ایک بار پھر فوجی طاقت بننے کا خواب: جاپان متحرک ہوگیا

محمد اختر  اتوار 17 نومبر 2013
جاپانی سمجھتے ہیں کہ معاشی ترقی بہت کرلی، اب خطرات کا مقابلہ کرنے کیلئے فوجی قوت بڑھانا ہوگی فوٹو : فائل

جاپانی سمجھتے ہیں کہ معاشی ترقی بہت کرلی، اب خطرات کا مقابلہ کرنے کیلئے فوجی قوت بڑھانا ہوگی فوٹو : فائل

دوسری جنگ عظیم تک جاپان ایک بڑی طاقت (معاشی اور فوجی) تھا اور گھمسان کی جنگ کے دوران مختلف ملکوں کو فتح کرتا ہوا تیزی سے آگے کی طرف پیش قدمی کررہا تھا ۔

اس کی بڑھتی ہوئی فوجی طاقت نہ صرف امریکا اور برطانیہ بلکہ دیگر تمام سامراجی ملکوں کے لیے بھی خطرہ بن چکی تھی۔خدشہ تھا کہ جلد جاپان برطانیہ سے اس کی سب سے بڑی کالونی یعنی برصغیر کو چھین لے گا لیکن بحرالکاہل میں واقع امریکی عمل داری کے حامل جزیرے ہوائی پر جاپانی حملے کے بعد امریکا بھی جنگ میں کود پڑا اور اس نے سفاکی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دوجاپانی شہروں ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹم بم گراکر جاپان کی کمر توڑ دی۔ ا س حملے میں نہ صرف لاکھوں بے گناہ جاپانی شہری مارے گئے بلکہ جاپان نے ہتھیار ڈال دیئے اور دوسری جنگ عظیم اپنے اختتام کو پہنچ گئی۔

اس کے بعد جو کچھ ہوا وہ حالیہ تاریخ کا حصہ ہے۔امریکا نے جاپان پرقبضہ کرلیا اور ایک معاہدے کے تحت جاپان کے دفاع کی زمہ داری اپنے ہاتھ میں لے لی۔معاہدے کے تحت جاپان کو قومی فوج یا ہتھیار رکھنے کے حق سے محروم کردیا گیا۔تاہم اسے معاشی میدان میں ترقی کی بھرپور آزادی دی گئی۔جاپانی قوم نے اس موقع سے فائدہ اٹھایا اور صنعتی اور معاشی میدان میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا دنیا سے منوالیا۔جاپان اپنی پرامن معاشی اور صنعتی ترقی کے ذریعے دنیا کی دوسری سب سے بڑی معیشت بن گیا۔ لیکن اب دنیا کی دوسری بڑی معیشت کا اعزاز اس سے چھن چکا ہے اور یہ اعزاز اب چین کے پاس ہے جس کے بارے میں قیاس آرائیاں کی جاتی ہیں کہ وہ امریکا سے بھی دنیا کی سب سے بڑی معیشت کا اعزاز چھین سکتا ہے۔

تاہم وقت کبھی ایک سا نہیں رہتا۔جاپانی اب سمجھتے ہیں کہ انہوں نے معاشی ترقی کرکے دیکھ لیا۔ اب انہیں اپنی فوجی صلاحیت کو بھی دنیا سے منوانا ہوگا اور اپنے لیے خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک بھرپور فوجی طاقت بننا ہوگا۔جاپان کے موجودہ وزیراعظم شنزو ایبے جاپان میں ابھرنے والی اس سوچ کے موجودہ روح رواں ہیں اوراس حوالے سے وہ بھرپور ’’دائیں بازو‘‘ کی حامل سیاست کو آگے بڑھا رہے ہیں۔اگرچہ جاپانیوں کی ایک بڑی تعداد اب بھی یہی چاہتی ہے کہ وہ جنگ و جدل میں پڑنے کے بجائے صرف معاشی طور پر ترقی کرے۔لیکن ایسے جاپانیوں کی بھی کمی نہیں جو عقابی خیالات کے حامل وزیراعظم شنزو ایبے جیسی سوچ ہی رکھتے ہیں۔یعنی جاپان کو ایک ’’نارمل ملک‘‘ بنانے کی سوچ ، ایک ایسا ’’نارمل ملک‘‘ جس کی دوسرے ممالک کی طرح ایک فوج ہو اور اس کے لیے عظیم الشان فوجی ہتھیار بھی۔

جاپان فوجی طاقت کیوں بننا چاہتا ہے؟ اس کادشمن کون ہے؟ آپ کا خیال غلط ہے۔ جاپان کے خیال میں اسے امریکا یا روس سے خطرہ نہیں اور نہ ہی کسی اور مغربی ملک سے اس کو کوئی تنازعہ درپیش ہے۔بلکہ فوجی طاقت بننے کے عزم کے پیچھے جو محرک ہے وہ کوئی اور ملک نہیں ، چین ہے۔جاپان چین کو اپنے لیے خطرہ سمجھتا ہے اور بحرالکاہل میں واقع بہت سے جزائر کی ملکیت پر اس کا چین سے تنازعہ ہے۔جاپان کا چین کے ساتھ ’’تاریخی تنازعہ‘‘ بھی ہے۔جاپان سمجھتا ہے کہ اس کے ہمسائے میں شمالی کوریا اور چین ایسے ممالک ہیں جو اس کے وجود کے لیے خطرہ ہیں۔ اس لیے اب اسے اپنے دفاع کے لیے امریکا پر انحصار کرنے کے بجائے خود کچھ کرنا ہوگا۔اسے اپنی بھرپور فوج ، بحریہ اور فضائیہ تشکیل دینا ہوگی۔جاپان میں فوج نہ رکھنے کے امریکا سے معاہدے کے باوجود اس کے پاس فوج ، بحریہ اور فضائیہ موجود ہے لیکن یہ ’’لو پروفائل‘‘رہتی ہے اور اسے ’’سیلف ڈیفنس فورسز‘‘ (ایس ڈی ایف) کہا جاتا ہے۔

چین اور جاپان کے درمیان حالیہ دنوں میں علاقائی کشیدگی میں بھی اضافہ ہوا ہے۔دراصل ایسٹ چائنہ سی میں بہت سے ایسے جزائر ہیں جن پر جاپان کی عمل داری ہے لیکن چین ان جزائر کو تاریخی طور پر اپنی ملکیت سمجھتا ہے۔ان جزائر میں ایک ناہا کا جزیرہ بھی ہے جس پر جاپان کی ایک اہم ایئربیس قائم ہے۔ اس ایئربیس کو استعمال کرتے ہوئے جاپانی اکثر فضائی مشقیں کرتے اور چین کو اپنی طاقت دکھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ اس جزیرے پر تعینات طیاروں کی تعداد میں اضافہ کردیا گیا ہے۔ایک جاپانی پائلٹ کے بقول چین اور جاپان میں کشیدگی خاصی بڑھ چکی ہے۔ محو پرواز طیاروں کی ایک باڑھ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے اس نے کہا کہ یہ طیارے ہمارے فخر کی علامت ہے جو ملک کے دفاع کے لیے سرگرم ہیں۔

گذشتہ اپریل سے جون کے درمیان اس بیس پر 69 جاپانی طیارے تعینات کیے گئے جبکہ گذشتہ سال اسی عرصے کے دوران یہاں پر صرف پندرہ طیارے تعینات کیے گئے تھے۔ اس سال ستمبر میں جاپان کی سیلف ڈیفنس فورسز (ایس ڈی ایف) نے پہلی بار تصدیق کی کہ چین نے جاپان کے اوپر ایک ڈرون طیارہ بھیجا تھا۔اس کے علاوہ چین کے بمبار طیارے کی جاپان پر پرواز کی تصدیق کی گئی۔اس کے علاوہ ایک چینی جنگی بحری جہاز کے دو منتازعہ جزائر کے قریب آنے کی تصدیق بھی کی گئی۔ چین کی جانب سے اس قسم کی سرگرمیوں کی وجہ سے جاپانی پائلٹوں میں وطن پرستی کا جذبہ (یا دشمن سے جنگ کا شوق) بڑھ رہا ہے۔

غیر ملکی جریدوں میں شائع ہونے والی رپورٹوں کے مطابق جاپان کئی سالوں سے اپنے اقتصادی زوال اور کم ہوتے ہوئے عالمی اثرورسوخ کو دیکھنے کے بعد اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ اسے اب ایک نئے انداز میں اٹھنا چاہیے۔ یہ نیا انداز فوجی طاقت ہے۔اس نئے خیال کے ساتھ جاپان نے مختلف ملکوں کو فوجی امداد اور ٹریننگ دینے کا کام شروع کردیا ہے تاکہ علاقائی اتحاد کو فروغ دیا جائے اور ہمسایہ ملکوں کے دفاع کو مضبوط بنایا جائے تاکہ وہ تیزی سے ابھرتے ہوئے چین کا مقابلہ کرسکیں۔

جاپان اس سال پہلے ہی عالمی فوجی منظر نامے کے حوالے سے ایک چھوٹا سا سنگ میل عبور کرچکا ہے جب اس نے دوسری جنگ عظیم کے بعد پہلی بار بیرون ملک فوجی سرگرمی کا مظاہرہ کیا یاکسی قوم کو فوجی امداد دی۔ اس نے بیس لاکھ ڈالر کی مدد سے اپنے فوجی انجینئیروں کو کمبوڈیا اور مشرقی تیمور بھیجا تا کہ وہ ان کے فوجیوں کو تربیت دے سکیں۔ بظاہر یہ مدد بحران کی صورت میں امدادی کاموں اور سڑکوں کی تعمیر کے حوالے سے تھی لیکن علامتی طور پر دیکھا جائے تو یہ ایک فوجی امداد تھی۔اس کے علاوہ جاپان نہ صرف بحرالکاہل اور ایشیا کے ملکوں کے ساتھ کئی مشترکہ جنگی مشقیں کرچکا ہے بلکہ اس نے کئی ایسے ملکوں کے باقاعدگی کے ساتھ پورٹ وزٹ بھی شروع کردیے ہیں جو کبھی خوفزدہ ہوا کرتے تھے کہ جاپان کہیں دوبارہ فوجی طاقت نہ بن جائے۔ دراصل اب ان ملکوں کو زیادہ خطرہ جاپان کے بجائے چین سے محسوس ہوتا ہے۔

جاپان کے دفاعی حکام اور مبصرین کا کہنا ہے کہ دیگر ملکوں کے کوسٹ گارڈز کو جدید ٹریننگ اورآلات سے لیس کرنے کے سویلین پروگرام کو تیز کرنے کے بعد جاپان جلد ہی ایک اور سنگ میل عبور کرسکتا ہے جیسے کہ خطے میں فوجی آلات جیسے سی پلینز(سمندری جہاز) اور ڈیزل سے چلنے والی آبدوزوں کی فروخت وغیرہ، جو کہ ان سمندری پانیوں میں ان ملکوں کے بہت کام آسکتی ہیں جہاں چین اپنا علاقائی دعویٰ رکھتا ہے۔

اس طرح کے مختلف اقدامات سے واضح طور پر ظاہر ہوتا ہے کہ جاپان اپنی پالیسی کو شفٹ کررہا ہے اور امریکا کے ان بارہا کیے جانے والے مطالبات کی مزاحمت کررہا ہے جو کہ انکل سام اسے ایک حقیقی علاقائی طاقت بننے سے روکنے کے لیے کر تا رہا ہے کیونکہ امریکا کو خدشہ ہے کہ اگر جاپان ایسا کرتا رہا تو وہ دوسری جنگ عظیم کے بعد غیر سرگرم (فوجی طورپر) رہنے کی پالیسی سے دور ہٹ جائے گا۔جاپان ایک ایسے موقع پر ایک علاقائی کھلاڑی بننے کے لیے کوشاں ہے جب امریکا اور چین بھی ایشیا میں اپنا اثرورسوخ قائم کرنے اور اسے بڑھانے کے لیے پوری طرح کوشاں دکھائی دیتے ہیں۔چین جاپان کے ساتھ کچھ تاریخی تنازعات بھی رکھتا ہے جو کہ دوسری جنگ عظیم کے دوران جاپان کی جانب سے چین میں ’’ظالمانہ کارروائیوں‘‘ سے متعلق ہیں۔جاپان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس نے دوسری جنگ عظیم کے دوران بہت سے ملکوں کو کچلا اور وہاں پر زبردست مظالم ڈھائے جن میں سے ایک ان ممالک کی عورتوں کو اپنے فوجیوں کے لیے داشتاؤں میں تبدیل کرنا بھی شامل تھا۔ چین بھی جاپان کے ہاتھوں کچلے جانے والے ممالک میں شامل تھا اور اس حوالے سے چینیوں میں جاپان سے ایک تاریخی ناراضگی پائی جاتی ہے ۔

جاپان کی جانب سے فوجی طاقت بننے کے عزائم کے پیچھے اصل محرک اسکے چین کے ساتھ مختلف جزائر کی ملکیت پر تنازعات سرفہرست ہیں۔ یہ جزائر ایسٹ چائنہ سی میں واقع ہیں اور جاپان میں اس بارے میں شدید اضطراب پایا جاتا ہے کہ جس طرح اس کا ملک زوال کی طرف جارہا ہے اور جس طرح اس کا روایتی محافظ امریکا بھی معاشی بحران میں مبتلا ہے اس کے نتیجے میں جاپان بہت زیادہ غیرمحفوظ ہوتا جارہا ہے۔جاپان کے ایک آفیشل کا کہنا ہے کہ سرد جنگ کے دوران جاپان کو جو کرنا تھا وہ صرف امریکا کی پیروی تھا تاہم چین کے حوالے سے جاپان کا معاملہ مختلف ہے۔اس کے لیے جاپان کو اپنے پاؤں پر کھڑا ہونا ہوگا۔

جاپان کی ان سرگرمیوں کا مطلب یہ نہیں کہ وہ اپنی فوج کو مکمل طورپر اس طرح تبدیل کرلے کہ وہ جلد ہی ایک دفاعی فوج سے جارح فوج میں بدل جائے۔ ماضی میں جاپانی عوام سیاست دانوں کی ان کوششوں کی مزاحمت کرچکے ہیں جس کے ذریعے وہ ملک کے آئین ، جس کے تحت جاپان ایک فوجی طور پر غیرسرگرم (pacifist)ملک کہلاتا ہے،کو تبدیل کرنا چاہتے تھے۔ اس طرح ملک پر قرضوں کا جو بوجھ ہے وہ بھی جاپان کے اپنی فوجی طاقت کو توسیع دینے کے عزائم میں رکاوٹ ہے۔

تاہم یہ بات بھی واضح ہے کہ جاپان میں اس وقت جو رویہ پایا جارہا ہے ، اس سے پتہ چلتاہے کہ یہ ملک اب تبدیل ہورہا ہے کیونکہ چین اپنے فوجی اخراجات کو بڑھانے کی پالیسی پر مسلسل گامزن ہے اور اس عزم پر قائم ہے کہ جن جزائر پر جاپان کادعویٰ ہے ، نہ صرف وہ چین کو واپس ملنے چاہئیں بلکہ ساؤتھ چائنہ سی کے ایک بڑے حصے پر بھی اسی کا حق ہے جو کہ مختلف ساؤتھ ایسٹ ایشین ممالک کے بقول ان کی ملکیت ہیں۔اس سمندر میں دو جزائر ایسے ہیں جن کے حوالے سے چینی چیلنجز کا جاپانی لیڈر کامیابی کے ساتھ مقابلہ کرچکے ہیں اور آگے بھی اس کا عزم رکھتے ہیں جبکہ اس کے لیے جاپانی عوام بھی اپنے لیڈروں کے ساتھ ہے۔

جاپان کی دونوں بڑی سیاسی پارٹیاں بھی اب آئین میں لچک پیدا کرنے کے لیے کھلے عام باتیں کررہی ہیں جس کے تحت آئینی طور پر جاپان کو اپنے دفاعی اتحادیوں کی مدد کی اجازت مل جائے گی (یعنی اگر شمالی کوریا امریکا کے خلاف کوئی میزائل داغے گا تو جاپان اس کو گرادے گا) اور یوں ایک جارح اور دفاعی فوج (جاپان کی) کے درمیان موجود فرق کی لکیر مدھم ہوجائے گی۔علاوہ ازیں جاپان کی دفاعی افواج حال ہی میں عراق اور افغانستان کی جنگ میں بھی امریکا کی مدد کرچکی ہیں جہاں انہوں نے بحر ہند میں اپنے بحری ٹینکر تعینات کیے تھے جن کے ذریعے امریکی جنگی بحری جہازوں کو ایندھن کی سپلائی کی جاتی تھی۔

جاپانی حکام کا کہنا ہے کہ وہ کوئی ایسی حکمت عملی نہیں رکھتے کہ چین کے ساتھ دوڑ شروع کردی جائے بلکہ وہ صرف یہ چاہتے ہیں کہ دیگر ممالک کی مدد کی جائے اور ان کے ساتھ تعلقات بڑھائے جائیں جو جاپان کی طرح ہی چین کی وجہ سے پریشان ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ دیگر ممالک کے محض کوسٹ گارڈ کی مدد کرنے سے بھی ان ملکوں کی صلاحیتوں میں اضافہ کیا جاسکتا ہے تاکہ وہ چین کے خطرے کا مقابلہ کرسکیں۔
کایو یونیورسٹی ٹوکیو میں واقع انسٹی ٹیوٹ آف ایسٹ ایشین سٹڈیز کے ڈائریکٹر یوشیدی سویا کہتے ہیں: ’’ہم ایشیا میں دیگر ممالک کے ساتھ اتحاد قائم کرنا چاہتے ہیں تاکہ چین سے اپنا بچاؤ کرسکیں۔‘‘

اس طرح جاپان کے نائب وزیر دفاع اپنا عزم یوں ظاہر کرتے ہیں:’’ہم جاپان کو مکمل طورپر زوال کا شکار نہیں ہونے دیں گے۔‘‘

دلچسپ امر یہ ہے کہ امریکا جس نے ساتھ ستر سال پہلے جاپان کو اپنی فوج یا ہتھیار نہ رکھنے کا پابند کیا تھا، وہی اب نئے زمانے کے نئے تقاضوں کے تحت فوجی سرگرمی شروع کرنے کے جاپانی ارادوں کی تائید کررہا ہے۔یہ دراصل امریکا کی اس حکمت عملی کا حصہ ہے جس کے تحت وہ ایک طرف ایشیائی ممالک کو فوجی لحاظ سے مضبوط کرنا چاہتا ہے تاکہ وہ چین کے خلاف اپنے پاؤں پر کھڑا ہوسکیں اور دوسری طرف خطے میں اپنی فوجی موجودگی کو بھی توسیع دینا چاہتا ہے۔

دوسری طرف چین بھی جاپان کے دوبارہ فوجی طاقت بننے کے عزائم کے بارے میں تحفظات رکھتا ہے۔چین جو بیسیویں صدی وسط اور دوسری جنگ عظیم کے دوران جاپان کے مظالم کا نشانہ بن چکا ہے، اس نے اپنے ردعمل میں خبردار کیا کہ جاپان فوجی طاقت بننے کی کوششوں کے ذریعے دوسری جنگ عظیم سے پیدا ہونے والے نتائج کو تبدیل کرنے کی کوشش کررہا ہے ۔چند ماہ قبل آسٹریلیا میں ہونے والی ایک دفاعی کانفرنس میں چینی جنرل رین ہائی کوان نے میزبان ملک کو خبردار کیا کہ وہ ایک ایسے ملک کے قریب نہ جائے جو فاشسٹ ہے اور جس نے کبھی آسٹریلوی شہر ڈارون پر بمباری کی تھی۔

دنیا میں خغرافیائی و سیاسی صورت حال جس طرح تبدیل ہورہی ہے ، اس کے نتیجے میں خطے کے ممالک میں جاپان کے انگڑائی لیتے ملٹری ازم کے حوالے سے تشویش کم ہورہی ہے بالخصوص ان ممالک میں جن کے چین کے ساتھ علاقائی تنازعات چل رہے ہیں جیسے کہ ویت نام اور فلپائن وغیرہ ، جہاں دوسری جنگ عظیم کے دوران گھمسان کی لڑائی ہوئی تھی۔ان ملکوں کے مبصرین کا کہنا ہے کہ ان کے ملک جاپان کی کسی بھی قسم کی مدد کا خیرمقدم کریں گے۔

’’ہم دوسری جنگ عظیم کے ڈراؤنے خوابوں کو پہلے ہی ایک طرف رکھ چکے ہیں۔‘‘ منیلا میں واقع فلپائن انسٹی ٹیوٹ فار پیس ، وائلنس اینڈ ٹیررازم ریسرچ کے سیکورٹی ایکسپرٹ رومیل بنلااوئی کہتے ہیں۔’’کیونکہ اب ہمیں چین کی طرف سے خطرات لاحق ہیں۔‘‘

حال ہی میں کئی ایشیائی اور افریقی ممالک سے تعلق رکھنے والے 22 کوسٹ گارڈز حکام نے تربیت کے لیے ٹوکیو بے میں واقع شاندار جاپانی کوسٹ گارڈ جنگی جہاز میں مشقوں میں حصہ لیا۔انہوں نے انجن روم ، الیکٹرانکس سے لدے پھندے برج اور بیس ملی میٹر کی توپ کے ساتھ تصاویر بنوائیں۔ جنگی جہاز جب بندرگاہ سے روانہ ہوا تو غیرملکی دستے اور جاپانی عملے نے ایک دوسرے کی جانب رخ کیا اور جھکتے ہوئے ایک دوسرے کو سلام کیا۔

’’چین کا مقابلہ کرنے کے لیے اب امریکا اورآسٹریلیا کے ساتھ ساتھ جاپان بھی ہماری مدد کررہا ہے۔‘‘ تربیتی مشقوں ھمیں حصہ لینے والے فلپائن کوسٹ گارڈ کے آفیسر مارک لم نے اپنے خیالات کااظہار کیا۔

جاپان اس خطے میں واحد ملک ہے جس کے پاس چین پر نظر رکھنے کے لیے ایک طاقتور بحریہ موجود ہے۔اگرچہ جاپان کے فوجی اخراجات کم ہوتے رہے ہیں لیکن اس کے باوجود وہ فوجی اخراجات کرنے والا دنیا کا چھٹا بڑا ملک ہے۔جاپان کے جنگی طورپر غیرسرگرم ماضی کے پیش نظر اس کے پاس طویل فاصلے پر مار کرنے والے میزائل ، ایٹمی آبدوزیں اور زبردست طاقت کے حامل عظیم الشان طیارہ بردار جہاز موجود نہیں لیکن اس کی ڈیزل سے چلنے والی طاقتور آبدوزیں دنیا اپنی ٹائپ کی بہترین مشینیں سمجھی جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ جاپانی بحریہ کے پاس ایسے طاقتور کروز ہیں جو کسی بھی بلاسٹک میزائل کو تباہ کرسکتے ہیں۔اس کے علاوہ اس کے پاس دو بڑے ہیلی کاپٹر بردار بحری جنگی جہاز ہیں جن کو اس قابل بنایا جاسکتا ہے کہ وہ ایسے فائٹر جیٹ طیاروں کو کیری کرسکیں جو عمودی طورپر ٹیک آف کرسکتے ہیں۔

ملٹری ازم کے حوالے سے جاپان نے 2009 میں پہلا بڑا قدم اس وقت اٹھایا تھا جب اس نے آسٹریلیا کے ساتھ مشترکہ فوجی مشقیں کی تھیں۔ امریکا کے علاوہ کسی دوسری قوم کے ساتھ اس کی یہ پہلی مشقیں تھیں۔اس کے بعد سے جاپان جنوب مشرقی ایشیا میں کئی کثیر القومی مشقوں میں شرکت کرچکا ہے جبکہ جون میں اس نے بھارت کے ساتھ بھی پہلی بار مشترکہ مشقیں کی تھیں۔

دوسری جانب بعض مبصرین اور سابق حکام کے بقول جاپان کی ملٹری ابھی خاصی زرا احتیاط سے کام لے رہی ہے اور بظاہر غیرجنگی آپریشنز جیسے بحران کے دوران امداد ، بحری ڈاکہ زنی اور صحت کے شعبے میں امداد دے رہی ہے لیکن یہ امداد بھی اسے دوسرے ممالک کی افواج کے ساتھ تعلقات قائم کرنے میں مدد دے رہی ہے۔ایک منصوبہ یہ ہے اور جس کے لیے مذاکرات کیے جارہے ہیں کہ اگلے سال سے ویت نام کی نیوی کو میڈیکل کے شعبے میں ٹریننگ دی جائے جس کے ذریعے وہ اس کی حال ہی میں خریدی گئی روسی ساختہ آبدوزوں پر موجود عملے کی طبی امداد کی جاسکے۔ ٹوکیو میں قائم جاپان انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل افئیرز کے محقق ٹٹسو کوٹانی کا کہنا ہے کہ ہماری حکمت عملی ہے کہ ایسا ہارڈ وئیر اور ٹریننگ دی جائے جس کے ذریعے پورے ساؤتھ ایشین سی کے اردگرد منی جاپانی کوسٹ گارڈز اور منی جاپانی سیلف ڈیفنس فورسز قائم ہوجائے۔

علاقائی کوسٹ گارڈز تشکیل دینے کے جاپان کے عشرے پر محیط سویلین ایڈپروگرم کے تحت جاپانی حکام کا کہنا ہے کہ وہ اب تک کی اپنی سب سے بڑی سیکورٹی سے متعلقہ ڈیل کے حتمی مرحلے میں داخل ہوچکے ہیں جس کے تحت فلپائنی کوسٹ گارڈز کو دس جدید جنگی لانچیں فراہم کی جائیں گی اور جنگی لانچ کی قیمت بارہ ملین ڈالر ہے۔جاپانی حکام کے مطابق وہ اسی قسم کی لانچیں ویت نام کو بھی فراہم کرسکتے ہیں۔جاپان کے سابق وزیردفاع ٹوشیمی کیٹازاوا کے مطابق جاپان اگلے سال سے انڈونیشیا اور ویت نام کے لیے فوجی امداد کو دوگنا کرنے کا منصوبہ بھی بنارہے ہیں جبکہ ویت نام بھی اسے ملکوں کی فہرست میں شامل ہوسکتا ہے جسے ہم آبدوزیں فروخت کرسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ جاپان اور ملائشیا کو بھی اس فہرست میں شامل کیا جاسکتا ہے۔

’’جاپان اپنی ہمسایوں کی سیکورٹی کی ضروریات کے حوالے سے بے حس رہا ہے۔‘‘ کیٹا زاوا کہتے ہیں۔’’لیکن اب ہم ان کی مدد کرناچاہتے ہیں۔ہم ان میں احساس تحفظ پیدا کرنے کے لیے ان کی خاصی مدد کرسکتے ہیں۔‘‘

شنزو ایبے ،جاپان کے عقابی وزیراعظم
جاپان کے عقابی وزیراعظم شنزو ایبے نہ صرف جاپان کی فوجی طاقت بڑھا رہے ہیں بلکہ سیکورٹی کے ایشوز کے حوالے سے ایسے ممالک ، جن میں چین سرفہرست ہے، کے خلاف کھل کر بات کررہے ہیں جن کو وہ اپنی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھتے ہیں۔

ایبے اور ان کی حکمران پارٹی لبرل ڈیموکریٹک پارٹی(ایل ڈی پی) میں موجود دیگر قدامت پسند عقابی لیڈروں کے لیے اپنی سلامتی کے لیے جاپان کی جنگجو فطرت اسی طرح قائم دائم ہے جس طرح ان میں امن کی روح زندہ و جاوید ہے۔وہ اس کے لیے جاپانی آئین میں ترمیم کا عزم کیے ہوئے ہیں۔جاپانی وزیر اعظم شنزو ایبے تو صاف کہتے ہیں کہ جاپان کی فوجی قوت بیدار کرنے کے لیے آئین میں ترمیم ان کا مشن ہے۔

لیکن اس کے ساتھ ہی سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا جاپان واقعی ایسا کرسکتا ہے اور واقعی ایک عسکری طورپر غیرسرگرم ملک سے سرگرم فوجی ملک بن سکتا ہے۔ملک کا آئین واضح طورپر کہتا ہے کہ جاپان بری ، بحری اور فضائی فوج نہیں رکھ سکتا۔کیا واقعی ایسا ہے؟ جاپان کے پاس تو بری ، بحری اورفضائی تینوں قسم کی فوج موجود ہے۔اس کے پاس سینکڑوں جنگی ہوائی جہاز اور ٹینک ہیں۔اس لیے اب جھوٹ بولنا بند کیا جائے۔جاپان کا آئین اور حقائق دو مختلف چیزیں۔اب ضروری ہے کہ جاپان کا آئین اس طرح تشکیل دیا جائے جس سے وہ حقیقت کی عکاسی کرے۔

جاپانی وزیراعظم کے بقول جاپان کی معاشی ترقی اور فوجی قوت ایک ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔اگر ہم جاپان کی حفاظت نہ کرسکے تو معاشی ترقی بھی قائم نہیں رہے گی۔ان کاکہنا ہے کہ جاپان کے خوبصورت سمندر اور اس کے علاقے خطرے میں ہیں اور معاشی زوال کے ان دنوںمیں جاپانی نوجوان نسل مستقبل کے حوالے سے مایوسی کی شکار ہے۔

’’میں وعدہ کرتا ہوں کہ جاپان کی زمین ، سمندر اور فضاؤں اور جاپانی قوم کی زندگیوں کی حفاظت کروں گا۔‘‘ شنزو ایبے نے اپنا عزم ظاہر کرتے ہوئے کہا۔

یاد رہے کہ گیارہ سالوں کے دوران جاپان نے پہلی بار اپنے دفاعی بجٹ میں اضافہ کیا ہے جو اگرچہ بہت معمولی ہے تاہم یہ اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ ایبے کی حکومت ملک کی قومی سلامتی کو خاصی اہمیت دے رہی ہے۔اس سال اگست میں جاپانی وزیر دفاع نے دفاعی بجٹ میں تین فیصد اضافے کی درخواست کی جو منظور کرلی گئی تو یہ گذشتہ بیس سالوں کے دوران فوجی بجٹ میں اضافے کے لیے سب سے بڑی جست ہوگی۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔