ایف بی آر نے 3 ارب کی مشکوک بینک ٹرانزیکشنز پکڑلیں

احتشام مفتی  منگل 25 فروری 2020
 ڈائریکٹوریٹ انٹیلی جنس اینڈ انویسٹی گیشن نے مقدمہ درج کرکے اکاؤنٹس منجمدکردیے۔ فوٹو: فائل

 ڈائریکٹوریٹ انٹیلی جنس اینڈ انویسٹی گیشن نے مقدمہ درج کرکے اکاؤنٹس منجمدکردیے۔ فوٹو: فائل

کراچی:  ایف بی آر کے ماتحت ڈائریکٹوریٹ انٹیلی جنس اینڈ انویسٹی گیشن ان لینڈ ریونیو سروس کراچی نے 3ارب روپے سے زائد مالیت کی مشکوک بینک ٹرانزیکشنز کا سراغ لگالیا۔

ڈائریکٹوریٹ کے ذرائع نے ایکسپریس کو بتایا کہ 3ارب روپے سے زائد کی مشکوک ٹرانزیکشنز 41 مختلف بینکوں کے اکاؤنٹس سے کی گئی ہیں۔ ذرائع نے بتایاکہ ڈائریکٹوریٹ کے استفسار کے باوجود ملزم 3ارب روپے کی بینک ٹرانزیکشنز سے متعلق اپنی آمدن کے ذرائع بتانے میں ناکام رہا ہے اور ملزم نے اپنے داخل کردہ ٹیکس گوشوارے میں 3ارب روپے کی بینک ٹرانزیکشنز کو ظاہر نہ کرکے1ارب روپے سے زائد مالیت کی ٹیکس چوری کی ہے۔

کراچی کے رہائشی محمدمنشا نامی ٹیکس دہندہ نے اپنے بینک کھاتوں کے ذریعے مزکورہ ٹرانزیکشنز کی ہیں جوڈائریکٹوریٹ آئی اینڈ آئی آئی آر کوذرائع آمدن بتانے میں ناکام رہاہے۔ ڈائریکٹوریٹ نے محمدمنشا کے خلاف مقدمہ درج کرکے اس کے41بینک اکاؤنٹس منجمد کردیے ہیں جبکہ عدالت نے ملزم کی منقولہ اور غیرمنقولہ جائیدادیں بھی ضبط کرنے کی اجازت دیدی ہے۔

ذرائع نے بتایاکہ ملزم محمدمنشا ٹرانسپورٹ لاجسٹک اور کلیئرنگ فارورڈنگ کے کاروبار سے منسلک ہے۔ ذرائع نے بتایاکہ ڈائریکٹوریٹ نے محمدمنشا کو4مرتبہ طلب کیا لیکن انھوں نے صرف ایک مرتبہ پیش ہو کر مہلت طلب کی جس کے بعد وہ طلبی کے نوٹسز کے باجود ڈائریکٹوریٹ میں پیش نہ ہوسکے۔

ڈائریکٹوریٹ نے جب ان کے وارنٹ جاری کیے تو انھوں نے عدالت 20 لاکھ مچلکے پرضمانت قبل ازگرفتاری حاصل کرلی۔ ذرائع نے بتایاکہ ڈائریکٹوریٹ ملزم کی ان دیگر کمپنیوں کی بھی تحقیقات کررہا ہے جن کے وہ ڈائریکٹر ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔