کوما میں بے ہوش رہنے والے مریضوں کو جگانا ممکن

ویب ڈیسک  ہفتہ 15 فروری 2020
ماہرین نے دماغ میں ایک حصہ دریافت کیا ہے جو شعور سے وابستہ ہے اور لوگوں میں ہوش اور بے ہوشی کی وجہ بن سکتا ہے (فوٹو: یونیورسٹی آف وسکانسن)

ماہرین نے دماغ میں ایک حصہ دریافت کیا ہے جو شعور سے وابستہ ہے اور لوگوں میں ہوش اور بے ہوشی کی وجہ بن سکتا ہے (فوٹو: یونیورسٹی آف وسکانسن)

میڈی سن: اب سے چند ماہ قبل ایک ماہر نے حرام مغز میں نیا دماغی گوشہ دریافت کیا تھا اور اب تازہ خبر یہ ہے کہ دماغ کی گہرائی میں ایک گوشے کے متعلق معلوم ہوا ہے کہ یہ ’شعور کا سوئچ‘ ہے جسے بجلی کی ہلکی مقدار سے سرگرم کیا جاسکتا ہے۔

اکیسویں صدی کی ہوشربا ترقی کے باوجود اب بھی ہم دماغ کے گوشوں سے واقف نہیں۔ اس ضمن میں یونیورسٹی آف وسکانسن، میڈیسن کے سائنس دانوں نے مکاک بندروں پر دلچسپ تجربات کیے ہیں جس کی تفصیلات جرنل نیورون میں شائع ہوئی ہیں۔ انہوں نے دوا کے ذریعے بے ہوش کیے گئے بندروں کے ایک دماغی گوشے سینٹرل لیٹرل تھیلیمس پر 50 ہرٹز کی فریکوئنسی کی بجلی کی جھماکے دیئے تو وہ مکمل طور پر نارمل ہوکر بیدار ہوگئے۔

تھیلیمس کا گوشہ دماغی جڑ یا اسٹیم کے پاس واقع ہوتا ہے اور یہ سونے، جاگنے، ہوش میں رکھنے اور چاق و چوبند بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے لیکن اس تجربے نے ہمیں بتایا کہ آخر دماغ کا وہ کونسا حصہ ہے جو بیداری اور شعور میں اپنا اہم کردار ادا کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تحقیق میں استعمال ہونے والے برقیرے یعنی الیکٹروڈز خاص طور پر ڈیزائن کیے گئے تھے۔

تحقیق میں اہم کردار ادا کرنے والے پروفیسر یوری سالمان نے کہا کہ دماغ کے اس باریک سے حصے کو ہم نے عین قدرتی انداز میں بجلی فراہم کی تو جانور جاگ گئے اور جیسے ہی دماغ میں سرگرمی روکی گئی وہ فوری طور پر بے ہوش ہوگئے۔

توقع ہے کہ اس دریافت کے بعد نہ صرف طویل عرصے تک کوما میں بے ہوش رہنے والے مریضوں کو جگانا ممکن ہوگا بلکہ لوگوں کو چاق و چوبند رکھنے والے آلات بھی تیار کیے جاسکیں گے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔