گیدڑ ہی سہی، میدان چھوڑ کر نہیں جاؤں گا، مصباح

اسپورٹس رپورٹر / اسپورٹس ڈیسک  جمعرات 14 نومبر 2013
ہر کوئی جانتا ہے کہ میدان میں کیا ہوا، انفرادی کھیل کا الزام درست نہیں، کپتان۔ فوٹو: ایکسپریس نیوز/فائل

ہر کوئی جانتا ہے کہ میدان میں کیا ہوا، انفرادی کھیل کا الزام درست نہیں، کپتان۔ فوٹو: ایکسپریس نیوز/فائل

لاہور: پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان مصباح الحق نے کہا کہ اگر لوگ مجھے گیدڑ کہتے ہیں تو پھر میں ’ گیدڑ ‘ ہی سہی ، میدان چھوڑ کر نہیں بھاگوں گا۔

میں مڈل میں گیدڑ کی طرح ہی دبائو کا سامنا کرنے کو بہترین خیال کرتا ہوں، لیکن ہر کوئی جانتا ہے کہ میدان میں کیا ہوا ہے، سال میں 1700 رنز بنانے کے باوجود انفرادی کھیل پیش کرنے کا الزام  درست نہیں، جتنی ہمت ہے اس کے مطابق گرین شرٹس کیلیے کر رہا ہوں اور آئندہ بھی کرتا رہوں گا، لاہور آمد پر میڈیا سے بات کر رہے تھے۔ مصباح نے کہا کہ 50 اوورز کے میچ میں بیٹسمین 200 سے زیادہ رنز نہیں بنا پا رہے بلکہ پورے اوورز بھی نہیں کھیل پا رہے،کہیں چھ بیٹسمینوں سے10 رنز نہیں بن رہے تو کبھی وہ 36 گیندوں پر42 اسکور کرنے میں بھی ناکام رہتے ہیں، اس طرح کی کارکردگی سے انٹرنیشنل میچز نہیں جیتے جا سکتے۔ دلبرداشتہ کپتان نے کہا کہ جونیئر تو جونیئر سینئر کھلاڑیوں نے بھی جیسا کھیل کھیلا وہ سب نے دیکھا، یقینا سلیکٹرز اور کرکٹ بورڈ نے بھی یہ ضرور دیکھا ہوگا۔

قومی کپتان  نے مزید کہا کہ ٹیم کی پرفارمنس سلیکٹرز کو نظر آ رہی ہے، کسی کھلاڑی کی پرفارمنس پر بحث نہیں کروں گا۔ بورڈ دیکھ رہا ہے وہی بہتر فیصلہ کریگا۔قومی ٹیم کے کپتان کا کہنا تھا کہ وہ مایوس نہیں ہیں، ان لوگوں کو آنکھیں کھول لینی چاہیے جو اس سال 17 سو رنز اسکور کرنے کے باوجود ان پر یہ الزام عائد کرتے ہیں کہ وہ ٹیم کے لیے نہیں کھیلتے۔مصباح نے واضح کیا کہ وہ میدان نہیں چھوڑیں گے بلکہ جتنی میری ہمت ہے اس کے مطابق میں پاکستانی ٹیم کیلیے کر رہا ہوں اور آئندہ بھی کرتا رہوں گا، دریں اثنا خبر ایجنسی کے مطابق مصباح نے کہاکہ اگر لوگ مجھے گیدڑ کہتے ہیں تو پھر میں ’ گیدڑ ‘ ہی سہی ، میدان چھوڑ کر نہیں بھاگوں گا، میں مڈل میں گیڈر کی طرح ہی دبائو کا سامنا کرنے کو بہترین خیال کرتا ہوں، لیکن ہر کوئی جانتا ہے کہ میدان میں کیا ہوا ہے، پاکستانی کپتان پر نجی ٹی وی پروگرام پر سابق کپتان محمد یوسف اور پیسر شعیب اختر نے شدید تنقید کی تھی، شعیب اختر کا کہنا تھا کہ مصباح کا انداز قیادت ’ بے جان‘ ہے، اس میں جارحانہ پن کا فقدان ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔