ملبے میں بُرادہ اور پانی ملائیں، دوبارہ بلڈنگ بنائیں

ویب ڈیسک  پير 17 فروری 2020
جاپانی ماہرین نے عمارتی ملبے کو دوبارہ قابلِ استعمال بنانے کا ایک نیا طریقہ وضع کیا ہے (فوٹو: ٹوکیو یونیورسٹی)

جاپانی ماہرین نے عمارتی ملبے کو دوبارہ قابلِ استعمال بنانے کا ایک نیا طریقہ وضع کیا ہے (فوٹو: ٹوکیو یونیورسٹی)

ٹوکیو: سائنس دانوں نے دنیا بھر میں پیدا ہونے والے عمارتی ملبے کو استعمال کے قابل بنانے کے لیے ایک سادہ سا نسخہ پیش کیا ہے جس کے تحت لکڑی کا بُرادہ اور پانی ملاکر اسے دوبارہ کنکریٹ کی صورت میں ڈھالا جاسکتا ہے۔

ٹوکیو کے انسٹی ٹیوٹ آف انڈسٹریل سائنس کے ماہرین نے ایک طریقہ وضع کیا ہے جس سے تحت ٹوٹی ہوئی عمارتوں کے فالتو کنکریٹ کو دوبارہ قابلِ استعمال بنایا جاسکتا ہے۔ پوری دنیا میں ہر سال لگ بھگ 1.3 ارب ٹن عمارتی ملبہ پیدا ہوتا ہے جسے ماحول دوست طریقے سے دوبارہ استعمال کیا جاسکتا ہے۔ خود مغربی ممالک میں یہ مسئلہ بہت گھمبیر ہے جہاں آئے دن پرانی عمارات منہدم کرکے نئی عمارات بنائی جاتی ہیں۔

اگرچہ ایک طریقہ موجود ہے جس کے تحت عمارتی ملبے کو 1500 درجے سینٹی گریڈ پر گرم کیا جاتا ہے لیکن اس میں وقت لگتا ہے اور توانائی صرف ہوتی ہے۔

جامعہ ٹوکیو کی جانب سے جو نیا طریقہ متعارف  کرایا گیا ہے اس میں ملبے کو پیسا جاتا ہے اور اس میں پانی اور لکڑی کا چورا ملا کر اسے ملغوبے کو 160 درجے سینٹی گریڈ پر گرم کیا جاتا ہے بعد ازاں اس ملبے کو چیمبر میں پانچ ایٹماسفیئر کے برابر دباؤ پر رکھا جاتا ہے۔

اس طرح حاصل ہونے والا مٹیریل عین کنکریٹ کی طرح مضبوط ہوتا ہے اور دوبارہ استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اس میں پودوں اور لکڑی دار درختوں کے اندر استعمال ہونے والا ایک مرکب لائگنن بھی ملایا گیا ہے۔

ٹوکیو یونیورسٹی کے ماہرین کے مطابق اگرچہ اس سے بلند عمارتیں نہیں بنائی جاسکتیں لیکن یہ دیواروں، پارکنگ کے ستون اور چبوتروں کی تعمیرمیں استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اسی طرح یہ عمل پناہ گزینوں یا آفات والے علاقوں میں عارضی گھروں کی تعمیر میں بھی مددگار رہے گا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔