا ہے تو انہیں اسی میڈیا پر بھی مافیا کا راج نظر آنا شروع ہوجاتا ہے۔ خان صاحب کیا میڈیا سوال نہ کرے کہ گندم کا بحران کیوں پیدا ہوا؟ کس نے اقتصادی رابطہ کمیٹی میں چالیس ہزار ٹن گندم افغانستان بھیجنے کی سمری منظور کی؟ کس نے کس کی بے خبری سے فائدہ اٹھا کر پیسا بنایا؟ کیا میڈیا سوال نہ کرے کہ یہ حکومت جن اشخاص کے نرغے میں ہے، وہ وزراء کیوں حریم شاہوں کے نرغے میں ہیں؟ کیا میڈیا سوال نہ کرے کہ حکومت گیس کی فراہمی میں کیوں ناکام ہوئی؟ بجلی اور روزمرہ کی اشیا کی قیمتیں آسمان تک کیوں پہنچیں؟ مہنگائی اور بیروزگاری کی شرح میں اضافہ کیوں ہوا؟ کیا میڈیا اس بات پر جواب طلب نہ کرے کہ 91 فیصد افراد اپنے روزگار کے معاملے میں عدم تحفظ کا شکار کیوں ہیں اور 31 فیصد افراد سطحِ غربت سے نیچے کیوں گئے؟

کیا میڈیا آپ کو آئینہ نہ دکھائے کہ آپ کے اتحادی، جن سے آپ نے ترقیاتی فنڈز اور پیکیجز کے وعدے کر رکھے تھے، ان وعدوں میں غیر سنجیدگی پر نالاں کیوں ہیں؟

کیا میڈیا یہ نہ پوچھے کہ کون سا وزیر کاغذاتِ نامزدگی جمع کرتے ہوئے امریکی شہری تھا، اور کس نے کس سے دباؤ ڈلوا کر اپنے خلاف نیب انکوائری بند کروائی؟ کیا میڈیا آپ کے وزراء کے احمقانہ بیانات نشر نہ کرے، جو کہتے ہیں کہ روٹی کا وزن کم کریں، تو کوئی کہتا ہے کہ روٹیاں کم کھائیں۔ کہیں سے بیان آتا ہے کہ گندم کا بحران مصنوعی ہے تو کوئی کہتا ہے کہ بحران ہے ہی نہیں۔ کیا سوال نہ ہو کہ ایک وزیر نے سات ماہ میں ایک ہی لنگر خانے کا تین بار افتتاح کیوں کیا؟ دوسرے نے چین گئے طلباء کی اسکالرشپ کی رقم کیوں منسوخ کی؟ کیا میڈیا خاموش رہے کہ خیبرپختونخوا میں ایک میٹرک پاس وزیرِ تعلیم کیوں لگایا گیا؟ پرویز خٹک کے رشتے دار ہی کیوں بھرتیوں کےلیے موزوں ٹھہرے اور بی آر ٹی کی لاگت کیوں دگنی ہوئی؟

خان صاحب! کیا میڈیا آپ کے ناکام ریفارمز کو کامیاب دکھائے؟ کیا عثمان بزدار کو شیر شاہ سوری ثانی کہے؟ بس آپ کی ایمانداری کی قصیدہ گوئی کرے، آپ کے وزراء کی غیر سنجیدگی کو معصومیت کہے۔ بس ہر چینل پر شام کو یو این کی تقریر نشر کرکے عقیدت کے آنسو بہائے جائیں، اور شریف خاندان کی کرپشن کی داستانیں بیان کرنے کے بعد جو وقت بچ جائے اس میں آپ کے ورلڈ کپ اٹھانے کی تصاویر نشر کرتا رہے؟ اور اگر ایسا نہ ہو تو میڈیا مافیا قرار پائے اور آپ کے چاہنے والوں سے لفافہ خوری اور ضمیر فروشی کے الزامات سہتا رہے؟

خان صاحب سوال تو ہوگا۔ سوال ہوگا کہ کیوں آپ کی تقاریر سے یہ جملہ کہ میں کسی کو این آر او نہیں دوں گا، کہیں خاموشی سے یو ٹرن لے کر لندن کی فلائٹ لے چکا ہے۔ سوال ہوگا کہ کیا وہ صحیح کہا کرتے تھے کہ خان صاحب آپ کے بس میں تو این آر او دینا ہے ہی نہیں؟ سوال تو ہوگا کہ وہ ماڈل ٹاؤن سانحہ جسے آپ کا ہر وزیر حکومت سے پہلے ٹاک شوز میں مخالفین کو زیر کرنے کےلیے بطور ایک حربہ استعمال کرتا رہا، آج ان لواحقین کےلیے آپ نے کیا کیا؟ سوال ہوگا کہ وہ یکساں نظامِ تعلیم کا خواب کیا ہوا؟ سوال ہوگا کہ کروڑ نوکریاں کہاں گئیں؟ وہ پچاس لاکھ گھر کدھر بنے؟ سوال ہوگا کہ احتساب کے اس ڈھونگ سے کیا ملا اور غریب کے پسینے کی کمائی ہی کیوں نوچی جاتی رہی؟ سوال ہوگا کہ آپ دو لاکھ تنخواہ لے کر بھی اگر گھر نہیں چلا سکتے تو ڈھائی سو کی دیہاڑی لگانے والا مزدور کون سی تقریر سن کر پیٹ بھرے؟

سوال تو ہوگا خان صاحب! اور جواب بھی دینا ہوگا۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 1,000 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

واصب امداد

واصب امداد

بلاگر میڈیا کے طالب علم ہونے کے ساتھ ریڈیو براڈ کاسٹر ہیں۔ ملکی سیاست اور انٹرنیشنل افیئرز میں دلچسپی کے ساتھ لکھنے کا بھی شوق ہے۔ ان سے ٹویٹر آئی ڈی [email protected] پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔