مہنگائی! تجھے کیوں موت نہ آئی؟

ڈاکٹر عامر لیاقت حسین  جمعـء 14 فروری 2020

حیات کے اس متناہی سلسلے میں مٹھاس تھی ہی کہاں؟ سب ہی کچھ تو پھیکا اور ذائقے سے عاری ہے، جفا کے جھٹکوں نے وفا کے نام پر ساتھ دینے والوں کے ایسے ایسے روپ دکھائے ہیں کہ ا رد گرد کے کریہہ مناظر سے بھی اب گھن نہیں آتی۔

ماضی کی یادوں اور مستقبل کے خوف میں ٹھہری آنکھیں اب تو آنسو بہانے سے بھی ڈرتی ہیں کہ کہیں رخسار سے ٹپکتی ہوئی بوندوں کی آواز سے کچی نیند سوئے وہ معصوم بچے جاگ نہ اٹھیں جنھیں بڑی مشکل سے ایک بھوکی ماں نے خالی پیٹ سلایا تھا۔ جھنجھلائے اور اکتائے ہوئے ہر ہم وطن کی ایک الگ ہی داستان ہے مگر قدر مشترک یہ ہے کہ ’’سب ایک ایسا جسد خاکی ہیں جس کا کسی نے خون نچوڑ کر توڑ دیا ہو۔‘‘ وقت کے کینوس پر بکھرے ہوئے رنگ تو ہیں پر ان میں رنگینی نہیں ، بے چین و بے قرار نگاہیں تو ہیں پر دیدہ بینی نہیں۔ یوں لگتا ہے کہ بے حسوں کے اژدھام میں خاموش اجسام صرف موت کے انتظار میں بے سکوت جی رہے ہوں۔

چمک اور رمق سے خالی متفکر چہروں پر بے شمار سوالات ہیں مگر جواب دینے والا کوئی نہیں ، پیشانی پر پریشانی کی گہری لکیروں کے ساتھ ان کہی خواہشیں کلام توکرتی نظر آتی ہیں مگر سننے والا کوئی نہیں۔ اس روکھی ، پھیکی ، بے بو اور بے ذائقہ زندگی میں صرف ’’چینی‘‘ سے مٹھاس تھی کہ ڈیل ڈول والوں نے ’’ڈیل‘‘ کر کے اسے بھی چرا لیا۔

زمینداروں کی ساہوکاروں سے ساجھے داری آج کل کی نہیں، بڑی پرانی بات ہے، مفاد کے تیز دھاری خنجر سے انھوں نے ہمیشہ ضرورتوں کے سینوں پر ’’ناپ تول‘‘ کر وارکیے ۔ گوکہ حکم تو ناپ تول میں احتیاط کا تھا اور ہے لیکن ان کے ترازو صدیوں سے ظلم ناپتے اور جبر تولتے آئے ہیں۔ ان کے اعمال کے گودام ہر بے دام عمل سے بھرے پڑے ہیں لیکن یہ پھر بھی چوڑے چکلے ہو کر ہدایہ بہشت کے منتظر ہیں حالانکہ بہشت کے یہ ہدائے صرف ہدایت والوں کے لیے ہی ہیں۔

رات کی تاریکی میں استبداد کی شرائط پر ’’سفید نعمت‘‘ کاسودا ’’منظور‘‘ کرنے والوں کے دل کس قدر کالے ہو سکتے ہیں یہ تو منڈیر پر بیٹھنے والے اس کوے کو بھی نہیں پتا جس کے پروں سے بہتر سیاہی کی گواہی کوئی اور نہیں دے سکتا۔ ابھی یہ گٹھ جوڑ اورکیا کیا دکھلائے گا دیکھنا باقی ہے ۔ گزشتہ کئی برسوں سے امید کے تصوراتی چراغ میں گمشدہ قسمت ڈھونڈنے والی اس قوم کو نہ جانے ابھی اور کتنے سانحات ، دھچکے اور صدمے سہنے ہیں۔ ہر پڑاؤ پر یہی لگتا ہے کہ منزل آن پہنچی ہے مگر سفر ہے کہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتا۔ شیروانی اور سوٹ میں ملبوس پر عزم شخصیات کی تصاویر دیکھ کر محسوس تو یہ ہوتا ہے کہ اگلے چند مہینوں میں سب ہی کچھ بدل جائے گا اور شاید اسی لیے ہمیں تصویریں اچھی لگتی ہیں کیونکہ وہ بدلتی نہیں لیکن ان تصویروں میں جو لوگ ہوتے ہیں وہ اکثر بدل جاتے ہیں۔

ایک شکر کے معاملے پر یہ ’’ناشکرے‘‘ اس قدر جلد منہ موڑ لیں گے یہ سوال اور استعجاب ہمارا نہیں بلکہ جہنم کے شعلوں میں گھرے اس سامری کا ہے جس نے طور پر سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے جاتے ہی توحید سے منہ پھیرکے گوسالہ بنا کر اس کی پوجا شروع کردی تھی، وہ حیران ہے کہ اسے بدلنے میں دس دن اور گیارہ راتیں لگی تھیں لیکن یہاں تو ذخیرہ اندوزوں کے گودام پر چھاپوں کا ’’ سوئم ‘‘ہی ہوا تھا کہ سوگ توڑ کر خوشی کے شادیانے بجا دیے گئے۔ اب تو گرفت ہے نہ سزا۔ ہاں جزا ہی جزا مزا ہی مزا ۔ دل کے کڑوؤں نے کردار کے میٹھوں کو اس بری طرح لوٹا ہے کہ اب شکر کے اس نگر میں تیکھے دکھوں کی لذت قیام کرتی ہے۔

ہم نے مانگا ہی کیا تھا اور ہمیں ملا ہی کیا ہے؟ امن مانگا تھا تباہی ملی، سکون چاہا تھا بے یقینی ملی، روزگار مانگا تھا بھیک ملی، اناج مانگا تھا احتیاج ملا، بجلی اور پانی کی التجا کی تھی، پیاس اور اندھیروں نے آواز دبائی آخر کار تھک ہار کے صرف شکر مانگ لی تھی اس پر بھی ایسی اکڑ ملی کہ قیمت نہ گھٹانے کے فخریہ اعلانات کرکے قوت برداشت کی لاش پر فاتحانہ بھنگڑے ڈالے گئے۔ کاش کہ ایمان کے ان لنگڑوں سے کوئی پوچھ سکتا کہ جب اس کی بارگاہ میں عیب دار جانورکی قربانی قبول نہیں تو یہ لنگڑاتے ہوئے انسان میدان حشر میں کھڑے ہی کیسے ہوں گے؟

آج ایک کلو چینی کی قیمت غریب کی جیب پر اس قدر بھاری ہے کہ اس میں ’’ دو چینی‘‘ آجائیں مگر مجال ہے کہ ذخیرہ اندوزوں کی مٹھاس میں ذرہ برابر بھی فرق آیا ہو۔ان مختل حواسوں کو اس بات کی قطعاً فکر نہیں کہ عام انسان پر اس ہوش ربا قیمت کا کیا اثر پڑتا ہے اور کس طرح اس کی لگی بندھی امیدیں تار تار ہوجاتی ہیں۔ بس قصر و ایوان میں پیالیاں کھنکتی رہیں اور شکر دان میں چینی منتظر رہے کہ کب امرا و وزراء اس کے دانوں کو گھول کر اسے شرف  قبولیت عطا کریں گے اور کچھ اسے دیکھ کر ناک بھوں چڑھاتے ہوئے خادم سے پر غرور انداز میں یہ سوال کریں گے کہ ’’ ٹرے میں صرف شکر؟ اسکرین کہاں ہے؟ ‘‘ جانتے نہیں کہ ہم نازک انداموں کو ’’شکر کی بیماری‘‘ ہے ، ڈاکٹرز نے منع کیا ہے کہ ہم اس سفید زہرکے قریب بھی نہ جائیں، جاؤ اور وہ ڈبیہ لے آؤ جس میں موجود گولیاں ہم بھانت بھانت کی بولیاں بولنے والوں کے Glucose Levelکو متوازن رکھتی ہیں۔

اب ایسوں سے کیا شکوہ جو جسم کے اندر تو شکر سنبھال نہیں سکتے، باہر اس کی قیمت کیا سنبھالیں گے؟ بن داموں بکے ہوئے بدناموں سے یہ توقع رکھنا ہی بے کار ہے کہ ہماری تقدیر کی سلوٹیں دیکھ کر وہ رات بھر کروٹیں بدلتے رہتے ہیں، یہ صرف اپنی فکر میں جیتے ہیں اور جینے ہی کی فکر میں مرتے ہیں، ہمارے غموں اور پرنم نگاہوں میں ا ن کے لیے کچھ بھی تو نہیں، کاش کہ آنسو نمکین نہ ہوتے، میٹھے ہوتے! کم از کم ہم ان ہی کو زیست کے پیالے میں گھول کر سانسوں کا یہ کسیلا جام پی لیتے۔ بہرحال جینا تو ہے، ا ن ہی بے حسوں کے ساتھ جہاں عشائیے، استقبالیے، ملاقاتیں اور دوروں کے وہ دور چلتے ہیں کہ رنگون کے مقبرے میں بہادر شاہ ظفر کی روح ایک بار بخت خان کو مخاطب کرکے یہ ضرورکہتی ہو گی ’’ اے سپہ سالار ! ہم اتنے برے بھی نہ تھے‘‘۔

نہ جانے خوشامدیوں کا یہ دور کب ختم ہوگا؟ نہ جانے قرضہ دینے والے آقاؤں کو خوش کرنے کے لیے یہ ابھی اورکتنے پاکستانی غلاموں کی بلی چڑھائیں گے اور نہ جانے اس نقار خانے میں ابھی اورکتنی چیخیں سننا باقی ہیں۔میں حیران ہوں کہ کھڑکیوں کے باہر سے ا نہیں جھڑکیوں کی آوازیں کیوں سنائی نہیں دے رہیں؟ میں مضطرب ہوں کہ بپھرے ہوئے عوام کا غضب ا نہیں نظر کیوں نہیں آتا؟ اپوزیشن میں رہ کر عوام کا درد سمجھنے کا دعویٰ کرنے والے یہ رہبر، عشرت کدوں کی رنگینیوں میں گم ہوکر فطرت عباد سے منحرف کیوں ہوجاتے ہیں؟ کیوں ا نہیں درد نہیں ہوتا؟ کیوں ا ن کی پلکیں نہیں بھیگتیں؟

اقتدار کے میٹھے پر ندیدوں کی طرح بھنبھنانے والے یہ کیوں نہیں جان لیتے کہ میٹھے پر کچھ دیر بیٹھنے سے دائمی ملکیت کا اعلان ہوسکتا ہے نہ اطمینان۔ا دھر ’’حفاظت کرنے والوں‘‘ کی نگاہ پڑنے کی دیر ہے ، ادھر ہاتھ پڑتے ہی سب ا ڑ جاتے ہیں اور میرا خیال ہے کہ نگاہ ڈالنے کا وقت قریب آن پہنچا ہے ، لوگ کہتے ہیں کہ نیتوں کے پاس اب بھی وقت ہے یا تو عزت سے پرواز بھر لیں یا پھر جبری پرواز کے لیے تیار رہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔