چین کا ہزار بستروں پرمشتمل اسپتال صرف ایک ہفتے میں تعمیر کرنے کا اعلان

ویب ڈیسک  جمعـء 24 جنوری 2020
اسپتال کی تعمیر کا کام انتہائی تیز رفتاری سے جاری ہے اور یہ پیر سے کام بھی شروع کردے گا۔ (فوٹو: رائٹرز)

اسپتال کی تعمیر کا کام انتہائی تیز رفتاری سے جاری ہے اور یہ پیر سے کام بھی شروع کردے گا۔ (فوٹو: رائٹرز)

بیجنگ: چین کے شہر ووہان میں کرونا وائرس کی نئی قسم نے جس تیزی سے عالمی وبا کی شکل اختیار کی ہے، اس سے نبرد آزما ہونے کےلیے چین نے بھی اتنی ہی تیز رفتاری سے 1000 بستروں پر مشتمل ایک اسپتال بنانا شروع کردیا ہے جہاں بطورِ خاص کرونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کا علاج کیا جائے گا۔ ووہان میں تعمیر کیا جانے والا یہ اسپتال اتوار تک مکمل کرلیا جائے گا جبکہ یہ پیر کے روز سے کام شروع کردے گا۔

دلچسپی کی بات یہ ہے کہ چینی حکام اس جگہ پر ہر قسم کی مشینری فوری طور پر نہ صرف پہنچا چکے ہیں بلکہ اسپتال کی تعمیر بھی تیزی سے جاری ہے۔ وہاں کام کرنے والوں کو ہدف دیا گیا ہے کہ اس اسپتال کو پیر یعنی 27 جنوری سے کام شروع کردینا چاہیے۔

کام کی رفتار اور کارکنان کا انہماک دیکھ کر اندازہ ہے کہ اتوار کی صبح تک اسپتال کی عمارت مکمل ہوجائے گی جبکہ اگلے 20 گھنٹوں میں وہاں ہر قسم کا ضروری طبّی ساز و سامان بھی منتقل کردیا جائے گا جس میں متاثرین کےلیے قرنطینہ (مکمل علیحدگی) کے انتظامات بھی شامل ہوں گے۔

واضح رہے کہ چین گزشتہ دس دنوں سے ایک نئی وبا کا شکار ہے جس کی علامات نمونیا سے ملتی جلتی ہیں۔ لیکن اس بیماری کی وجہ ایک نیا وائرس ہے جس کا تعلق ’’کرونا‘‘ (Corona) قسم کے وائرسوں کے خاندان سے ہے۔ کیونکہ اس وبا کا آغاز چینی شہر ووہان سے ہوا تھا، اس لیے یہ وائرس بھی فی الحال ’’ووہان وائرس‘‘ ہی کے نام سے مشہور ہورہا ہے۔

چین میں اب تک ووہان وائرس سے 25 اموات ہوچکی ہیں جبکہ 800 سے زائد افراد اب تک اس سے متاثر ہوچکے ہیں۔ سرِدست اس وبا کی سب سے زیادہ شدت ووہان شہر میں ہے جسے کچھ روز پہلے ہی قرنطینہ کیا جاچکا ہے۔ یعنی اس شہر کے تمام داخلی اور خارجی راستے بند کردیئے گئے ہیں، یہاں رہنے والا کوئی فرد بھی اس شہر سے باہر نہیں جاسکتا، جبکہ بیرونِ شہر سے آنے والی امدادی ٹیموں کو بھی خصوصی حفاظتی اقدامات اختیار کرنے اور خصوصی لباس پہننے کے بعد ہی اس علاقے میں داخل ہونے کی اجازت دی جارہی ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔