خودکش حملے میں ہاتھ گنوانے والا پولیس افسر بہادری کی مثال

احتشام خان  ہفتہ 22 فروری 2020
مصنوعی ہاتھ کیساتھ دہشت گردوں کیخلاف آپریشنزمیں حصہ لے رہے ہیں۔ فوٹو: فائل

مصنوعی ہاتھ کیساتھ دہشت گردوں کیخلاف آپریشنزمیں حصہ لے رہے ہیں۔ فوٹو: فائل

پشاور:  خودکش حملے کو ناکام بنانے کی کوشش کے دوران ایک ہاتھ سے محروم والا خیبرپختونخوا کاپولیس افسر فورس کے لیے جرات اور بہادری کی اعلی مثال بن گیاہے۔

پشاور میں تعینات ڈی ایس پی فقیر آباد عالزیب ایک ہاتھ سے کلاشنکوف چلاتے ہیں جبکہ دفتری امور کیلیے اپنا ایک ہاتھ استعمال کرتے ہیں۔2012 میں عالزیب خان ایس ایچ او تھے۔اس سال اکوڑہ خٹک میں خودکش حملہ آورکو دبوچنے کے دوران وہ شدید زخمی ہو گئے تھے۔اس دوران ان کے دائیاں ہاتھ کی پانچ اگلیاں بھی دھماکے میں اڑ گئیں تھیں۔

ٹانک میں بطور ڈی ایس پی آپریشنزعالزیب خان  نے مصنوعی ہاتھ کیساتھ دہشت گردوں کے خلاف ہونیوالے بڑے آپریشنز میں حصہ لیا۔ایک سال تک ڈیرہ اسماعیل خان میں بھی پولیس فورس کے لیے خدمات سر انجام دیں۔دسمبر 2019 میں پشاورفقیرآباد میں بطور ڈی ایس پی سرچ اینڈ اسٹرائیک آپریشنز میں حصہ لے رہے ہیں۔

ایکسپریس سے بات چیت کرتے ہوئے ڈی ایس پی عالزیب خان کا کہنا تھا کہ غازیوں کی فہرست میں نام شامل ہونے پرفخر ہے۔تاہم خودکش حملہ آور کو دبوچنے کے واقعے کے8برس بعد بھی قوم کے اس بہادر سپوت کوکوئی سرکاری اعزاز نہیں مل سکا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔