جمہوری عمل کی نئی انقلابی تعریف

نصرت جاوید  بدھ 20 نومبر 2013
nusrat.javeed@gmail.com

[email protected]

سچ تو یہ ہے کہ جنرل مشرف کے لیے اپنے دل میں ذرا سا بھی نرم گوشہ نہ رکھنے کے باوجود مجھے یقین تھا کہ نواز شریف صاحب کی تیسری حکومت ان کے خلاف آئین کے آرٹیکل 6کے تحت غداری کا مقدمہ چلانے میں کوئی ٹھوس اقدامات نہیں اٹھائے گی۔ بے نظیر بھٹو اور نواب اکبر بگٹی کے قتل میں ملوث ہونے کے سنگین الزامات کے علاوہ ان کی مزید مقدمات میں بھی ضمانت ہوگئی تو میں نے ان کے بیرون ملک چلے جانے کا انتظار کرنا شروع کر دیا۔ میرا یہ انتظار محض ذاتی تجزیے پر مبنی نہ تھا۔ ایک خلیجی ملک کے بہت ہی اہم سفارتکار نے مجھے آج سے کئی سال پہلے نواز شریف کی سعودی عرب جانے کی خبر دی تھی۔ میں نے جب اس خبر کو اپنے اس وقت کے مدیر کے ساتھ شیئر کیا تو انھیں اعتبار نہ آیا۔ مجھے کافی دنوں تک وہ خبر لکھنے کا موقع ہی نہ ملا۔ اپنے کالموں میں محض اشاروں کنایوں میں اس کا ذکر کرتا رہا۔ اکثر لوگوں کو یہ اشارے سمجھ نہیں آتے تھے جس کی واحد وجہ میری کمزور استطاعتِ اظہار تھی۔ جو صحافی، سیاستدان یا سفارتکار ان اشاروں کو سمجھ لیتے تو وہ سارے نجی ملاقاتوں میں میرا مذاق اڑاتے۔

مجھے سمجھانا شروع ہوجاتے کہ فوج بحیثیتِ ادارہ نواز شریف سے ناراض ہے۔ اپنے پہلے دورِ حکومت میں وہ جنرل اسلم بیگ اور آصف نواز مرحوم سے کوئی بہتر تعلقات نہیں بنا پائے تھے۔ دوسرے دورِ حکومت میں انھوں نے جہانگیر کرامت کو استعفیٰ دینے پر مجبور کردیا۔ اگرچہ کرامت کے بعد جنرل مشرف کی تعیناتی ہم سب کے لیے حیران کن تھی مگر اپنی پسند کے لائے ہوئے آرمی چیف کے ساتھ بھی ان کے تعلقات مثالی نہ رہ سکے۔ کارگل نے تو اس وقت کے وزیر اعظم اور عسکری قیادت کے درمیان اختلافات کو پوری دُنیا کے سامنے عیاں کردیا۔ ماضی کی تفصیلات میں مزید گم ہوجانے کے بجائے میں فی الوقت یہ اعتراف کرنا زیادہ ضروری سمجھتا ہوں کہ یومِ عاشور سے چند روز پہلے مجھے اس عرب سفارتکار جس نے نواز شریف کی سعودی عرب جانے کی خبر بتائی تھی یورپ کے ایک ملک سے فون کیا۔ بظاہر وہ مجھ سے معلوم کرنا چاہ رہے تھے کہ جنرل مشرف پاکستان سے کب روانہ ہورہے ہیں ۔ ان کے سوال کرنے کے انداز میں لیکن ایک ’’خبر‘‘ چھپی محسوس ہوئی۔

اتوار کو مگر چوہدری نثار علی خان نے ایک پریس کانفرنس کر ڈالی اور جنرل مشرف کے خلاف آرٹیکل 6کے تحت کارروائی کرنے کے عمل کا آغاز کردیا۔ ایمانداری کی بات تو یہ ہے کہ وزیر داخلہ کی پریس کانفرنس سنتے ہوئے میں نے اپنے تئیں فوراََ یہ فیصلہ کردیا کہ وہ ہم لوگوں کی توجہ راولپنڈی میں یومِ عاشور کے روزپنجاب حکومت کی بے نقاب ہوجانے والی کوتاہیوں سے ہٹانے کے لیے مشرف کا قضیہ لے بیٹھے ہیں۔ مجھے اب یہ اعتراف کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں کہ بالآخر میں غلط ثابت ہوا۔ سپریم کورٹ کو باقاعدہ چٹھی لکھ کر ہائی کورٹ کے تین ججوں پر مشتمل ایک عدالت کی درخواست کردی گئی ہے جو منظور بھی ہوچکی ہے اور اب جنرل مشرف کے خلاف موجود مواد کا جائزہ لے کر اپنا فیصلہ سنائے گی۔ عدالتی عمل ایک حوالے سے شروع ہوچکا ہے۔ ایسے آغاز کے بعد کالم نگاروں کو متوازی عدالت چلانے سے اجتناب برتنا چاہیے۔ تھوڑی دیر انتظار کرلینے میں کیا حرج ہے۔

جنرل مشرف کے خلاف قانونی کارروائی کے ساتھ ہی ساتھ ایک اور اہم واقعہ اصغر خان کیس کی روشنی میں ایف آئی اے کی ایک ٹیم کے قیام کا بھی ہے جو ٹھوس شہادتوں کے ذریعے یہ معلوم کرنے کی کوشش کرے گی کہ 1990ء کے انتخابات میں اپنی پسند کے نتائج حاصل کرنے کے لیے ہمارے کئی نامور سیاستدانوں میں آئی ایس آئی کے ذریعے بھاری رقوم تقسیم ہوئی تھیں یا نہیں۔ جن سیاست دانوں پر یہ الزام لگا ان میں سے کئی اب اس دُنیا میں نہیں رہے۔ محترمہ بے نظیر بھٹو جن کو ان رقوم کے ذریعے اقتدار سے محروم رکھنا مقصود تھا وہ بھی ہمارے درمیان موجود نہیںہے۔ کہا جاتا ہے کہ اصغر خان کیس کے حوالے سے مختلف افراد کو سزا یا جزا ملنے کے امکانات کافی معدوم نظر آتے ہیں۔ مگر اس کیس کی میری نظر میں تاریخی اور علمی حوالوں سے بڑی اہمیت ہے۔ FIAکی تفتیش مکمل ہوجانے کے بعد اگر کچھ لوگوں پر مقدمات چلائے جاتے ہیں تو مرکزی سوال یہ اُٹھے گا کہ کیسے اور کس بنیاد پر ہماری ریاست اور اس کے دائمی اداروں سے تعلق رکھنے والے سول اور فوجی حکمران یہ طے کرلیتے ہیں کہ فلاں سیاست دان یا جماعت ’’قومی مفاد‘‘ کے خلاف کام کررہی ہے اور اسے صاف، شفاف انتخابات کی سہولت فراہم کرنا پاکستان کی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہوگا۔

اس سوال کو مناسب انداز میں اٹھانے کے بعد شاید ہم افتادگانِ خاک بالآخر یہ بھی سمجھ لیں کہ ’’قومی مفاد‘‘ اصل میں ہوتا کیا ہے اور اس کی حدود اور ترجیحات کے تعین کا اختیار کس کے پاس ہے۔ اس سوال کا جواب مل گیا تو پاکستان کے سیاسی اور جمہوری عمل کی ایک بالکل نئی بلکہ انقلابی تعریف اور تعبیر ہمارے سامنے آجائے گی۔ نواز شریف صاحب کو میں نے کئی برس تک صرف ایک ایسا سیاستدان سمجھا جن کا تعلق لاہور کے ایک صنعت کار خاندان سے تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو نے اس خاندان کے کارخانوں کو قومیا لیا تھا۔ جنرل ضیاء نے مارشل لاء لگایا تو یہ خاندان ان کا زبردست مداح بن گیا اور بالآخر پاکستان کی ایک خاص اشرافیہ نے یک جا ہوکر اسی خاندان کے نوازشریف کو بھٹو کی پارٹی اور بیٹی کے مقابلے پر ایک طاقتور سیاسی رہ نما بناکر کھڑا کردیا۔ اپنے اس پسِ منظر کے ساتھ نواز شریف صاحب سے مجھ جیسے شکوک وشبہات کے مارے ایسے اقدامات کی توقع نہیں کررہے تھے جو بالآخر ہمیشہ کے لیے اس ملک کے لیے یہ طے کردیں کہ ہماری ریاست کے لیے فیصلہ سازی کا قطعی اختیار عوام کے منتخب لوگوں کے پاس ہونا چاہیے یا ریاست کے دائمی اداروں کی اشرافیہ کے پاس۔

میری نسل کے لوگ ایوب خان کے آخری دنوں میں اسکول سے کالج پہنچے تو جنرل یحییٰ کو بھگتا۔ کالجوں سے فارغ ہوکر عملی زندگی میں آئے تو جنرل ضیاء کے11سال برداشت کیے اور بالآخر جنرل مشرف کے دس سالوں میں تھک ہار کر ’’اسی تنخواہ‘‘ پر گزارہ کرنے کی عادت سیکھ گئے۔ مجھ جیسے لوگوں کو جنرل مشرف اور اصغر خان کیس کے حوالے سے جو پیش قدمیاں ہورہی ہیں تقریباََ ’’انہونیاں‘‘ نظر آرہی ہیں۔ پژمردہ دلوں میں خوشی کے بجائے اندیشہ ہائے دورودراز نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں۔ رسم دُعا بھول جانے کے باوجود ہاتھ اُٹھ گئے ہیں۔ اس تمنا کے ساتھ کہ جنرل مشرف کے مقدمے اور اصغر خان کیس کے نتائج وہی برآمد ہوں جو بہت دنوں سے مجھ جیسے لوگوں کے دلوں تک ہی محدود رہے ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔