چور کی تلاش

سعد اللہ جان برق  ہفتہ 15 فروری 2020

تازہ ترین خبروں اور تجزیوں کیلئے سبسکرائب کریں

سیچویشن کچھ ایسی ہے کہ اگر ہم پرانے زمانے میں ہوتے تو یا تو ہمیں رونا پڑتا اور یا ہنسنا پڑتا لیکن یہ پرانا زمانہ نہیں نیازمانہ ہے بلکہ کچھ زیادہ ہی ’’نیا‘‘زمانہ ہے یعنی نئے سے بھی کچھ آگے۔’’کچا‘‘سمجھ لیجیے جیسے ’’چوزہ‘‘ابھی ابھی انڈے سے نکل رہاہو، نیمے درون ونیمے بیرون مثلاً نیاپاکستان تعمیر ہوچکاہے صرف ہاوس وارمنگ کا انتظار ہے۔

تبدیلی آچکی ہے لیکن ابھی اس نے اپنا ’’بقیہ‘‘کھولا نہیں ہے، ریاست مدینہ کے ان نام نہاد دعویداروں کی بدولت یہ موجودہ ریاست ناپرسان نمبردو بن چکی ہے لیکن ابھی لانچ ہورہی ہے چنانچہ اس نئے نویلے بلکہ انڈرکنٹسرکشن زمانے میں ہم نہ ہنس سکتے ہیں نہ رو سکتے ہیں کہ ایک تو ہم ہنسنا بھول چکے  ہیں، رہا رونا۔تو وہ ہمارا’’بند‘‘کب ہوا ہے کہ شروع کیاجائے، پانی میں پانی ڈالنے، سفید میں سفید اور کالے میں کالا ڈالنے والی بات ہے یا بقول حمزہ شنواری، تم نے حمزہ کو وعدے کے اوپر وعدہ دیکر کیا نئی بات کی ہے۔

شاید آپ کی سمجھ میں کچھ نہ آرہاہو ہماری بھی سمجھ میں کچھ نہیں آرہاہے کہ کیاکہیں کیا کہنا چاہیے اور کیا کہہ رہے ہیں، یعنی کوئی بتلاؤ کہ ہم بتلائیں کیا۔کوئی مجھ کو یہ تو سمجھائے کہ سمجھائیں گے کیا؟ مطلب کہ یہ روزانہ جو ہمارا کچھ نہ کچھ’’گم‘‘ہوجاتا ہے، غائب ہوجاتا ہے چوری ہوجاتا ہے، یہ معاملہ کیا ہے؟۔

پہلے توصرف ہمارے گھر سے ’’پیسے‘‘چوری ہو رہے تھے یعنی نقدی چرائی جا رہی تھی لیکن اب چیزیں بھی غائب ہو رہی ہیں، گم ہو رہی ہیں چوری ہو رہی ہیں۔کبھی بجلی،کبھی گیس کبھی پیٹرولیم، کبھی آٹا، کبھی آلو، کبھی ٹماٹر، کبھی پیاز۔کون ہے یہ چور کہاں سے آتا ہے کہاں جاتا ہے اور کہاں لے جاتا ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ دکھائی بھی نہیں دیتا، سنائی بھی نہیں دیتا اور پکڑائی بھی نہیں دیتا۔بلکہ اب تو ہمیں کچھ ایسی ہی تشویش ہونے لگی ہے جو ایک جیل کے جیلرکو لاحق ہوگئی تھی۔اس کی جیل میں ایک قیدی تھا۔

ایک بار اس کا آپریشن ہوا تو اپنڈکس نکالا گیا ’’پھر ’’پتے‘‘کا آپریشن ہوا وہ بھی نکالا گیا ۔کچھ دنوں بعد اس کی ٹانگ کاٹ دی گئی۔پھرایک ہاتھ۔اور اب پھر اس کے ’’سر‘‘میں درد ہورہاتھا۔ اسے اسپتال لے جاتے وقت جیلر نے اپنے ماتحت سے تشویشناک لہجے میں کہا، مجھے کچھ شبہ سا ہورہاہے کہ یہ قیدی کہیں ’’قسطوں‘‘میں جیل سے فرارتو نہیں ہورہا ہے۔ہمیں بھی ایسی ہی  تشویش ہورہی ہے جو خداکرے غلط ہو لیکن یہ کیا کہ کبھی یہ غائب کبھی وہ غائب۔کہیں ایسا نہ ہو کہ کسی دن سارا گھر ہی غائب یا چوری نہ ہوجائے۔یوں کہ ہم رات کو اپنے گھر میں سوئیں اور صبح کسی دوسرے گھر میں جاگیں۔

پہلے ہرچیز تھی اپنی جگہ اب لگتاہے

اپنے ہی گھر میں کسی دوسرے کے ہم ہیں

یہ ماجرا آخرکیا ہے اور یہ چور کون ہے یا ہیں۔  جہاں تک ہمارے اپنے گھروالوں کا تعلق ہے تو وہ تو خدا کے کرم سے امریکا کی آشیرباد سے آئی ایم ایف کی مدد سے ’’اداروں‘‘کی مہربانی سے اور عوام کی حماقت سے، سارے کے سارے’’صادق وامین‘‘ہیں۔وزیران کرام، مشیران عظام، معاونین طعام اور نمایندگان عوام۔ نہایت ہی دیانتدار،ایماندار،امانت دار ہیں اور ہرشک وشبے سے بالا ہیں،زرشناس خودشناس،مواقعے شناس ہیں۔ توپھر کون ہے آخر۔ یہ ’’چور‘‘؟جو بس چرائے جارہا ہے چرائے جارہاہے، غائب کیے جارہاہے، گم کیے جا رہا ہے۔اب تک اتنی زیادہ تشویش کی بات اس لیے نہیں تھی کہ چھوٹی چھوٹی اشیائے ضرورت چرا لیتا تھا۔

ہم سمجھتے تھے کہ چلو ہم سے زیادہ ضرورت مند اور مستحق ہوگا ویسے بھی ہمارا بھرا پرا گھر ہے کسی چیز کی کوئی کمی نہیں ہے، ہم بے شمار چلتے پھرتے تیل کے کنوؤں کے مالک ہیں، طرح طرح کے جانوروں کے ہمارے پاس بڑے بڑے ریوڑ ہیں جو دودھ بھی دیتے ہیں انڈے بھی دیتے ہیں جو اون بھی دیتے ہیں گوشت اور کھالیں بھی۔اگر کسی چوزے نے تھوڑا سا کچھ چرالیا توگل بخشی۔ لیکن اب جو ہم نے اس معاملے یا وارداتوں پرمحققانہ نظر ڈالی تو تشویش لاحق ہوگئی۔یہ چوریاں ایک خاص ترتیب سے ہورہی ہیں جو مسلسل ترقی پذیرہیں۔پہلے بجلی چرائی تو باورچی خانے میں اندھیرا ہوگیا۔ پھر گیس۔تو چولہے ٹھنڈے پڑگئے۔چولہے جلانے کا کچھ ہم نے بندوبست کیا۔

کھانا پکانے والی سبزیاں آلو ٹماٹر چرائے گئے۔چلو سبزی ترکاری نہ سہی روکھی سوکھی کھالیں گے؟تو اس نے روکھی سوکھی کا سرچشمہ آٹا ہی غائب کردیا،شاید اس کے بعد پانی کی باری ہے کہ ہمیں بھوکا پیاسا مارنا مقصود تھا۔لیکن جب اس نے دیکھا کہ ہم نے دو نمبر ریاست اور فردوس نمبر دو تعمیر کردی۔جہاں ان چیزوں کی کوئی ضرورت ہی نہیں جو یہ کم بخت چرا گیا تھا۔بھلا ریاست اور فردوس بریں میں ان چھوٹی چھوٹی چیزوں کا کیا کام اور کیاضرورت؟ اس لیے اب ہمیں تشویش ہے ہم ڈر رہے ہیں اور سوچ رہے ہیں کہ کہیں یہ بھی اپنا طریقہ واردات تبدیل کرکے پوری ریاست اور فردوس بریں پر ہی ہاتھ ڈال نہ دے۔ اس سے پہلے کہ یہ چور کچھ ایسا ویسا کردے ہمیں اس کا پتہ لگانا اور کیفرکردار تک پہنچانا چاہیے۔

زاں پیشتر کہ بانگ برآئد فلاں نماند

اب تک کی تحقیق سے ہمیں جو معلومات حاصل ہوئی ہیں وہ سب کے سب اس بیرونی ہاتھ کی طرف اشارہ کررہی ہیں جن کا ذکر ہم سنتے رہے ہیں جو ابتدا ہی سے ہمارے درپے ہے، اس نے ہمارے وزیراعظموں کو قتل کیا مصنوعی بحران پیداکیے چیزیں غائب کیں۔ دھماکے کیے،دہشت گردیاں سیاست گردیاں، وزیر گردیاں،حکومت گردیاں اور نہ جانے کیاکیا ’’گردیاں‘‘ پیدا کیں بلکہ ہمارے خزانوں تک میں نقب زنی کی۔ نہ جانے کہاں سے ایک کرپشن نام کی بلا لاکر ہم پر چھوڑی۔لیکن بس بہت ہوگیاہے اب ہمیں اپنے اس ’’آہنی ہاتھ‘‘کو اٹھالینا چاہیے ذرا ستر سال پڑا پڑا زنگ آلود ہوگیا ہے لیکن کوئی بات نہیں ذرا ریگ مال کرنے پر ورکنگ آرڈر میں ہوجائے گا۔لیکن اس مقام پرہمیں  ایک اور تشویش لاحق ہونے لگی ہے کہیں اس بدبخت نے ہمارا وہ آہنی ہاتھ بھی نہ چرالیا ہو یا اس کی بیٹری اور پرزے وغیرہ چوری نہ کیے ہوں

پلٹ کے سوئے چمن دیکھنے سے کیا حاصل

وہ شاخ ہی نہ رہی جو تھی آشیاں کے لیے

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔