ووہان وائرس... چین سے بحرانوں میں لڑنا بھی سیکھ لیجیے!

کامران امین  منگل 28 جنوری 2020
ووہان وائرس کے خلاف چینی حکومت نے جس تیزی سے صائب اقدامات کیے وہ قابل تقلید ہے۔ (انٹرنیٹ)

ووہان وائرس کے خلاف چینی حکومت نے جس تیزی سے صائب اقدامات کیے وہ قابل تقلید ہے۔ (انٹرنیٹ)

یہ سال 2019 کے آخری دن تھے۔ سینٹرل چائنا کے اہم شہر میں کچھ مریض اسپتال میں چیک اپ کےلیے لائے گئے جنہیں معمولی بخار کی شکایت تھی۔ انہیں کچھ ضروری ٹیسٹوں کے بعد بخار کی دوا دے کر گھر بھیج دیا گیا لیکن مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی۔ جلد ہی ان مریضوں کو سانس لینے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور کھانا پینا بھی دشوار ہوگیا۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ بخار بڑھتا رہا۔ انہیں دوبارہ اسپتال لایا گیا لیکن معمول کے ٹیسٹوں میں کوئی ایسی بات نظر نہ آئی جسے خطرے کی علامت سمجھا جاتا۔ ڈاکٹر بھی پریشان تھے کہ آخر یہ کیا ہو رہا ہے؟ جنوری کے پہلے ہفتے میں ڈاکٹروں نے عوام کےلیے ایک وارننگ جاری کی جس میں بتایا گیا کہ ووہان میں نمونیا کی طرح کا ایک مرض پھیل رہا ہے جس کی وجوہ تاحال نامعلوم ہیں۔ اسی عرصے میں مریضوں سے لی جانے والی معلومات سے معلوم ہوا کہ ان سب کا تعلق کسی نہ کسی طرح نزدیک ہی واقع ایک منڈی سے تھا جہاں سمندری جانور فروخت ہوتے ہیں۔ علاوہ ازیں، اسی مارکیٹ میں بہت سارے جنگلی جانور بھی فروخت کیے جا رہے تھے۔ حکام نے مارکیٹ بند کرکے وہاں فوراً ہی اسپرے کردیا۔

بالآخر 9 جنوری کو ڈاکٹروں کی ایک ٹیم نے اعلان کیا کہ انہوں نے ’’سارس‘‘ (SARS) کے خاندان سے تعلق رکھنے والا، ایک نئی طرح کا وائرس دریافت کیا ہے جو اس عجیب و غریب نمونیا کی وجہ بن رہا ہے۔ 9 سے 13 جنوری تک حکام کے پاس کوئی اور نیا کیس رپورٹ نہیں ہوا جس سے یہ سمجھ لیا گیا کہ شاید یہ وائرس مزید پھیلنے کی صلاحیت نہیں رکھتا اور ابتدائی طور پر جو لوگ متاثر ہوئے، ہوگئے؛ اب خطرے والی بات نہیں۔ یہ خاموشی ایک بڑے طوفان کا پیش خیمہ ثابت ہوئی اور 15 جنوری کے بعد پوری دنیا میں اس نئی قسم کے نمونیا سے متاثرہ مریض سامنے آنا شروع ہو گئے جن سب کا تعلق کہیں نہ کہیں ووہان اور ووہان کی سی فوڈ مارکیٹ سے تھا۔

تب سے اب تک کی معلومات کے مطابق یہ کورونا وائرس کے خاندان سے تعلق رکھنے والا ایک نئی قسم کا وائرس ہے جو اپنے پیش رو سارس سے بھی مختلف ہے اور اس سے زیادہ تیزی کے ساتھ تبدیل ہونے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔ اس وقت جبکہ میں یہ سطریں لکھ رہا ہوں، حکام کے مطابق پورے چین میں اس وائرس سے متاثر ہونے والے 2761 مریض سامنے آچکے ہیں۔ اس خوفناک وائرس کی وجہ سے کم از کم 80 اموات ہوچکی ہیں اور کم از کم ایک ارب لوگ اس وقت چائنا میں صحت کی ایمرجنسی کی طرح کی صورتحال کا سامنا کررہے ہیں۔ چائنا کے 33 میں سے 30 صوبوں میں ہیلتھ ایمرجنسی نافذ کرکے تمام اسپتالوں کو ہائی الرٹ کردیا ہے اور دنیا بھر میں اس وقت 13 مختلف ملکوں میں اس وائرس سے متاثرہ 33 نئے کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں۔

زیرِ نظر بلاگ میں ہم دیکھیں گے کہ اب تک چینی حکومت کی طرف سے اس وبا سے نمٹنے کےلیے کیا خصوصی اقدامات کیے گئے ہیں اور بحیثیت پاکستانی اس میں ہمارے سیکھنے کا کیا مواد ہے۔

 

یاد رکھنے کی باتیں

اس سے پہلے یہ بنیادی باتیں ذہن نشین کرلیجیے کہ وائرس، جراثیم سے بہت مختلف ساخت رکھتا ہے اور اس بنا پر یہ بحث بھی جاری رہتی ہے کہ آیا وائرس کو جاندار تسلیم کیا جائے یا بے جان، کیوں کہ یہ برسوں تک ناموافق حالات میں بے جان کی طرح پڑا رہتا ہے اور جوں ہی اسے موافق حالات ملتے ہیں، یہ اپنا کام شروع کردیتا ہے۔ اسی طرح بیکٹیریا کی طرح وائرسز کو کسی ایسے کیمیکل یا کیمیائی طریقے سے مارا بھی نہیں جا سکتا جو انسانوں کےلیے بھی محفوظ ہو، یعنی اس کےلیے کوئی اینٹی بایوٹک دوا بھی دستیاب نہیں لہٰذا وائرسز سے پھیلنے والی بیماریوں میں زیادہ تر ویکسینز دی جاتی ہیں جن کا بنیادی کام یہ ہوتا ہے کہ وہ انسانی جسم کے مدافعتی نظام کو اتنا مضبوط بناسکیں کہ وہ اس بیرونی حملہ آور کو شکست دے سکے۔

کسی نئے وائرس کی دریافت کی صورت میں نئے سرے سے اس کے خلاف ویکسین بنانا پڑتی ہے۔ یہ ایک لمبا اور محنت طلب کام ہے۔ اسی طرح چائنا میں آج کل ان کی عید کے دن ہیں۔ نئے سال کی آمد پر یہ ویسے ہی تہوار مناتے ہیں جیسے ہمارے ہاں عید الفطر کا تہوار منایا جاتا ہے۔

اس سارے عمل کے دوران، ایک اندازے کے مطابق، 70 کروڑ لوگ ملک کے مختلف علاقوں سے اپنے اپنے آبائی علاقوں کی طرف سفر اختیار کرتے ہیں۔ ووہان شہر کے میئر کے مطابق صرف 9 جنوری سے لے کر 20 جنوری تک (یعنی جب تک یہ پتا لگایا جاتا کہ یہ وائرس ایک انسان سے دوسرے انسان میں بھی منتقل ہوسکتا ہے) تقریباً 50 لاکھ لوگ ووہان شہر سے دوسرے شہروں یا ممالک کی طرف روانہ ہوچکے تھے۔ اس سے آپ اندازہ لگا لیجیے کہ اس کا پھیلاؤ کتنی تیزی سے ہوا ہوگا۔ 20 جنوری کو جب یہ بات مصدقہ طور پر معلوم ہوگئی کہ وائرس انسانوں سے انسانوں میں منتقل ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے، بلکہ یہ جینیاتی طور پر تبدیل بھی ہوسکتا ہے، تو اس کے بعد سے چینی حکومت نے مسئلے کی سنگینی کا اندازہ کرتے ہوئے انتہائی تیزی سے کچھ اقدامات کیے جن میں کچھ اہم چیزوں کا یہاں ذکر کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔

 

حکومتی اقدامات

سب سے پہلے تو 9 جنوری کے بعد سے وائرس پر ہونے والی تحقیق اور اس سے متعلق تمام معاملات کو عوام کے سامنے رکھا جا رہا ہے اور وقتاً فوقتاً ضروری ہدایات بھی شیئر کی جاتی رہی ہیں۔ 23 جنوری سے ووہان شہر سے باہر جانے اور شہر میں باہر سے داخل ہونے پر مکمل پابندی لگا دی گئی تاکہ وائرس سے متاثرہ افراد کو دوسرے علاقوں میں جانے سے روکا جاسکے۔ لیکن جیسا کہ پہلے بتایا جاچکا ہے، اس سے پہلے ہی بہت بڑی تعداد میں لوگ نئے سال کی چھٹیوں کی خوشی میں اپنے اپنے گھروں کو روانہ ہوچکے تھے۔ اس کے فوراً بعد ووہان شہر کے اندر بھی ٹریفک پر پابندی لگا دی گئی تاکہ لوگوں کا آپس میں رابطہ کم سے کم ہو۔ ووہان کی دیکھا دیکھی جلد ہی کچھ دوسرے شہروں نے بھی شہر کے داخلی اور خارجی راستوں کو کنٹرول کرنا شروع کردیا گیا، اور جو شہر متاثر ہو رہے تھے وہاں نئے سال کی تقریبات پر بھی پابندی لگا دی گئی۔ 24 جنوری تک چائنا کے 7 بڑے شہروں میں ہیلتھ ایمرجنسی نافذ کی جاچکی تھی۔ نئے سال کی تقریبات منسوخ تھیں، ایک شہر سے دوسرے شہر تک چلنے والی بس سروسز تک بند کردی گئیں۔

اس کے ساتھ ٹرین اسٹیشنوں اور ایئرپورٹس پر خصوصی کاؤنٹر بنائے گئے جہاں بورڈنگ سے پہلے تمام مسافروں کا درجہ حرارت چیک کیا جاتا اور بخار کی صور ت میں متاثرہ مسافر کو فوری طور پر اسپتال منتقل کر دیا جاتا۔ کچھ شہروں میں اگر کوئی متاثرہ مریض پایا گیا تو مقامی حکومتوں نے فوراً ہی ان تمام مقامات کے بارے میں معلومات بھی شیئر کردیں کہ جہاں جہاں وہ گیا تھا، تاکہ اگر کچھ لوگ اس کے ساتھ ہوئے ہوں تو احتیاطاً اپنا چیک اپ کروائیں۔ مثلاً اگر ایک فرد ’’اے‘‘ کورونا وائرس سے متاثر پایا گیا اور دن کو وہی فرد ’’اے‘‘ صبح 11:30 پر بس نمبر 34 پر سفر کررہا تھا، تو شہریوں سے یہ بات فوری شیئر کردی گئی تاکہ اس کے ساتھ بس میں سفر کرنے والے لوگ فوراً علاج کرواسکیں۔

ایک اور بہت اہم بات یہ تھی کہ جوں جوں معلومات ملتی جارہی تھیں، انہیں چینی عوام کے ساتھ شیئر کیا جارہا تھا۔ پبلک سروس میسجز فوراً ہی ہر طرف پھیلا دیئے گئے جن میں اس طرح کی بنیادی معلومات تھیں کہ وائرس سے کس طرح بچا جا سکتا ہے اور خدانخواستہ اگر کوئی وائرس سے متاثر ہوگیا ہے تو وہ کیا کرے۔ اس طرح کے پیغامات وقتاً فوقتاً اعلیٰ حکومتی عہدیداروں اور مشہور سائنسدانوں کی طرف سے مسلسل اور ابھی تک شیئر کیے جا رہے ہیں۔

کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کا اجلاس بلایا گیا اور چینی وزیراعظم کو ایک ’’عملدرآمد کمیشن‘‘ کا سربراہ بنا کر ووہان بھیج دیا گیا جہاں وہ بذات خود اس سارے عمل کی نگرانے کر رہے ہیں۔

اسی طرح فوری طور نئے سال کی چھٹیوں کو بڑھا دیا گیا ہے اور یونیورسٹیاں، اسکولز اور کالجز اپنے طلباء کو یہ ہدایات جاری کررہے ہیں کہ وہ اگلے کسی حتمی نوٹس تک درسگاہ میں ہرگز واپس نہ آئیں۔

بخار چیک کرنے کے انتظامات حکومت کی طرف سے جگہ جگہ کیے گئے ہیں۔ یونیورسٹیوں میں، ہاسٹلز میں، شاپنگ مالز میں؛ اور دن میں کئی کئی مرتبہ چیک کیا جارہا ہے۔ متاثرہ مریضوں کےلیے ہر طرح کی سہولتیں بالکل مفت دستیاب ہیں۔

ایک اور دلچسپ بات یہ ہے کہ پہلے چینی حکومت کی طرف سے صرف چھ دن میں ایک ہزار بستروں پر مشتمل نئے اسپتال کی تعمیر کا اعلان کیا گیا تھا لیکن پھر مریضوں کی تعداد کو دیکھتے ہوئی 10 دنوں کے اندر 1300 بستروں پر مشتمل ایک اور اسپتال کی تعمیر کا اعلان کیا گیا ہے۔ پہلا اسپتال 2 فروری اور دوسرا اسپتال 5 فروری سے کورونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کےلیے کھول دیئے جائیں گے اور ابھی دن رات وہاں کام جاری ہے۔

اسی طرح صرف 2 دن کے اندر ایک میڈیکل لیبارٹری سیٹ کردی گئی جہاں ایک دن میں 200 سیمپلز ٹیسٹ کرنے کی سہولت دستیاب ہے۔ یہ بات ذہن نشین رہے کہ ایک سیمپل ٹیسٹ کرنے میں تقریباً چھ گھنٹے درکار ہیں۔

اس کے ساتھ سینئر سائنسدانوں پر مشتمل ایک بورڈ، جس میں ملکی اور غیرملکی انتہائی قابل ماہرین وائرس شامل ہیں، ترتیب دیا گیا جنہوں نے تحقیق کا کام شروع کردیا۔ اب تک کی اطلاعات کے مطابق لیبارٹری میں اس وائرس کو الگ کر دیا گیا ہے جس سے اس کی ویکسین بنانے میں بہت مدد ملے گی۔ اس بات کا اظہار کیا جارہا ہے کہ ایک مہینے کے اندر اس کی ویکسین مریضوں کےلیے دستیاب ہوگی۔

 

عوامی اقدامات

سب سے اہم چیز جس نے مجھے متاثر کیا وہ یہ تھی کہ کس طرح چینی عوام نے اپنی حکومت اور متعلقہ اداروں کی طرف سے دی جانے والی ہدایات پر بلا چوں و چرا، سختی سے عمل کرنا شروع کر دیا۔ محلہ کمیٹیاں بن گئیں جنہوں نے باہر کے افراد کا محلے میں داخلہ بند کردیا۔ یہ خبریں پھیلیں کہ حفاظتی ماسک کم پڑ گئے ہیں تو کمپینیوں کے عملے نے خوشی خوشی اپنی چھٹیاں ختم کرکے 24 گھنٹے کام کا آغاز کردیا۔ علی بابا جیسی بڑی کمپنیوں نے ماسک مفت بانٹنے شروع کردیئے اور کچھ ڈاکٹروں کے حوالے سے یہ خبر یہاں میڈیا پر چل رہی تھی کہ وقت کی قلت کے پیش نظر انہوں نے ڈائپرز پہننا شروع کردیئے ہیں تاکہ بار بار انہیں رفع حاجت کےلیے نہ جانا پڑے اور وہ ایک ہی حفاظتی سوٹ میں دیر تک کام کرسکیں۔

ہفتے کی شام تک چینی عوام نے تقریباً 20 ملین امریکی ڈالرز جتنی رقم حکومت کو ڈونیشن کی مد میں مرض سے مقابلہ کرنے کی غرض سے فراہم کی اور اس کے ساتھ ساتھ کم از کم 18 لاکھ حفاظتی سوٹ بھی ووہان کے اداروں کو فراہم کیے گئے۔

 

میڈیا کا رویہ

سب سے بڑھ کر متاثر کرنے والی چیز یہاں کے میڈیا کا رویہ رہا۔ انتہائی ذمے داری سے خبریں رپورٹ کیں۔ حکومت اور صحت سے متعلق اداروں کی طرف سے جاری ہونے والے حفاظتی اقدامات کا بار بار اعلان کیا گیا۔ ہرگز سنسنی پھیلانے کی کوشش کی گئی نہ مرنے والوں کی دردناک کہانیاں بیان کرکے خوف و ہراس پھیلایا گیا؛ نہ ہی اسپتالوں میں رش جیسے مناظر براہ راست دکھا کر لوگوں کو مزید پریشان کیا گیا۔ اس کے برعکس انتہائی امید بھری خبریں، مثبت حکومتی اقدامات اور حفاظتی اقدامات پر توجہ دی گئی۔ وائرس کے خلاف لڑنے والے عملے کی قربانیوں کو نمایاں کیا گیا۔ لاک ڈاؤن کی وجہ سے ہونے والے معاشی نقصان اور لوگوں کو درپیش مسائل کا بھی ذکر کیا گیا لیکن اسے چینی عوام کی بہادری کی ایک مثال کے طور پر پیش کیا گیا۔

مثلاً ایک خبر تھی کہ گو کہ لاک ڈاؤن سے شہر کی معیشت کو نقصان پہنچا ہے لیکن بڑے فائدے کےلیے بہادر چینی عوام کو اس معمولی نقصان کی بالکل پرواہ نہیں اور چینی عوام اس طرح کی قربانیوں کےلیے ہمہ وقت تیار ہیں۔ اسی طرح کسی قسم کی افواہیں شیئر نہیں کی گئیں بلکہ ان کا قلع قمع کرنے کے اقدامات کیے گئے۔ یہاں تک کہ پاکستانی میڈیا میں یہ خبریں نشر کی گئیں کہ شاید یہ وائرس امریکیوں نے بنا کر چھوڑا لیکن چینی عوام اور متعقلہ ادارے اس قسم کی افواہوں سے دور اپنے کام پر توجہ کیے ہوئے ہیں۔ ان کے میڈیا نے بھی ایسی خبروں کو گھاس نہیں ڈالی۔

 

ایک غلط فہمی کا ازالہ

کل سے پاکستانی میڈیا پر ووہان میں موجود پاکستانی طلباء کی ایک ویڈیو چل رہی جس میں وہ بتارہے ہیں کہ ہم یہاں پھنس گئے ہیں اور ہمیں یہاں کھانے کو نہیں مل رہا وغیرہ۔ یوں سمجھ لیجیے کہ یہ ہمارے کچھ نادان دوست تھے جو بہت جلدی ڈر گئے۔ ان کی اکثریت ان طلباء پر مشتمل تھی جو نئے نئے چائنا آئے تھے اور اس سے پہلے انہوں نے کبھی چینی نئے سال کی تقریبات میں شہروں کو ویران ہوتے نہیں دیکھا تھا۔

اس کے ساتھ ایمرجنسی میں چینی حکام نے جو فیصلے کیے، ایک دم شہر بند کرنا شروع کردیئے تاکہ وائرس کو مزید دوسرے علاقوں میں پھیلنے سے روکا جا سکے تو طلباء میں سراسیمگی اور بے چینی پھیل گئی۔ اسی گھبراہٹ میں انہوں نے سوچا کہ پتا نہیں ہم گھر جا سکیں گے یا نہیں، تو ایک ویڈیو ریکارڈ کرکے سوشل میڈیا پر چڑھا دی جس نے نہ صرف ہمارے والدین کو پریشان کیا بلکہ اسلام آباد میں چینی سفارت خانے کو بھی اس پر بیان دینا پڑا۔

میں اگلے دن سوکر اٹھا تو یہ سارا ماجرا معلوم ہوا۔ ہم نے ووہان میں موجود ذمے دار اور سینئر پاکستانی طلبا سے رابطہ کیا۔ اسی طرح پاکستانی سفارت خانے کے متعلقہ حضرات سے بھی بات ہوئی تو معلوم ہوا کہ یہ صرف جھوٹ تراشا گیا۔ الحمدللہ کھانے پینے کی چیزوں کا کوئی مسئلہ نہیں۔ 27 جنوری سے اسٹوڈنٹ ڈورمیٹوریز، ہاسٹل میں طلباء کو کھانا مفت فراہم کیا جا رہا ہے۔ ویسے بھی زیادہ تر پاکستانی طلباء، چینی کھانا پسند نہیں کرتے اپنا کھانا خود بناتے ہیں۔ مارکیٹیں کھلی ہیں جہاں سے اشیائے ضرورت حسب معمول خریدی جاسکتی ہیں۔ یہاں تک کہ کسی چیز کی قیمت بھی فی الحال نہیں بڑھی۔

ہاں! یہ بات ضرور ہے کہ حفاظتی اقدامات کے پیش نظر سب کو ہدایت کی گئی ہے کہ زیادہ باہر نہ جائیں، لوگوں سے تعلق کم سے کم رکھیں اور شہر سے باہر جانا تو بالکل ہی منع ہے ۔ اسی طرح کسی قسم کی کمیونیکشن کا کوئی مسئلہ نہیں۔ فون چل رہا اور انٹرنیٹ چل رہا ہے۔

ان طلبا سے ہماری بات ہوئی۔ کچھ اپنی حرکت پر شرمندہ تھے لیکن تیر، کمان سے نکل چکا تھا اور ہمارا میڈیا جلتی پر تیل ڈالنے کا ماہر ہے۔ انتہائی افسوس کی بات ہے کہ کسی بھی میڈیا چینل نے وہاں موجود کسی بھی ذمے دار سے بات کرنے کی کوشش نہیں کی حالانکہ آج کے دور میں یہ بہت آسان کام تھا۔ وہاں انسٹی ٹیوٹ آف وائرولوجی میں ہمارے پاکستانی طالب علم موجود ہیں۔ بہت سینئر دوست جو آٹھ آٹھ سال وہاں رہے، وہ لوگ ذمے داری سے بات کرنے کو تیار ہیں۔

 

ہمارے لیے سیکھنے کا سبق

سب سے پہلے تو ہمارے لیے یہ بات انتہائی متاثر کن ہے کہ کس تیزی اور سرعت کے ساتھ چینی حکومت نے اقدامات کیے اور کس طرح عوام اور میڈیا نے شور شرابہ کیے بغیر ساتھ دیا۔ ابتدائی طور پر اسے ہلکا لیا گیا جس کا کچھ نقصان بھی اٹھانا پڑا لیکن خطرے کا اندازہ ہوتے ہی اتنی تیزی کے ساتھ اقدامات کیے گئے کہ ایک لمحے کو محسوس ہوا کسی خوفناک خطرناک دشمن نے حملہ کر دیا ہو اور پوری قوم حالت جنگ میں چلی گئی ہو۔ ہمارے ہاں ایک ہفتہ تو سوچنے میں لگ جاتا ہے کہ کیا کریں۔ انہوں نے 6 دن میں 1000 بستروں کا ایک نیا اسپتال بنانے کا اعلان کردیا۔ اس سے پہلے یہ بیجنگ میں 2003 میں سات دن میں 700 بستروں کا نیا اسپتال بنانے کا ریکارڈ بناچکے ہیں۔

پھر حکومت نے اجلاس پر اجلاس بلانے کے بجائے اپنے تمام دستیاب وسائل فوری اقدامات پر لگادیئے۔ ملک کے باقی علاقوں سے اضافی ڈاکٹر اور ماہرین بلا لیے گئے۔ نئی لیبارٹریاں فوری طور پر قائم کرلی گئیں۔ اس کی ایک وجہ یہاں کی مقامی حکومتوں کا خاصی حد تک بااختیا ر ہونا بھی ہے۔ لیکن میں جب ڈینگی کی صورتحال کا موازنہ کرتا ہوں تو سوچتا ہوں کہ خدانخواستہ کہیں ایسا کچھ پاکستان میں ہو گیا تو کیا ہمارے پاس اتنی صلاحیت ہے کہ ہم نمٹ سکیں؟ کیا ہم تیار ہیں؟

ابھی میں یہ سطور لکھ رہا ہوں اور اسکرین پر چلنے والی خبروں کے مطابق 5 مشکوک افراد کے سیمپل پاکستان سے ہانگ کانگ بھجوائے گئے ہیں۔ ہمارے پاس تو اس طرح کے وائرس ٹیسٹ کرنے کی لیبارٹریاں بھی نہیں۔

اسی طرح حکومتی اقدامات کی وجہ سے شہریوں کو بہت پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا، لوگ گھروں میں بند ہو گئے لیکن اس سب کے باوجود کیا مجال ہے کہ کہیں سے چوں و چرا کی آوازیں آئی ہوں۔ لوگوں نے خوشی خوشی ان پریشانیوں کو قبول کیا اور سوشل میڈیا پر بھی حکومتی اقدامات کی تعریف اور حمایت میں چیزیں شیئر کی گئیں۔ لوگوں نے حکومت کی طرف سے امداد کی اپیل سے پہلے ہی اپنی طرف سے خود امداد بھیجنا شروع کر دی تھی۔ اسی طرح بجائے وائرس کا رونا رونے کے، ٹی وی پر باقی تفریحی اور تعلیمی پروگرام بدستور دکھائے جاتے رہے۔ ایک لمحے کےلیے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے کچھ ہوا ہی نہیں؛ یہ لوگ اس کو اتنا نارمل لے رہے ہیں۔

اس کے برعکس ہمارے یہاں پاکستان میں لوگوں کا رویہ بہت مایوس کن ہوتا ہے۔ یہاں پر بھی کچھ پاکستانیوں نے انتہائی مایوس کن رویہ اختیار کرتے ہوئے انتہائی جھوٹے پیغامات پر مشتمل ویڈیوز ریکارڈ کرکے پاکستانی نیوز چینلز کو بھیجیں جن میں کہا گیا کہ ہمیں کھانا نہیں مل رہا۔ یہ سب جھوٹ اور افواہیں ہمارے کچھ لوگ پھیلاتے رہے۔

چینی میڈیا نے انتہائی ذمے داری کا مظاہرہ کیا۔ ذمے داری سے خبریں نشر کیں افراتفری پھیلانے سے گریز کیا گیا اور انتہائی مستند ماہرین سے پوچھ کر مرتب کیے گئے مشورے اور ہدایات مسلسل ناظرین سے شیئر کیے جاتے رہے۔

بحرانوں سے کس طرح نمٹا جاتا ہے، وبائی صورتحال کا سامنا کیسے کریں، لوگوں کو مضبوط کیسے بنائیں۔ کم از کم یہ اس موقع پر چینی عوام سے ضرور سیکھا جانا چاہیے۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 1,000 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

کامران امین

کامران امین

بلاگر کا تعلق باغ، آزاد کشمیر سے ہے۔ آج کل چائنا میں نینو سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں چائنیز اکیڈمی آف سائنسز، بیجنگ سے کیس ٹواس فیلوشپ پر پی ایچ ڈی کر رہے ہیں۔ آپ نیشنل سینٹر فار نینو سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (این سی این ایس ٹی)، بیجنگ میں انٹرنیشنل اسٹوڈنٹس یونین کے صدر ہیں جبکہ اسی ادارے میں انٹرنیشنل اسٹوڈنٹس ڈیپارٹمنٹ میں ایجوکیشن ڈائریکٹر کے معاون کی اضافی ذمہ داریاں بھی نباہ رہے ہیں۔ ان سب کے علاوہ آپ این سی این ایس ٹی میں ڈیویلپمنٹ کمیٹی فار گریجویٹ اسٹوڈنٹس کے نائب صدر بھی ہیں۔ آپ چائنا میں تعلیم اور سماجی زندگی سے وابستہ مسائل پر لکھتے ہیں اور گزشتہ تین سال سے پاکستانی طالب علموں کی چائنا میں اسکالرشپس کے حصول میں رہنمائی کر رہے ہیں۔ ان سے فیس بُک آئی ڈی ka.amin.1848 پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔