وی لاگر عرفان جونیجو نے یوٹیوب چینل چھوڑنے کی وجہ بتا دی

ویب ڈیسک  پير 17 فروری 2020
یوٹیوب چھوڑنے کے فیصلے پر کسی بھی ایوارڈ شو کا کوئی بھی عمل دخل نہیں، عرفان جونیجو (فوٹو: فائل)

یوٹیوب چھوڑنے کے فیصلے پر کسی بھی ایوارڈ شو کا کوئی بھی عمل دخل نہیں، عرفان جونیجو (فوٹو: فائل)

 کراچی: مقبول وی لاگر عرفان جونیجو نے بالآخر یوٹیوب چینل چھوڑنے کی وجہ بتادی اور کہا ہے کہ میں کچھ وقت کے لیے یوٹیوب سے دور رہنا چاہتا ہوں تاکہ اپنی صحت پر توجہ دے سکوں۔

چند روز قبل نوجوان وی لاگر نے اپنا یوٹیوب چینل چھوڑنے کا اعلان کیا تھا جس کے بعد سے قیاس آرائیوں کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا، بہت سے لوگوں نے عرفان کے یوٹیوب سے کنارہ کشی کرنے کی وجہ پاکستان انٹرنیشنل اسکرین ایوارڈ میں بہترین وی لاگر کا اعزاز نہ ملنے کو قرار دیا جب کہ کچھ  صارفین نے یہ بھی کہا کہ عرفان اب بطور ہدایت کار یا پروڈیوسر سامنے آئیں گے تاہم اب خود عرفان نے میدان میں آکر تمام تر افواہوں کی تردید کردی۔

عرفان جونیجو نے انسٹا گرام اکاؤنٹ پر لب کشائی کی ہے کہ گزشتہ چند روز میں مجھے وصول ہونے والے پیغام پر میں آپ سب کا مشکور ہوں، میں خوش نصیب ہوں کہ مجھے محبت کرنے والے لوگ ملے، میں تمام لوگوں کے پیغام پر فرداً فرداً جواب نہیں دے سکتا اس لیے اسٹوری کے ذریعے اپنی بات بتانا چاہتا ہوں۔

عرفان نے کہا کہ یوٹیوب چھوڑنے کے فیصلے پر کسی بھی ایوارڈ شو کا کوئی عمل دخل نہیں، درحقیقت میں کوئی بھولا بھالا یا جذباتی شخص نہیں ہوں، دراصل میں یوٹیوب سے کچھ وقت کے لیے دور رہنا چاہتا ہوں تاکہ اپنی صحت پر توجہ دے سکوں۔

وی لاگر نے یہ بھی کہا کہ میں ایسی چیزوں کے ساتھ بہت جلد واپس آؤں گا جو مجھے خوشی دیتی ہیں لیکن میری واپسی روایتی وی لاگر کے طور پر نہیں ہوگی۔

یہ پڑھیں: عرفان جونیجو نے یوٹیوب کو خیر باد کہہ دیا

واضح رہے کہ کچھ روز قبل عرفان جونیجو نے ایک ویڈیو کے ذریعے یوٹیوب سے کنارہ کشی کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ میں اب کسی بھی ایونٹ یا ایوارڈ کی تقریب میں بھی نہیں جاتا حتیٰ کہ ٹویٹر کو بھی چھوڑ دیا ہے اور کیمرا استعمال کرنا بھی بہت کم کردیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: عمران اشرف کا یوٹیوب چھوڑنے والے عرفان جونیجو کو مقابلہ کرنے کی نصیحت

انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ میں اب خود اعتمادی اور اضطراب کا شکار ہوں، وی لاگنگ میری زندگی کی ترجیح نہیں رہی، اب میں ویڈیوز اپنی مرضی سے مخصوص وقت پر ہی بناؤں گا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔