ہنگو میں 9 سالہ بچی زیادتی کے بعد قتل، لاش جنگل سے ملی

اسٹاف رپورٹر  اتوار 16 فروری 2020
سفاک ملزم نے بچی کا گلا بھی دبایا جب کہ جسم پر تشدد کے نشانات بھی موجود ہیں، ابتدائی رپورٹ (فوٹو : فائل)

سفاک ملزم نے بچی کا گلا بھی دبایا جب کہ جسم پر تشدد کے نشانات بھی موجود ہیں، ابتدائی رپورٹ (فوٹو : فائل)

پشاور: ہنگو میں 9 سالہ بچی کو زیادتی کے بعد قتل کردیا گیا، آئی جی نے مجرموں کی فوری گرفتاری کے لیے تجربہ کار افسران کی ٹیم تشکیل دینے کی ہدایت کردی۔

ایکسپریس کے مطابق ہنگو میں کمسن 9 سالہ مدیحہ لاپتا ہوگئی تھی جس کی لاش جنگل سے ملی۔ بچی کی ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ موصول ہوگئی جس کے مطابق مدیحہ کو جنسی زیادتی کے بعد پیچھے سے فائرنگ کرکے قتل کر دیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق سفاک ملزم نے بچی کا گلا بھی دبایا جب کہ جسم پر تشدد کے نشانات بھی موجود ہیں، لاش کے چند نمونے لیبارٹری کو بھیج دیے گئے ہیں حتمی رپورٹ 24 گھنٹوں میں سامنے آجائے گی۔

ڈاکٹر اسرار حسین نے بتایا کہ بچی کی لاش ساری رات جنگل میں پڑی رہنے کی وجہ سے جسم سخت ہوگیا اس لیے رپورٹ میں مشکلات سامنے آئیں۔

یہ پڑھیں: کے پی کے: 5 سال میں 25 بچے زیادتی کے بعد قتل، 80 فیصد ملزمان رہا

آئی جی خیبر پختونخوا ڈاکٹر ثناء اللہ عباسی نے کمسن مدیحہ سے زیادتی و قتل کا نوٹس لیتے ہوئے ڈی آئی جی کوہاٹ اور ڈی پی او ہنگو کو مجرموں کو فوری گرفتاری کے لیے تجربہ کار افسران کی ٹیم تشکیل دینے کا حکم دے دیا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔