ایک اچھی خبر

نسیم انجم  اتوار 16 فروری 2020
nasim.anjum27@gmail.com

[email protected]

ہرکام حکومت کے نہیں بلکہ عوام کے بھی ہوتے ہیں۔ اسی حوالے سے ایک بڑی اچھی خبر سننے کو ملی کہ اب دکانیں صبح آٹھ، نو بجے کے درمیان کھل جایا کریں گی اور گزشتہ دنوں اس خبر کو حقیقت بنتے ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا، عجیب و غریب ماجرا تھا صبح کی ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا اپنی تازگی کے ساتھ ہر سُو رقص کر رہی تھی اور چائے خانوں پر گرم گرم چائے اور پراٹھے اپنی مخصوص خوشبو کے ساتھ بنائے جا رہے تھے۔

مزید حیرت کی بات یہ تھی کہ دکانوں اور ہوٹلوں پر گاہک بھی کھڑے نظر آئے ایک لمحے کو گمان گزرا کہ یہ انسان ہیں یا فرشتے چونکہ پاکستانی قوم تو اس وقت خواب خرگوش کے مزے لے رہی ہوتی ہے اور دل فریب خوابوں کی سیر کو نکل جاتی ہے۔

سوائے ملازمت پیشہ افراد کے وہ بھی پرائیویٹ اداروں میں کام کرنیوالے یا پھر طالبعلم، تاجر برادری اور سرکاری ملازمین سالہا سال سے صبح کے دل کش مناظر سے محروم ہیں جب کہ اسلامی اقدار اور تعلیم سے دوسرے فائدے اٹھا رہے ہیں۔ کسی چیز کی ضرورت ہو تو مارکیٹیں اور جنرل اسٹور بند نظر آتے ہیں سڑکیں سنسان اور شہر ویران، ٹریفک بھی نہ ہونے کے برابر، ان حالات میں پریشانی لاحق ہوتی ہے کہ کب دکانیں کھلیں اور اپنی اشیا ضروریہ خرید سکیں، انتظار کی کوفت اور چیزوں سے محرومی انسان کو چڑچڑا بنا دیتی ہے۔

ماہ رمضان میں تو حالات مزید سنگین ہو جاتے ہیں، سحری کھا کر ایسا سوتے ہیں کہ رہے نام اللہ کا، کچھ کا تو یہ عالم ہوتا ہے کہ افطار کے وقت ہی آنکھیں کھولتے ہیں اور افطار کے ساتھ ہی ساری نمازیں بغیر ڈکار لیے ہضم کر جاتے ہیں۔

پچھتاوا اور نہ اس بات کا عزم کہ قضا نمازیں بعد میں پڑھ لیں گے، بس اپنی دکانوں پر بھاگنے کی جلدی ہوتی ہے کہ بعد مغرب بازار گرم ہوتا جاتا ہے اور خوب سیل ہوتی ہے کہ وارے نیارے ہوجاتے ہیں اور وقت سحر تک یہ سلسلہ چلتا رہتا ہے اور پھر اذانوں کے وقت غنودگی طاری ہو جاتی ہے، موذن کی آواز کانوں میں پڑتی ہے حی علی الصلوٰۃ، حی علی الفلاح مگر انھیں تو صلوٰۃ اور فلاح کے معانی ہی نہیں معلوم اگر معلوم بھی ہیں تو مسٹر شیطان کانوں میں ایسا امرت ٹپکاتا ہے کہ عقل مفلوج ہو جاتی ہے اور موذن باآواز بلند لاؤڈ اسپیکر میں ’’الصلوٰۃ خیر من النوم‘‘ نماز نیند سے بہتر ہے مگر بدقسمتی یہ کہ نیند کا خمار صدا سے ذرا دور ہی رکھتا ہے۔

قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے کم تولنے اور ملاوٹ کرنے والوں کو سخت سزا سنائی ہے۔ اللہ کے نبی حضرت محمد ﷺ نے فرمایا کہ منافقوں پر صبح اور عشا کی نماز بہت بھاری ہوتی ہے قرآن و احادیث میں صبح اٹھنے کے بے شمار فوائد بیان کیے گئے ہیں، سائنس دان چودہ سو صدی گزرنے کے بعد سائنسی نقطہ نگاہ سے فائدوں کا انکشاف کر رہے ہیں۔

آج کے زمانے میں مسائل اور بیماریاں نئے نئے ناموں کے ساتھ سامنے آتی ہیں صبح خیزی اور سہانا موسم، تازہ ہوا انسان کو دماغی اور ذہنی طور پر صحت مند رکھتی ہے نماز فجر، صبح صادق و کاذب کے وقت رحمتوں کا نزول اور دعاؤں کے مستجاب ہونے کا وقت ہے اگر کسی کی دعا مقبول نہ ہو رہی ہو تو اسے نماز تہجد کا اہتمام ضرور کرنا چاہیے۔

سیدنا عبادہ بن سامتؓ نبیؐ سے روایت کرتے ہیں کہ آپؐ نے فرمایا کہ جو شخص رات کو اٹھے اور کہے (ترجمہ) ’’اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ ایک ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کی بادشاہت ہے اور اسی کی تعریف ہے وہ ہر چیز پر قادر ہے، اللہ ہی کے لیے ہر طرح کی تعریف ہے، اللہ تعالیٰ پاک ہے اور اللہ بہت بڑا ہے، طاقت و قوت کسی میں نہیں مگر اللہ کی مدد سے۔‘‘ اس کے بعد کہے الھم اغفرلی، اے اللہ! میرے گناہ معاف کردے یا کوئی اور دعا کرے تو اس کی دعا مقبول کر لی جائے گی پھر وضو کرکے نماز پڑھے تو اس کی نماز مقبول ہوگی۔

کسی زمانے میں امتحانی پرچوں میں مضامین لکھنے کے لیے یہ موضوعات دیے جاتے تھے صبح کی سیر، ورزش کے فائدے، حب الوطنی وغیرہ وغیرہ۔ طلبا گزشتہ ستر سالوں کے پرچوں کو دیکھتے ہوئے خوب اچھی طرح تیاری کرتے تھے۔ ساتھ میں نفع بخش پہلوؤں کو پلو میں باندھ لیتے اور نماز پڑھنے کے لیے بیدار ہو جاتے اور نوجوانوں کی ٹولیاں مساجد کا اور بچے، بوڑھے بعد نماز پارکوں کا رخ کرتے، شبنم سے نکھری ہوئی گھاس پر چہل قدمی کرتے، پھولوں اور ڈالیوں پر شبنم کے قطروں سے آنکھوں کو ٹھنڈک پہنچاتے اور ہواؤں کے ساتھ جھومتے اشجار تلے بیٹھ کر گپ شپ کرتے، لیکن زمانے نے کروٹ لی کہاں کی سیر اور کیسے پارک؟ اب تو فائرنگ اور سر راہ لٹنے کا خطرہ گو کہ صبح کے وقت مال و اسباب تو نہیں ہوتا ہاں البتہ موبائل، تھوڑی سی نقدی اور ہاتھ میں گھڑی ہوتی ہے، چور اچکے اس پر ہی اکتفا کرتے ہیں مالی نقصان کم لیکن جانی نقصان زیادہ ہو جاتا ہے۔

دھکم پیل ہو جاتی ہے اور اگر پولیس کو بھنک پڑ جائے تب وہ سیدھی فائرنگ شروع کردیتے ہیں اور بے چارے شہری زد میں آجاتے ہیں۔ ان حالات کے تحت لوگوں نے موسموں کے مزے لینے چھوڑ دیے ہیں اور اکثریت نے صبح کی سیر کو ترک کردیا ہے جب کہ علامہ اقبال فطرت کے نظاروں کو دیکھنے اور ان سے لطف اٹھانے کے لیے حضرت انسان کو راغب کر رہے ہیں اور انسان بھی وہ جو جنت سے نکالا گیا ہے اپنی ایک نظم روح ارضی ظہور آدم کا خیر مقدم کرتی ہے، میں اقبال اس طرح مخاطب ہیں:

کھول آنکھ زمیں دیکھ فلک دیکھ فضا دیکھ

مشرق سے ابھرتے ہوئے سورج کو ذرا دیکھ

اس جلوہ بے پردہ کو پردوں میں چھپا دیکھ

ایام جدائی کے ستم دیکھ جفا دیکھ

ہمارے تاجر بھائی طلبا و طالبات خصوصاً وقت کی اہمیت سے ناواقف اور اپنے سود و زیاں سے بے پرواہ نیٹ پر صبح و شام بسر کر رہے ہیں لوگوں کو موبائل سے فرصت کہاں صبح و شام فیس بک پر مصروف، سوشل میڈیا پر متحرک اور اپنے مستقبل سے بے خبر، دنیا جہاں کی خبر رکھتے ہیں لیکن نہیں واقف ہیں تو اپنی ہی خبروں سے، اگر اپنی اور اپنے گھر والوں کی فکر ہوتی تو آج عمارات کا انہدام ہرگز نہ ہوتا، پہلے ہی سے تدارک کی ضرورت تھی کہ ریل کی پٹری پر بنائی ہوئی غیر قانونی بلڈنگوں کا ایک دن ضرور یہی انجام ہونا ہے، کانوں میں تیل ڈال کر بیٹھنے والے غور و فکر کرنے سے عاری ہوتے ہیں وقتی طور پر فائدہ ہو جاتا ہے کم پیسوں میں جائیداد مل جاتی ہے لیکن یہ نہیں سوچتے کہ جتنی چادر اتنے ہی پیر پھیلائیں جو آپ کی اوقات یا مال و زر ہے اسی حساب سے ایمانداری کو مدنظر رکھتے ہوئے کام کریں تو اللہ اس میں ضرور برکت دے گا، رات کا بھولا دن کو گھر آجائے تو اسے بھولا نہیں کہتے۔

انشا اللہ حالات بدلیں گے اور لوگ صبح سویرے اٹھ کر نماز فجر کی ادائیگی کے بعد کاروبار زندگی کی راہ پر قدم رکھیں گے اور شام چھ سات بجے بازار بند ہو جائیں گے اس طرح قوم کے مزاج میں بھی تبدیلی رونما ہوگی۔ انشا اللہ۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔