پرنٹ میڈیا کا جغرافیہ

شاہد سردار  اتوار 9 فروری 2020

یہ ایک مسلمہ امر ہے کہ پاکستان میں گزشتہ بیس پچیس برسوں میں میڈیا کے شعبے میں بہت وسعت آئی ہے۔ سیٹلائٹ ، ٹیلی ویژن اور ریڈیوکے علاوہ انٹرنیٹ کے مختلف انداز نے خبروں ، تبصروں اور معلومات کو ریاستی سرحدوں کی قیود سے آزاد کر دیا۔

ان تبدیلیوں یا جدت کے باوجود ’’پرنٹ میڈیا ‘‘ یعنی اخبارات ، جرائد اور رسائل نے بھی بڑی حد تک اپنی انفرادیت کو برقرار رکھا ہوا ہے۔ اس شعبے کی تاریخ بہت ہی طویل اور اس کا ورثہ عظیم تر رہا ہے اور یہ بھی غلط نہیں کہ پاکستان میں اخبارات ، جرائد اور رسائل مختلف مشکل اور سہل ادوار سے گزر کر موجودہ حیثیت تک پہنچے ہیں۔

مملکت کا چوتھا ستون اور بہت ہی مقدس پیشہ ’’صحافت ‘‘ ہی کہلاتا ہے، لیکن عہد حاضر میں میڈیا بالکل بدل گیا ہے، پہلے الیکٹرانک میڈیا نہ ہونے کی وجہ سے پرنٹ میڈیا کا طوطی بولتا تھا۔ تصویروں، تحریروں، انٹرویوز اور فیچرز لوگ شوق سے دیکھتے اور پڑھتے تھے لیکن اب ایسا بالکل نہیں ’’ریڈرشپ‘‘ آٹے میں نمک کے برابر رہ گئی ہے جہازی سائز پر چھپنے والے ’’ بڑے اخبارات ‘‘ اس حوالے سے سکڑتے جا رہے ہیں۔

ہماری نئی نسل کو تو اخبارات و رسائل سے دلچسپی نہیں اور اس کی وجہ الیکٹرانک میڈیا کی طاقت اور ہر گھر ہر ہاتھ تک اس کی رسائی ہے۔ ڈیجیٹل اور سوشل میڈیا نے پرنٹ میڈیا کی مقبولیت کو بہرطور گہنا دیا ہے۔ یہی وقت کی کڑوی حقیقت ہے۔ صحافت کبھی پاور فل مشن کے طور پر معاشرے میں شامل تھی لیکن اب بہرطور اس کی طاقت یا اس کے کرنٹ میں کمی واقع ہوگئی ہے کیونکہ آج کے اخبارات یا ٹی وی چینلز سے لوگوں میں آگہی اور شعور کا آنا بالکل ایسے ہی ہے جیسے گلی میں کوئی اپنے گھر کے سامنے بلب لگائے اور اس کی روشنی سے آنے جانے والے بھی مستفید ہوں۔ اس بات میں بھی کوئی دو رائے نہیں ہوسکتی کہ ہماری آج کی صحافت بڑی مودب ہوچکی ہے۔

آج کے اکثر صحافی یا اخبار نویس وہی سچ بولتے ہیں جو انھیں کہا جاتا ہے۔ اگر کوئی صحافی فیض یا جالب بننے کی کوشش کرتا ہے تو اور اس کی آواز دبانے کی کوشش شروع ہوجاتی ہے۔ ہمارے پرنٹ میڈیا کا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ بعض حوالوں سے یہ حد سے زیادہ آزاد ہے اور بعض حوالوں سے حد سے زیادہ غلام اور یہ بھی مبالغہ نہیں کہ حق سچ لکھنے یا کہنے کی پاداش میں جتنے صحافی پاکستان میں مارے گئے یا بے توقیر کیے گئے۔ اس کی مثال بھی دنیا میں کہیں نہیں ملتی۔جاننے والے جانتے ہیں ’’ ففتھ جنریشن وار‘‘ تو ختم ہوچکی جس کا مقصد میڈیا کو معاشی طور پر تباہ کرنا تھا لیکن اب ’’سکستھ جنریشن وار‘‘ شروع ہوگئی ہے جس کا مقصد میڈیا کا ڈنگ نکالنا ہے۔ دراصل آزادی اور قید کے معیارات اپنے اپنے ہوتے ہیں۔

آج میڈیا پر اگر کوئی پابندی لگانے کی کوشش کرے تو اس کا کوئی فائدہ نہ ہوگا خبر بہرطورکسی نہ کسی طرح پھیل ہی جاتی ہے۔ پہلے جو احتجاج سڑکوں پر ہوتے تھے وہ اب ٹاک شوز یا کانفرنسوں تک محدود ہوگئے ہیں۔ اس لیے لڑانے والے زیادہ مضبوط ہوگئے ہیں۔ یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ ہمارے ہاں درجنوں روزنامے شایع ہوتے ہیں اور ان اخبارات سے سیکڑوں رپورٹر منسلک ہوتے ہیں، بیشتر لکھنے والے ’’سوکھا ثواب‘‘ کما رہے ہوتے ہیں نہ ان کی جیب میں آئی ڈی کارڈ ہوتا ہے اور نہ ہی محنتانہ۔ دروغ برگردن راوی جب کسی ایسے ہی اخبارکے نمایندے سے ایک چنگ چی چلانیوالے نے کرایہ مانگا تو اس نے کہا ’’ تم جانتے نہیں میں کون ہوں؟‘‘

اور پھر اپنی جیب سے ایک اخبار کا آئی ڈی کارڈ نکال کر اسے دکھایا، اس پر رکشے والے نے اپنی پوٹلی (جو رکشے کے ہینڈل سے لٹکی ہوئی تھی) سے ایک کارڈ نکالا اور کہا ’’میں اس اخبار کا بیورو چیف ہوں۔‘‘گردش دوراں کہہ لیں کہ زمانے کی ترقی یا پھر تنزلی جو نام چاہے اس کو دے دیں کہ کچھ عرصے سے کارکنوں کی تنخواہوں میں کوئی اضافہ نہیں ہو پاتا۔ بعض ہمارے بڑے بڑے اخبارات کی شہ سرخیوں کو اٹھا لیں ’’بیانوں‘‘ پر انھیں تحریر کروا کر پرنٹ کرایا جاتا ہے، جب کہ سنسنی خیزی نہ سہی لیکن نئی معلوماتی یا اندر کی سچی خبر شہ سرخی کے منصب پر فائز ہوتی ہے اسے بھی پرنٹ میڈیا کی لاچاری یا کسمپرسی سے ہی تعبیر کیا جاسکتا ہے کہ اسے اس قسم کی خبریں تک میسر نہیں آ پا رہیں۔

بے رنگ، بے مزہ تحریریں اور فیچر۔ خدا کرے یہ صورتحال بہتر ہو مگر اس تبدیلی کے آثار دکھائی نہیں پڑ رہے۔ تبدیلی کے ہنگام میں ہمیں چراغ حسن حسرت سے منسوب ایک واقعہ یاد آرہا ہے۔ انھیں بتایا گیا کہ اخبارکا چیف نیوز ایڈیٹر، چیف رپورٹر، میگزین ایڈیٹر، مارکیٹنگ اسٹاف یہاں تک کہ ہیلپر تبدیل کرکے دیکھ لیے مگر ادارہ بدستور خسارے میں جا رہا ہے۔ چراغ حسن حسرت نے اپنی روایتی بذلہ سنجی سے کام لیتے ہوئے کہا ’’ایک بار ایڈیٹر بھی بدل کر دیکھ لیں۔‘‘

موجودہ حالات یا دور میں پرنٹ میڈیا کے پاس واحد راستہ حد سے بڑھی ہوئی احتیاط پسندی ہی ہے۔ آپ آزاد خیال لبرل ہوں یا قدامت پسند مذہبی سوچ کے حامل فرد، جہاں کسی نے احتیاط کا دامن چھوڑا وہیں اس کی مشکلات میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ الیکٹرانک میڈیا کی چکا چوند یا پاپولیریٹی اپنی جگہ لیکن اب بھی لکھے لفظ کی اہمیت ٹی وی کی ہر لمحہ ناچتی اسکرینوں سے کہیں زیادہ موثر اور دیرپا ہے۔ تاہم جدید دور میں ٹیکنالوجی اخبارات کی اشاعت اور سرکولیشن دونوں کو خاکم بہ دہن ابدی نیند سلانے کے لیے کوشاں ہے۔

شاید آٹے میں نمک کے برابر ہی اخبارات بچ جائیں اور وہ بھی غالباً مکمل الیکٹرانک ورژن میں دستیاب ہوں لیکن نہیں بڑے اخبارات ٹیکنالوجی کے ہاتھوں بے بس ہوتے باقیوں کی نسبت زیادہ وقت ضرور لیں گے۔ ٹیکنالوجی اخبارات کو مکمل طور پر سکیڑ کر ٹیلی ویژن اسکرینوں تک محدود تو کر دے گی لیکن لکھا ہوا لفظ اور معیاری صحافت کا متبادل ابھی تک ایجاد ہوا ہے اور نہ ایسا آسانی سے ممکن ہوگا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔