جرم وفا

ذیشان الحسن عثمانی  بدھ 12 فروری 2020
مجھے طواف میں رنگے ہاتھوں پکڑوا دے۔ (فوٹو: فائل)

مجھے طواف میں رنگے ہاتھوں پکڑوا دے۔ (فوٹو: فائل)

رنگے ہاتھوں پکڑا جانا، جسے Red handed بھی کہتے ہیں، وہ سانحہ ہے، جس میں جرم کرنے والا (مجرم)، جس پر جرم ہورہا ہو (مظلوم) اور جرم کو پکڑنے والا سب ایک ہی وقت میں ایک جگہ مل جائیں۔ ایسے واقعات میں جان بچانا یا خلاصی تقریباً ناممکن ہے کہ مظلوم کی دہائی یا حالت، عینی شاہدین کی گواہی اور قانون نافذ کرنے والے کی موجودگی کسی شک و شبہ کی گنجائش باقی نہیں چھوڑتے۔

مجرم کےلیے یہ لمحہ مشکل ترین ہوتا ہے کہ نہ عمل سے مکر سکے، نہ اس کی تکمیل کرسکے، نہ ہی سزا سے بچنے کی کوئی صورت ہو اور نہ ہی جرم سے لطف اندوز ہوسکے کہ رنگے ہاتھوں پکڑے جانے نے فتح کا سارا نشہ کرکرا کردیا۔ اب اسے ایسے گناہ کی سزا ملے گی جو شاید پورا بھی نہ ہوا ہو۔ جیسے کہ خود کشی، بندہ اپنی جان لے رہا ہے مگر پکڑا جائے تو جیل کی سزا بھی اسے ہی ملے۔

رنگے ہاتھوں پکڑے جانے کا ایک فائدہ تو ہے کہ جو بھی ہونا ہوتا ہے وہ جلد ہوجاتا ہے۔ نہ طویل مقدمے بازیاں، نہ گواہوں کے لامتناہی اور متضاد بیانات اور نہ ہی جج کو اگلے پچھلے مقدمات کے حوالہ جات جوڑنے پڑتے ہیں۔ دستی فیصلہ ہوجاتا ہے اور بندہ نقد روانہ۔

وہ لوگ تو پھر بھی شریف ہوتے ہیں جن کے صرف ہاتھ رنگے جاتے ہیں۔ ایک مجھ جیسے پیشہ ور کہ جن کے ہاتھ، آستینیں، گریبان، دل، دماغ، روح سب ہی رنگے گئے۔ اور جرم بھی کوئی ایک بار ہو تو سمجھ آئے۔ بار بار، ہر روز، پھر سے، لگاتار۔

عینی شاہدین بھی موجود، دیکھنے والا بھی دیکھ رہا ہے۔ مگر فیصلہ نہیں کرتا۔ اور میں اس امید پر مسلسل کئے جارہا ہوں کہ جس دن بھی فیصلہ آئے گا۔ جس دن بھی پکڑا جاؤں گا، زیادہ ٹائم نہیں لگے گا۔ گواہوں کے بیانات، اگلی پچھلی مثالیں کچھ نہیں۔

جب پکڑنے والا آئے گا اور روح قبض کرے گا۔ تو باری تعالیٰ کے حضور یہی کہے گا ناں کہ یا ذوالجلال والاکرام، رنگے ہاتھوں پکڑ کے لایا ہوں۔ تیرا ہی ذکر کر رہا تھا۔ دم سادھے، چپ چاپ، لگاتار، ہر سانس میں، لہو کی ہر ہر بوند میں، کسی کی پرواہ نہیں۔ سب سے بے نیاز، پکڑے جانے کا بھی ڈر نہیں، نہ دنیا کی شرم، نہ ریت رواج کی لاج، نہ گناہوں کا بھرم، نہ عاجزی کا تکبر، نہ نیکیوں کا گھمنڈ، نہ اپنی ذات کا پتا، نہ گفتگو کا شوق، نہ ہونے کا دعویٰ، نہ ہی نہ ہونے کا غم۔ میں نے جائے وقوعہ پر رنگے ہاتھوں پکڑا ہے۔ تو فیصلہ کردے۔

یا اللہ! تجھے تیرے رب ہونے کا واسطہ، تو مجھے طواف میں رنگے ہاتھوں پکڑوا دے کہ احرام کی چادریں جرم کی گواہ بن جائیں کہ تیرے سوا کسی کو نہیں چاہا، سب کو چھوڑ دیا۔ خود سے خودکشی کرلی۔

تو فیصلہ سنا دے، اب انتظار کون کرے۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 1,000 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

ڈاکٹر ذیشان الحسن عثمانی

ذیشان الحسن عثمانی

ڈاکٹر ذیشان الحسن عثمانی فل برائٹ فیلو اور آئزن ہاور فیلو ہیں۔ ان کی تصانیف http://gufhtugu.com/authors/zeeshan-ul-hassan-usmani/ سے حاصل کی جاسکتی ہیں۔ وہ کمپیوٹر سائنس، مصنوعی ذہانت، ڈیٹا سائنس اور معاشرتی موضوعات پر باقاعدگی سے لکھتے ہیں۔ آج کل برکلے کیلی فورنیا، امریکہ میں ایک فرم میں چیف ٹیکنالوجی آفیسر ہیں۔ آپ ان سے [email protected] پر رابطہ کر سکتے ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔