تنہائی کے سو سال

نسیم انجم  اتوار 23 فروری 2020
nasim.anjum27@gmail.com

[email protected]

’’تنہائی کے سو سال ایک مطالعہ‘‘ عبداللہ جاوید کی صبح و شام کی مساعی کا ثمر ہے اور یہ کتاب اکادمی بازیافت سے شایع ہوئی ہے۔ انھوں نے قلمی زندگی کا آغاز 1942 اور 1943 کے درمیان میں کیا وہ بیک وقت شاعر و ادیب ہیں اور ساتھ میں کالم نگاری کے فن سے بھی آشنا ہیں اور اردو کے کثیرالاشاعت اخبار میں کالم لکھنے کا انھیں اعزاز حاصل رہا ہے، ان کی تصانیف میں 6 کتابیں بعنوان موج صد رنگ ، ،حصارِ امکاں، خواب سماں ( شعری مجموعہ) ’’بھاگتے لمحے‘‘ (افسانوں کا انتخاب) ’’مت سہل ہمیں جانو‘‘ (میر تقی میر مطالعہ) ’’آگ کا دریا‘‘ ایک مطالعہ (قرۃالعین حیدر۔ مطالعہ) شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ان کا ادبی و تحقیقی کام مزید اشاعت کا منتظر ہے، عبداللہ جاوید کی علمی خدمات پر مختلف جرائد میں گوشے شایع ہوچکے ہیں پی ایچ ڈی کا مقالہ بھی لکھا جا چکا ہے۔

عنوان ہے عبداللہ جاوید ’’شخصیت اور فن‘‘ نگران پروفیسر ڈاکٹر نذر عابد معاون نگران ڈاکٹر الطاف یوسف زئی، ہزارہ یونیورسٹی مانسہرہ۔ عکاس انٹرنیشنل اسلام آباد سے عبداللہ جاوید نمبر 2017 مدیر ارشد خالد نے شایع کیا۔’’باتیں‘‘ کے عنوان سے عبداللہ جاوید نے جو مضمون لکھا ہے اس میں انھوں نے اہم نکات کی طرف اشارہ کیا ہے۔ لکھتے ہیں ’’رفیق مطالعہ‘‘ (A Companion to the Study) کتابوں کی اشاعت کا دستور اور سلسلہ یوکے، امریکا، یورپ میں کامیابی سے جاری ہے، دوسری طرف یہ بھی ایک مسلمہ حقیقت قرار دی جاچکی ہے کہ کتاب کلچر زوال پذیر ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کتاب کے زوال کے دوران، رفیق مطالعہ کتابوں کی اشاعت کیوں کر ممکن ہو رہی ہے؟ یک نہ شد دو شد دلہا تو دلہا ساتھ میں شہ بالا بھی، ایں چہ بوالعجبی است؟ اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ رفیق مطالعہ کتابوں کی اہمیت اور افادیت اپنی جگہ مسلم اور مانی جاتی ہے۔ اس مرحلے پر یہ واضح کرنا بھی ضروری ہے کہ رفیق مطالعہ کتابیں ان کتابوں سے قطعی مختلف ہیں جن کو کلید، شرح یا گائیڈ کہا جاتا ہے۔

اردو اور ہندی میں رفیق مطالعہ کتابوں کا رواج نہیں تھا اور نہ ہے، میں نے سوچا کیوں نہ میں ہی اس کمی کو پورا کردوں۔‘‘زیر نظر کتاب تنہائی کے سو سال ایک مطالعہ اس سلسلے کی میری تیسری کتاب ہے۔ اس کتاب میں بیسویں صدی کے اواخر میں شایع ہونے والی مختلف النوع امتیازات اور انعامات کے علاوہ ادب کے نوبل انعام سے بہرہ ور ہونے والے ناول “Cieranose de Saledad” ون نیڈریڈ ایئرز آف سولی ٹیوڈ کا مطالعہ کیا گیا ہے۔ گیبریل گارسیامارکیز کا یہ شاہکار ناول 1967 میں ہسپانوی زبان میں شایع ہوا اس کے بعد مختلف زبانوں میں اس ناول کا ختم نہ ہونے والا سلسلہ شروع ہوا جو آج تک جاری ہے۔

عبداللہ جاوید کا یہ کارنامہ ہے کہ انھوں نے اسے اردو زبان میں منتقل کرکے قارئین کے لیے حیرت انگیز اور طلسماتی واقعات کے در وا کر دیے ہیں۔ اس ناول کو سمجھنے کے لیے عبداللہ ۔ جاوید کی معلومات سے استفادہ کرنا ناگزیر ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ ناول میں سارے اہم کردار یاد ماضی میں مبتلا رہتے ہیں۔ یہ کہا گیا ہے کہ اس ناول میں کولمبیا کی تاریخ تنقیدی پیرائے میں اس طرح پیش کی گئی ہے کہ ناول، ناول رہتا ہے ناول میں سب اہم قومی واقعات مذکور ہوئے ہیں جس سے قاری کولمبیا کے ماضی و حال کو سمجھنے کے لائق ہو جاتا ہے۔

ماضی میں ایویاچا شہر (کولمبیا) میں مرغوں کی لڑائی عوام میں مقبول تھی، ایسے ہی ایک مقابلے میں حوزے آرکیڈ یوفلوئزیا کے مرغے نے پرڈینسیو اگیولار (Praudensio Aguilar) کے مرغے کو لہو لہان کر دیا۔ اگیولار اس شکست کو برداشت نہیں کرسکا اور حوزے بویندیا کی سب کے سامنے بے عزتی کردی، آرکیڈیو اس رکیک جملے کو برداشت نہیں کرسکا دونوں میں ڈیول (عزت کے نام پر مقابلہ) ہوا اور اس مقابلے میں گیولار بویندیا کے خاندانی برچھے سے ایک ہی وار میں مارا گیا۔ بس یہ ہی وہ مقام ہے جہاں سے کہانی کروٹ بدلتی ہے اور ایک جست میں بہت سے پرخار راستوں کا سفر طے کرلیتی ہے۔

اگیولار کے قتل کے بعد اس کی روح میاں بیوی کے آس پاس منڈلانے لگتی ہے یہ ایک بہت بڑی اذیت تھی لہٰذا اس سے چھٹکارا پانے کے لیے انھیں ہجرت کرنی پڑی اور دو سال کی مسافت کے بعد انھوں نے ایک خواب کو تعبیر کی صورت اس طرح دی کہ ایک شہر ’’میکونڈو‘‘ وجود میں آگیا اور ترقی کی منزلیں طے کرنے لگا، مکان، دفاتر، بازار اور سڑکیں تعمیر ہونے لگیں حوزے آرکیڈیو بویندیا تعمیر و ترقی کے معاملات کا سربراہ بن گیا ۔ یہ ناول تنہائی کے سو سال معتبر قلم کار عبداللہ جاوید کی انتھک محنت کے نتیجے میں ظہور پذیر ہوا اور اب میں اس پر رائے زنی کرنے کی کوشش میں مصروف ہوں، ناول پراسراریت اور مافوق الفطرت اور عجیب و غریب واقعات پر مبنی ہے اس کے ساتھ ساتھ تسلسل اپنی جگہ برقرار ہے۔ حیرتوں کے ابواب کھلتے چلے جاتے ہیں کہیں سانپ کا تماشا ہو رہا ہے، سانپ بھی وہ جو کبھی انسان تھا اور پھر دم دار بچے کا ذکر بھی آیا ہے یہ بچہ اس غلطی کا شاخسانہ بن کر سامنے آیا ہے۔

جب دو فرسٹ کزن لڑکا لڑکی نے آپس میں شادی کرلی تھی۔ چونکہ اس خاندان میں فرسٹ کزن میں شادی کی ممانعت تھی لیکن ارسلا اور آرکیڈ بویندیا کی ارسلا کی والدہ کی مخالفت کے باوجود شادی بھی ہوئی اور بچے بھی اور ساتھ میں ایک بچی رے بیکا کی آمد بھی ہوتی ہے جس لمحے وہ پہنچی تب سے وہ اپنے جھولے والی کرسی پر بیٹھی رہی تھی وہ کسی بیوپاری کے ساتھ آئی تھی اس کے احباب میں رے بیکا کے والدین کی ہڈیاں (کرسچن تدفین کے لیے) آتی تھیں ارسلا اور حوزے بویندیا سے اس کی رشتے داری بتائی گئی تھی۔ اس بچی کی آنکھوں کی شناخت ایک انڈین عورت نے کی کہ اس کی آنکھیں نیند اڑانیوالے پلیگ کے مریضوں جیسی ہیں اور ساتھ میں حافظہ بھی جاتا رہتا ہے چند ہی دنوں بعد ارسلا اور حوزے بھی بے خوابی کا شکار ہوگئے۔

سگی خالہ اور بھانجے کی شادی کا بھی ظہور ہوتا ہے ساتھ میں رے بیکا اور آرکیڈ کو سگے بہن بھائی ہونے کے باوجود شادی کے بندھن میں فادر نکانور رئسنا نے باندھ دیا کہ وہ یہی چاہتے تھے۔ رومانس کی داستانیں جنم لیتی ہیں اور کچھ عرصے بعد ہی اپنے انجام کو پہنچ جاتی ہیں۔ دوزخی، درندہ، سُورکی دم والے بچوں کی پیدائش ، ارسلا کی موت، شیطانی جانور کی آمد اور امارانتا جو ارسلا کی بیٹی ہے اس نے مذہبی طور پر ناجائز اور ممنوع ہونے کے باوجود آرے لیانو سے اپنے شوہر کے ہوتے ہوئے شادی رچالی، نتیجہ وہی ہوا ایک بار پھر سورکی دم والے بچے کی پیدائش ہوئی اور پھر اس کی موت بھی واقع ہوگئی۔ اس اہم ناول پر قارئین و ناقدین کے تبصرے بھی شامل ہیں، جنھیں پڑھ کر ناول کو مزید جاننے اور سمجھنے کا موقع میسر آتا ہے۔ میں عبداللہ جاوید کو مبارکباد پیش کرتی ہوں کہ انھوں نے اپنے قارئین کو ایک بڑے ناول سے آشنا کیا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔