انٹارکٹیکا کی برف بھی بہت تیزی سے پگھلنے لگی

ویب ڈیسک  پير 24 فروری 2020
یہ تصاویر انٹارکٹیکا کے ایک جزیرے ’’ایگل آئی لینڈ‘‘ کی ہیں جو بالترتیب 4 اور 13 فروری کو مصنوعی سیارے سے کھینچی گئی ہیں۔ (فوٹو: ارتھ آبزرویٹری، ناسا)

یہ تصاویر انٹارکٹیکا کے ایک جزیرے ’’ایگل آئی لینڈ‘‘ کی ہیں جو بالترتیب 4 اور 13 فروری کو مصنوعی سیارے سے کھینچی گئی ہیں۔ (فوٹو: ارتھ آبزرویٹری، ناسا)

ٹیکساس: امریکی خلائی تحقیقی ادارے ناسا نے چند روز پہلے منجمد براعظم قطب جنوبی یعنی انٹارکٹیکا کی تازہ تصاویر جاری کی ہیں جو وہاں پر برف کے تشویش ناک حد تک تیز رفتار پگھلاؤ کو ظاہر کرتی ہیں۔

یہ تصاویر انٹارکٹیکا کے ایک جزیرے ’’ایگل آئی لینڈ‘‘ کی ہیں جو بالترتیب 4 اور 13 فروری کو مصنوعی سیارے سے کھینچی گئی ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اب تک زمینی قطبین (پولز) سے برف پگھلنے کے زیادہ تر مشاہدات قطب شمالی (نارتھ پول) یعنی آرکٹک پر ہوئے ہیں تاہم اس معاملے میں قطب جنوبی (انٹارکٹیکا) کو خاصی حد تک محفوظ سمجھا جاتا تھا لیکن اب دنیا کے بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کے اثرات وہاں بھی نمایاں ہونے لگے ہیں۔

واضح رہے کہ جب قطب شمالی پر سردی ہوتی ہے تو ٹھیک انہی دنوں میں قطب جنوبی پر گرمیوں کا موسم ہوتا ہے؛ یعنی آج کل قطب جنوبی پر گرمیاں جاری ہیں۔

انٹارکٹیکا کے درمیانی حصوں کا اوسط درجہ حرارت منفی 57 ڈگری سینٹی گریڈ جبکہ ساحلی علاقوں میں درجہ حرارت کا اوسط منفی 10 ڈگری سینٹی گریڈ رہتا ہے۔ گرمیوں میں یہ درجہ حرارت بڑھ کر صفر ڈگری سینٹی گریڈ کے قریب آجاتا ہے لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ انٹارکٹیکا پر گرمیوں کا درجہ حرارت بھی زیادہ ہوتا جارہا ہے۔

انٹارکٹیکا میں شدید ترین گرمی کا سابقہ ریکارڈ 17.5 ڈگری سینٹی گریڈ تھا جو 24 مارچ 2015ء کے روز قائم ہوا تھا۔ مگر اس سال 6 فروری کو 18.3 ڈگری سینٹی گریڈ کا نیا ریکارڈ قائم ہوا جو سابقہ ریکارڈ کے مقابلے میں 1.2 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ تھا۔

آسٹریلیا کے جنگلات میں بڑے پیمانے پر لگنے والی آگ کے نتیجے میں وہاں پر جاری، گرمی کی لہر اور بھی شدید ہوگئی جس کے اثرات انٹارکٹیکا تک بھی پہنچنے لگے۔ ناسا کی جاری کردہ تصاویر سے معلوم ہوتا ہے کہ معمول سے زیادہ گرمی کا ایک دائرہ اس وقت بھی انٹارکٹیکا کے بالکل قریب موجود ہے جو اس برفیلے براعظم کے ساحلی مقامات کو متاثر کررہا ہے۔

یہ تصاویر اس بات کا ثبوت ہیں کہ آرکٹک کی طرح انٹارکٹیکا پر بھی برف پگھلنے کا عمل بتدریج تیز رفتار ہوتا جارہا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ قطبین اور پہاڑی چوٹیوں پر منجمد برف شاید ہمارے سابقہ اندازوں کے مقابلے میں بہت پہلے پگھل جائے۔

اگر ایسا ہوگیا تو ماہرین کا کہنا ہے کہ سمندر کی سطح آج کے مقابلے میں 230 فٹ تک بلند ہوجائے گی جس کے نتیجے میں دنیا کے تمام ساحلی شہر بھی سمندر میں غرق ہوجائیں گے؛ اور اس سے پھیلنے والی تباہی کا تصور کرنا بھی ہمارے لیے بہت مشکل ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔