پی ایس ایل سے پہلے ہی اینٹی کرپشن قانون کا بم پھٹ گیا، عمراکمل باہر

ویب ڈیسک / محمد یوسف انجم  جمعرات 20 فروری 2020

 فی الحال تحقیقات جاری ہیں لہٰذا پی سی بی اس معاملے پر مزید کوئی بیان جاری نہیں کرے گا: فوٹو: فائل

 فی الحال تحقیقات جاری ہیں لہٰذا پی سی بی اس معاملے پر مزید کوئی بیان جاری نہیں کرے گا: فوٹو: فائل

 لاہور: پاکستان کرکٹ بورڈ نے اینٹی کرپشن کوڈ کی دفعہ 4.7.1 کے تحت عمر اکمل کو فوری طورپرمعطل کردیا ہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ نے پی سی بی اینٹی کرپشن کوڈ کی دفعہ 4.7.1 کے تحت عمراکمل کوفوری طورپرمعطل کردیا ہے۔ پی سی بی اینٹی کرپشن یونٹ کی جانب سے جاری تحقیقات مکمل ہونے تک عمر اکمل کرکٹ سے متعلق کسی بھی سرگرمی میں حصہ نہیں لے سکتے، فی الحال تحقیقات جاری ہیں لہٰذا پی سی بی اس معاملے پر مزید کوئی بیان جاری نہیں کرے گا۔

اس دوران، کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کو ایچ بی ایل پی ایس 2020 کے لیے عمر اکمل کے متبادل کا انتخاب کرنے کی اجازت ہوگی۔

ترجمان کوئٹہ گلیڈی ایٹرزکا کہنا ہے کہ عمراکمل کیس میں پی سی بی کی تحقیقات جاری ہیں، تحقیقات مکمل ہونے تک کچھ نہیں کہہ سکتے، پی سی بی قوانین کے تحت کوئٹہ گلیڈی ایٹرز متبادل کھلاڑی منتخب کرے گا۔

اینٹی کرپشن کوڈ کی دفعہ 4.7.1 کیا ہے؟

اینٹی کرپشن کوڈ کی دفعہ 4.7.1 کے تحت پی سی بی

(ا):  یہ طے کرے کہ کسی بھی فریق کو اینٹی کرپشن کوڈ کے  تحت چارج کرنا ہے۔

یا

(ب):  فریق کسی بھی فوجداری جرم  میں ملوث ہو جس میں پولیس کی جانب سے گرفتار کیا گیا ہو یا پھر کوئی الزام عائد کیا گیا ہو۔

مندرجہ بالا نکات کے تحت پی سی بی کے  پاس یہ صوابدیدی اختیار موجود ہے کہ وہ کھیل کی ساکھ کو مجروح کرنے پر متعلقہ فریق کو اینٹی کرپشن کوڈ کے  تحت عبوری  طور پر معطل کرسکتا ہے جب تک کہ اینٹی کرپشن ٹربیونل  یہ فیصلہ نہ کرلے کہ متعلقہ فریق نے جرم کا ارتکاب کیا ہے یا نہیں۔ عبوری طور پر معطلی سے  متعلق کسی بھی فیصلے کی ایک تحریری کاپی متعلقہ فریق ، ایک آئی سی سی اور ایک قومی کرکٹ فیڈریشن کو بھجوائی جائے گی۔

content.jwplatform.com

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔