ملک میں گندم و آٹے کا بحران

اجمل ستار ملک / احسن کامرے  پير 27 جنوری 2020
مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والی شخصیات کا ’’ایکسپریس فورم‘‘ میں اظہار خیال۔ فوٹو: ایکسپریس

مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والی شخصیات کا ’’ایکسپریس فورم‘‘ میں اظہار خیال۔ فوٹو: ایکسپریس

گزشتہ دنوں کراچی تا خیبر تک ملک میں گندم اور آٹے کا بحران شدت اختیار کرگیا جس سے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ حکومت نے اسے مصنوعی بحران قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں گندم موجود ہے، حالیہ مسئلے کی وجہ سپلائی چین کا ڈسٹرب ہونا ہے لہٰذا یہ معاملہ اگلے چند روز میں ٹھیک ہو جائے گا۔

حکومتی مشینری حرکت میں آئی، ٹرکوں و سیل پوائنٹس پر آٹے کی فراہمی شروع کی گئی، ذخیرہ اندوزوں و ذمہ داران کے خلاف کارروائیاں عمل میں لائی گئیں جس کے بعد اب صورتحال قدرے بہتر ہے۔ اس بحرانی کیفیت کے دوران گزشتہ دنوں ’’ایکسپریس فورم‘‘ میں ’’آٹے کا حالیہ بحران اور حکومتی اقدامات‘‘ کے موضوع پر ایک مذاکرہ کا اہتمام کیا گیا جس میں حکومت و سول سوسائٹی کے نمائندون اور فلور ملز و آٹا چکی مالکان نے اپنے اپنے خیالات کااظہار کیا۔ فورم میں ہونے والی گفتگو نذر قارئین ہے۔

سمیع اللہ چودھری (صوبائی وزیر خوراک پنجاب )

آٹے کا کوئی بحران نہیں۔ یہ صرف ایک مسئلہ ہے جسے بحران بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ بحران کا پراپیگنڈہ کرنے والوں کو وزیراعظم عمران خان اور وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار پسند نہیں، اسی لیے وہ ایسی افواہیں پھیلا رہے ہیں۔ مئی، جون میں پنجاب میں 46 سے 48 ڈگری درجہ حرارت ہوتا ہے، ہم نے اس شدید گرمی میں مختلف علاقوں کا دورہ کیا تاکہ کسانوں و کاشتکاروں کے مسائل حل کیے جاسکیں۔ پنجاب میں گزشتہ 10 برسوں کے دوران پہلی مرتبہ کاشتکار کو اس کی فصل کا معاوضہ پورا ملا اور ایسا کسان کی عزت نفس مجروح کیے بغیر کیا گیا۔ کاشتکار کو اس سے پہلے حکومت کی طے کردہ قیمت 1300 روپے سے کم پر گندم بیچنا پڑتی تھی اور وہ 1 ہزار یا 1050 روپے میں گندم مجبوراََ فروخت کر دیتے تھے۔ کسان باردانہ مافیا کے ہاتھوں مجبور تھے۔ اس کے علاوہ انہیں پٹواریوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا تھا۔ اس مرتبہ بار دانہ کا کوئی مسئلہ نہیں ہوا۔ ہم نے اوپن پالیسی رکھی، جس کو جتنی ضرورت تھی اس نے اتنا بار دانہ لیا اور ہم نے خود جا کر کاشتکاروں سے ایک ایک دانہ اکٹھا کیا۔ ہم نے بذریعہ ایس ایم ایس کاشتکاروں کو آگاہ کیا کہ کس دن کس جگہ سے بار دانہ لیں اور کس سینٹر پر جا کر فروخت کریں۔ ایسے سینٹرز جن کا بینکوں سے فاصلہ زیادہ تھا ہم نے وہاں بینکوں کے بوتھ قائم کروائے اور جو چھوٹے زمیندار تھے، ہم نے بینکوں کو پابند کیا کہ ان کو بھی وہاں معاوضہ دیں۔ یہ انقلابی اقدامات تھے جن کی وجہ سے ہمیں یہ اندازہ تھا کہ 3 سے 4 ملین کے درمیان گندم کی حاصل ہوگی۔ یہ ابہام پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے کہ پنجاب نے پہلے گندم ایکسپورٹ کی اور اب امپورٹ کی جارہی ، یہ بالکل غلط ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پنجاب نے ایک بھی دانہ ایکسپورٹ نہیں کیا اور نہ ہی اب پنجاب کیلئے گندم امپورٹ کی جائے گی۔ گندم کا مسئلہ سندھ میں ہے جس کے خاتمے کیلئے وفاقی حکومت منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ سندھ حکومت نے گندم کی خریداری میں مجرمانہ غفلت کی۔حیرت ہے کہ انہوں نے ایسا کیوں کیا؟ مرکز یا صوبے میں جس بھی جماعت کی حکومت ہو، عوام تو ہم میں سے ہی ہیں۔ ہم سب کے دکھ درد سانجھے ہیں۔ ہماری تکالیف و مسائل ایک ہیں مگر سندھ کے ذمہ داروں نے انتہائی غیر ذمہ داری کا ثبوت دیا۔ حکومت سندھ کہہ رہی ہے کہ ساڑھے آٹھ لاکھ ٹن گندم موجود ہے مگر جب نیب و اینٹی کرپشن نے کارروائی کی تو معلوم ہواکہ نہ صرف بوریوں کی تعداد کم تھی بلکہ ان سے ریت برآمد ہوئی۔ پاسکو نے جب سندھ کو 4 لاکھ ٹن گندم دی تو اس میں سے بھی انہوں نے 1 لاکھ ٹن گندم اٹھائی۔ خیبر پختونخوا میں بھی صورتحال بہتر نہیں نے۔ پنجاب نے ہمیشہ بڑے بھائی ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے قربانی دی، اب بھی ہم اس حیثیت کو برقرار رکھے ہوئے ہیں اور دیگر صوبوں کو گندم فراہم کر رہے ہیں۔ یہ سب کچھ کرنے کے باوجود الزام پنجاب پر آرہا ہے۔ اگر پنجاب میں گندم کا بحران ہوتا تو کیا ہم خیبر پختونخوا کو 5 ہزار ٹن آٹاروزانہ دینے پر آمادہ ہوتے؟ پنجاب میں ضرورت کے مطابق گندم و آٹے کے ذخائر موجود ہیں۔ یہاں لوگوں کو آٹا مل رہا ہے اور قیمت کا بھی کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے کہا کہ پنجاب ہر قربانی دینے کیلئے تیار ہے اور پھر اس کا عملی مظاہرہ بھی کیا گیا ہے۔ مخالفین پراپیگنڈہ کے ذریعے ہمیں بدنام کرنا چاہتے ہیں۔ ہم عمران خان کے ویژن کو کامیاب کرنے کیلئے دن رات ایمانداری کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ اگر کہیں مسئلہ ہے تو اسے بھی دور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ بحران ہے نہیں مگر پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے لہٰذا ناجائز منافع خوروں اور ذخیرہ اندوزوں کے خلاف سخت کارروائی کر رہے ہیں۔ حکومت نے 20 کلو آٹے کی قیمت 808 روپے مقرر کی جبکہ فلور ملز مالکان نے جذبہ خیر سگالی کے تحت اس میں 3 روپے مزید کمی کردی جس کے بعد اب 805 روپے ریٹ مقرر ہے۔ پنجاب میں 482 سیلز پوائنٹس اور 260 ٹرکنگ پوائنٹس ہیں جہاں 790 سے 800 کے درمیان 20 کلو آٹے کا تھیلا فروخت ہورہا ہے۔ آٹے کے ریٹ، معیار اور مقدار کا کوئی مسئلہ نہیں ہے۔وزیراعلیٰ عثمان بزدار خود کاشتکار ہیں لہٰذا ان کی یہ ترجیح ہے کہ کاشتکاروں کے مسائل حل کیے جائیں۔ گنے کے کاشتکاروں کی 4 سے 5 برسوں سے 27 ارب روپے کی خطیر رقم شوگر ملز کی طرف واجب ادا تھی جو پنجاب حکومت اور ہم نے محنت کرکے انہیں دلوائی، اس میں حکومت و اپوزیشن سب کے لوگ شامل تھے۔ گنے کے موسم میں ہم نے 180 روپے من گنے کا ریٹ یقینی بنایا اور کاشتکار کا استحصال کرنے والوں کے خلاف کارروائیاں کی گئیں۔ کانٹے پر کاشتکار کا استحصال کرنے والوں کے خلاف 600 ایف آئی آر درج اور 52لاکھ روپے کے جرمانے جبکہ تول میں کمی کرنے والی شوگر ملوں کو 37 لاکھ روپے کے جرمانے کیے گئے۔ اس سے پہلے کبھی اتنی بڑی تعداد میں جرمانے و سزائیں نہیں ہوئی۔ ایک ایسی شوگر مل جو کاشتکاروں کے پیسے ادا نہیں کر رہی اس کی نیلامی کی جارہی ہے، کسانوں کو ان کی رقم فراہم کی جائے گی۔ گزشتہ برس میں 99.9 فیصد کاشتکاروں کوان کا معاوضہ مل چکا ہے جبکہ رواں سال کی رقم ساتھ ساتھ مل رہی ہیں اور اب تک تقریباََ 85 فیصد کاشتکاروں کو رقم ادا کی جاچکی ہے۔ چینی کی قیمت میں اضافے کی دو وجوہات ہیں۔ ایک یہ کہ ہم نے گنے کے کاشتکار کو 180 روپے کی فراہمی یقینی بنائی ہے جو کہ پہلے نہیں تھی۔ دوسرا یہ کہ حکومت نے 16، 17 فیصد ڈیوٹی لگا دی ہے۔ ا س سے چینی کی قیمت میں اضافہ ہوا۔ حکومت نے چینی کا 70 روپے فی کلو ریٹ طے کیا ہے، اس سے زیادہ فروخت کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے۔ مصنوعی مہنگائی کی کوشش کی جارہی ہے، ہم مہنگائی پر قابو پانے کیلئے ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں،ناجائز منافع خور اور ذخیرہ اندوز مافیا کے ساتھ جنگ آخری مراحل میں داخل ہوچکی ہو۔ حکومت انہیں سخت سزا دینے کیلئے قانون سازی کرنے جارہی ہے، مجسٹریٹ کے نظام کو بھی بحال کیا جا رہا ہے، ہم عوام کو ہر صورت سستی و معیاری اشیائے ضروریہ کی فراہمی یقینی بنائیں گے۔ میرے نزدیک اگر کھیت بچانا ہے تو وہ کوے جو کھیت کو خراب کررہے ہیں ان میں سے کسی ایک کو مار کرلٹکانا ہوگا، صرف اس طرح ہی کھیت بچایا جا سکتا ہے۔ یہ حکومت کرپٹ نہیں ہے ، عوام ہمارا ساتھ دیں، ہم وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں تمام ملکی مسائل حل کریں گے۔

عبدالرؤف مختار (چیئرمین پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن پنجاب )

ملکی تاریخ میں جب بھی گندم سرپلس ہوئی، اسی سال ہی گندم کا مسئلہ پیدا ہوا، 2008ء، 2013ء اور اب 2020ء میں بھی یہی صورتحال ہے۔ موجودہ فصل کی کٹائی سے پہلے گندم سرپلس تھی۔ یہ توقع کی جارہی تھی کہ اس سال گندم کی فصل بہت زیادہ ہوگی مگر جب کٹائی کا وقت آیا تو پورے پنجاب میں بارشیں ہوگئیں جس کی وجہ سے گندم کی فصل متاثر ہوئی۔ رحیم یار خان کے علاوہ پورے پنجاب میں گندم کی فصل کو نقصان پہنچا۔ گوجرانوالہ اورا س سے اوپر کے اضلاع میں گندم زیادہ خراب ہوگئی جبکہ پاکپتن وغیرہ میں کم خراب ہوئی لہٰذا جو تخمینہ لگایا گیا تھا گندم اس سے کم ہوئی مگر اس کے باوجود بھی گندم کا سٹاک کافی تھا۔ محکمہ خوراک پنجاب نے 33 لاکھ ٹن گندم جبکہ فلور ملز مالکان نے 15 لاکھ ٹن گندم محفوظ کی۔ پنجاب میں آٹے کا کوئی بحران نہیں تھا بلکہ یہ مسئلہ سندھ اور خیبرپختونخوا میں پیدا ہوا جس کے بعد پنجاب نے وہاں گندم بھیجی۔ ہم نے جو انڈسٹری لگائی ہے یہ صرف پنجاب نہیں بلکہ پورے پاکستان کیلئے ہے۔رحیم یار خان میں 82 فلور ملز ہیں، ان کا آٹا صرف رحیم یار خان میں نہیں بک سکتا بلکہ بلوچستان، سندھ، خیبر پختونخوا اور افغانستان ہماری مارکیٹ ہیں۔ حکومتی و نجی سطح پر گندم کے حوالے سے جب بھی تخمینہ لگایا جاتا ہے تو اس میں افغانستان کی ضرورت کو بھی شمار کیا جاتا ہے۔ اب حکومت نے افغانستان آٹا بھیجنے پر پابندی لگا دی ہے جس کے بعد یقینا گندم کی صورتحال میں بہتری آئے گی تاہم ہم نے ہمیشہ یہ تجویز دی ہے کہ افغانستان کی مارکیٹ کو بند نہ کیا جائے بلکہ شارٹ فال کے مطابق گندم امپورٹ کرلی جائے۔ پابندی سے ہم اپنی مارکیٹ کھو دیں گے اور وہاں تاجکستان کا آٹا آجائے گا۔ جب پابندی ختم ہوگی تو ہمیں وہاں دوبارہ جگہ بنانے کیلئے محنت کرنی پڑے گی۔ یہی سلسلہ بار بار چلتا ہے کہ ہم محنت کرتے ہیں اور بعد میں پابندی لگا دی جاتی ہے۔ پاکستان کے آٹے کی دنیا میں ڈیمانڈ ہے۔ حکومت یہ شرط عائد کردے کہ اگر ہم 5 ہزار ٹن آٹا افغانستان بھیجیں گے تو اتنی ہی گندم امپورٹ بھی کریں گے۔ یہ دنیا بھر میں ہوتا ہے۔ ہمارے ہمسایہ ملک بھارت نے کبھی اپنی ایکسپورٹ بند نہیں کی، دنیا بھر میںا س کا آٹا موجود ہے مگر خود وہ یوکرائن سے گندم منگوا رہا ہے۔ بھارت یہ تخمینہ لگا لیتا ہے کہ کتنا شارٹ فال ہے اور کتنی امپورٹ کرنی ہے۔ بنگلہ دیشن دس لاکھ ٹن سالانہ امپورٹ کرتا ہے، اسی طرح سری لنکا، عراق و دیگر ممالک بھی امپورٹ کرتے ہیں۔ تحقیق کے ذریعے گندم کی فصل میں اضافہ کیا جاسکتا ہے اور ایک دو برس میں ہی فصل دوگنا کی جاسکی ہے۔ اس حوالے سے بیج والی کمپنیاں بہترین بیج پیدا کر رہی ہیں مگر کسان یہ بیج استعمال نہیں کرتے۔ سندھ کے کسانوں نے جدید بیج استعمال کرکے اپنی فصل کو بہتر کیا ہے۔ ان کی گندم پنجاب سے کوالٹی میں بہتر ہوگئی ہے۔ پنجاب کے کسانوں کو بھی جدید بیج استعمال کرنا ہوں گے۔ خیبر پختونخوا کی 80 فیصد گندم کی ضرورت پنجاب پوری کرتا ہے۔ ہم نے خیبرپختونخوا کو آٹے کے بجائے گندم دے دی، ان کے پاس گندم سے آٹا بنانے کی کپیسٹی نہیں تھی اور دوسرا یہ کہ لوگ جس برانڈ کا آٹا استعمال کرتے ہیں، انہیں وہی چاہیے۔ وہاں کے لوگوں کی ڈیمانڈ آئی کہ پنجاب کا آٹا چاہیے لہٰذا اب 5ہزار ٹن فائن روزانہ خیبر پختونخوا بھیجا جا رہا ہے جس سے کرائسس میں کمی آئی ہے۔ اسی طرح اندرون سندھ اور بلوچستان کی 80 فیصد آٹے یا گندم کی ضرورت  بھی پنجاب پوری کرتا ہے لہٰذا سارا پریشر پنجاب پر آجاتا ہے۔ پنجاب کو آج کے دن تک اس طرح کا شارٹ فال نہیں آیا کہ گندم نہ ہو یا ضرورت کے مطابق آٹا فراہم نہ کر سکیں۔ اس وقت بھی کوئی بحران نہیں ہے۔ روزانہ پونے آٹھ لاکھ کے قریب آٹے کے تھیلے مارکیٹ میں جاتے ہیں۔ 1 لاکھ 40 ہزار تھیلے صرف لاہور میں جاتے ہیں۔15 ہزار ٹرک پوائنٹس ہیں جن سے 40 فیصد آٹا واپس دوکانوں پر چلا جاتا ہے۔ اب جو حالات ہیں ان میں 15 سے 20 دنوں میں بہتری آجائے گی۔مارکیٹ میں آٹا چکی کا تقریباََ 2 فیصد شیئر ہے۔ لوگ فلور ملز کا آٹا زیادہ خریدتے ہیں۔ پہلے فلور ملز 80 کلو آٹے کا تھیلا دوکانوں میں بھیجتی تھی اور لوگ وہاں سے تھورا آٹا خرید لیتے تھے مگر اب ٹرینڈ ختم ہوگیا ہے ، 10 سے 20 کلو کا تھیلا بنایا جاتا ہے اور زیادہ ڈیمانڈ 20 کلو کے تھیلے کی ہے۔ موجودہ حالات میں میری تجویز ہے کہ فلور ملز 80 کلو آٹا کا تھیلا بنا کر دوکانوں پر دے دیں، دکاندار 5 روپے فی کلو منافع کما کر 45 روپے کلو  آٹا فروخت کریں تو آٹے کا مسئلہ فوری حل ہوسکتا ہے۔

عبداللہ ملک (نمائندہ سول سوسائٹی )

بنیادی انسانی حقوق کی فراہمی آئینی طور پر حکومت کی ذمہ داری ہے اور اگر حکومت اپنی غفلت برت رہی ہو تو پھر عدالت حقوق کا تحفظ یقینی بناتی ہے۔ ناجائز منافع خوری اور ذخیرہ اندوزی کے خاتمے کا 1970 ء کے ایکٹ کے مطابق 22 لازمی اشیائے خورونوش کی فراہمی کی ذمہ داری 4 محکموں کو سونپی گئی ہے جس میں محکمہ خوراک، لائیو سٹاک، زراعت اور صنعت شامل ہیں۔ صوبائی حکومتوں کو اپنے اپنے صوبے میں اختیار دیا گیا کہ وہ اس حوالے سے معاملات بہتر کریں۔  مجسٹریٹ کا نظام تو اب نہیں ہے لہٰذا صوبائی حکومتیں ڈی سی اوز کے ذریعے اپنا کردار ادا کرتی ہیں۔ اس کے علاوہ مارکیٹ کا نظام ہوتا ہے جو قیمتوں کا تعین کرنے کا طریقہ کار وضع کرتا ہے۔ ڈی سی اوز کی یہ ذمہ داری ہوتی ہے کہ حکومت کے متعین کردہ نرخوں پر اشیاء کی فراہمی یقینی بنائیں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ ذخیرہ اندوزوں کے خلاف بھی کارروائی کریں۔ ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کارروائی، عوام کو سرکاری ریٹ پر اشیائے خورو نوش کی فراہمی، چیک اینڈ بیلنس اور طلب اور رسد میں توازن قائم کرناحکومت کی ذمہ داری ہے۔اگر طلب کم ہوگئی ہے اور رسد زیادہ ہے یا اس کے الٹ معاملہ ہے تو پھر کیا اقدامات کرنے ہیں، اس حوالے سے بھی حکومتیں کام کرتی ہیں۔ اس 12 کے قریب محکمے موجود ہیں جبکہ تحقیق کے لیے الگ محکمہ قائم ہے۔ یہ محکمہ تحقیق کرتا ہے اور پیشگی معاملات دیکھتا ہے، کسانوں کے ساتھ رابطہ کرتا ہے تاکہ فصل کی کمی نہ ہو۔ہم نے مہنگائی کے خلاف رٹ دائر کر رکھی ہے، اس حوالے سے عدالتی حکم پر سابق کمشنر و افسران کے ساتھ درجنوں میٹنگز ہوئیں، بعدازاں کمشنر تبدیل ہوگئے تو یہ معاملہ رک گیا۔ ان میٹنگز کے دوران ہمیں معلوم ہوا کہ اداروں کے درمیان کوئی ربط نہیں ہے جس کی وجہ سے مسائل سنگین شکل اختیار کر لیتے ہیں، اگر ابتداء میں ہی بہتر کووارڈی نیشن سے مسائل حل کیے جائیں تو مشکلات سے بچا جاسکتا ہے۔رمضان میں لیموں کی قلت ہوگئی تھی، اس وقت وجہ یہ بتائی گئی کہ سندھ کی فصل میں تاخیر ہوئی۔ اگر سندھ کی فصل میں کوئی مسئلہ تھا تو اسے دور کرنا اور لوگوں تک لیموں پہنچانا کس کی ذمہ داری تھی؟ بعد میں ایران سے لیموں منگوائے گئے اور تب تک قیمت 300 سے زائد ہوچکی تھی۔ یہی حال ٹماٹر کے ساتھ ہوا۔ جب بھی بحران آتا ہے تو حکومت حیلے بہانے کرتی ہے۔ اب بھی گندم کا بحران ہوا ہے اور حکومت کی روش یہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ گندم کی کمی تھی تو ایکسپورٹ کیوں کی گئی۔ اس کا مطلب ہے کہ حکومت نے اعداد و شمار اکٹھے نہیں کیے کہ آنے والے دنوں میں کتنے افراد کو کتنی گندم درکار ہوگی۔ اگر اب بھی اعداد و شمار منگوا ئیں تو پاسکو اور  محکمہ خوارک کہے گا کہ گندم سرپلس ہے۔ ملک بھر کی فلور ملز کے اعداد و شمار منگوائے جائیں تو یہ اعداد و شمار حکومتی اعداد و شمار سے مختلف ہوںگے۔ سوال یہ ہے کہ گندم کے حوالے سے کوتاہی کا ذمہ دار کون ہے؟ اصلاحات اور موثر اقدامات نہ ہونے کی وجہ سے زمینوں میں کٹاؤ ہورہا ہے۔ آبادی میں اضافہ ہورہا ہے جبکہ فصلوں میں کمی آرہی ہے۔ گنا، چاول و دیگر فصلیں پہلے سے کم ہوئی ہیں۔ پہلے لاہور کے اردگرد علاقوں سے ہی لاہور کیلئے سبزیاں و دیگر اجناس مل جاتی تھیں مگر اب شہری آبادی بڑھنے، زمینی کٹاؤ اور ہاؤسنگ سوسائٹیز کی وجہ سے زرعی زمین تیزی سے ختم ہوتی جارہی ہے۔ اس کو روکنے کیلئے حکومتوں نے کوئی اقدامات نہیں کیے۔آج بھی اس حوالے سے کوئی منصوبہ بندی نہیں کی گئی۔ پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ سے 15 برس کی منصوبہ بندی پوچھیں تو انہیں کچھ معلوم نہیں ہوگا کیونکہ مستقبل کی کوئی منصوبہ بندی ہی نہیں کی گئی۔ مہنگائی میں اضافہ کی ایک وجہ ذخیرہ اندوزی بھی ہے۔ ذخیرہ کرنے سے مارکیٹ میں طلب بڑھ جاتی ہے جس سے قیمت میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ اس کا نقصان عوام کو ہوتا ہے اور فائدہ مافیا کو۔ مہنگائی میںا ضافہ، اجناس کی کمی، پانی کا مسئلہ، زمینی کٹاؤ کے حوالے سے پارلیمان میں سنجیدہ بحث کی جائے، سٹینڈنگ کمیٹیوں کو بااختیار بنایا جائے اور ان تمام مسائل کا مستقل حل نکالا جائے۔آٹا امپورٹ کرنے کی بات ہورہی ہے، جب تک یہ گندم پاکستان پہنچے گی تب تک تو ملک میں گندم کی کٹائی شروع ہوجائے گی۔ آٹے کے مسئلے پر فلورملز کو بند کرنا درست نہیں، اس سے مزید بحران پیدا ہوگا، اس کے بجائے عوام کو سرکاری ریٹ پر آٹے کی فراہمی یقینی بنانے کیلئے میکانزم بنایا جائے۔

عبدالرحمن (جنرل سیکرٹری لاہور آٹا چکی اونرز ایسوسی ایشن )

آٹا بحران سے چکی مالکان کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ ہمارا تعلق عوام  سے ہے، اشرافیہ سے نہیں لہٰذا ہم تو خود اس مہنگائی کا شکار ہیںجس سے پوری قوم متاثر ہے۔ شدید مہنگائی، بجلی کے بل میں اضافہ، ٹرانسپورٹ کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور مہنگی گندم ملنے کی وجہ سے آٹے کے ریٹ میں اضافہ ہوا۔ مارکیٹ میں جیسے ہی استحکام آئے گا اور ہمیں گندم سستی ملے گی تو قیمت میں خود بخود کمی آجائے گی۔ ہم تو پہلے ہی اپنے منافع میں سے قربانی دے رہے ہیں ورنہ قیمت تو اس سے بھی زیادہ ہوتی۔ ہم نے قیمت میں اضافہ کا اعلان کرکے مسائل کی جانب حکومت کی توجہ دلوائی ہے، اب سب کو معلوم ہوا ہے کہ گندم، بجلی، ٹرانسپورٹ و دیگر اخراجات میں اضافے سے کون کون متاثر ہورہا ہے۔ موجودہ بحران میں عوامی مفاد کو مد نظر رکھتے ہوئے ہم نے گزشتہ دنوں آٹے کی قیمت میں 2روپے فی کلوکمی کا اعلان کیا تھا، جیسے ہی مارکیٹ میں گندم کی قیمت کم ہوگی ، یہ ریٹ بھی مزید کم ہوجائے گا۔موجودہ بحران کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ سرپلس گندم افغانستان بھیج دی گئی، اگر ایسا نہ ہوتا تو نہ یہ بحران ہوتا اور نہ ہی حکومت کو گندم امپورٹ کرنا پڑتی۔ ہم عوام کو سہولت دینے کے لیے کام کر رہے ہیں، حکومت کے ساتھ بھی بات چیت جاری ہے لہٰذا 10 سے 15 دنوں میں آٹے کے بحران کا مسئلہ حل ہوجائے گا۔ حکومت ہمیں روزانہ 5 بوری گندم فراہم کرنے کا کہہ رہی ہے جس سے معاملات زندگی چلانا ممکن نہیں ہے۔ ایک اور بات قابل ذکر ہے کہ زیادہ تر چکی مالکان غریب ہیں اور وہ ادھار گندم لیتے ہیں اور بعد میں اس کی قیمت ادا کرتے ہیں۔ اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے ہمارا مطالبہ ہے کہ حکومت ہمیں روزانہ 500 کلو سستی گندم ادھار فراہم کرے، ہم سرکاری ریٹ پر سستے آٹے کی فروخت فوری طور پر یقینی بنائیں گے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔