اسلام آباد ہائی کورٹ کا احسن اقبال اورشاہد خاقان کوضمانت پررہا کرنے کا حکم

ویب ڈیسک  منگل 25 فروری 2020
عدالت کی مسلم لیگ (ن) کے دونوں رہنماؤں کو ایک ایک کروڑ روپے کے مچلکے جمع کرانے کی ہدایت

عدالت کی مسلم لیگ (ن) کے دونوں رہنماؤں کو ایک ایک کروڑ روپے کے مچلکے جمع کرانے کی ہدایت

 اسلام آباد: ہائیکورٹ نے مسلم لیگ (ن) کے رہنما احسن اقبال اورشاہد خاقان عباسی کو ضمانت پررہا کرنے کا حکم دے دیا۔

چیف جسٹس اطہرمن اللہ کی سربراہی میں دورکنی بنچ نے مسلم لیگ (ن) کے رہنما احسن اقبال کے خلاف نارووال اسپورٹس سٹی کمپلیکس کرپشن کیس میں درخواست ضمانت کی سماعت کی۔

ایڈیشنل پراسیکیوٹر نیب عدالت میں پیش ہوئے اورکہا کہ متعلقہ اتھارٹی کی منظوری کے بغیر نارووال اسپورٹس سٹی بغیرکسی فزیبیلٹی کے بنایا گیا، ملزم کے بیرون ملک فراراورریکارڈ میں ٹیمپرنگ کا خدشہ ہے، درخواست ضمانت مسترد کی جائے۔

عدالت نے احسن اقبال کی ضمانت منظورکرتے ہوئے رہائی کا حکم دے دیا اور انہیں ایک کروڑ روپے کے مچلکے جمع کرانے کی ہدایت کی۔

شاہد خاقان عباسی کی بھی ضمانت منظور

اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ایل این جی کیس میں مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما شاہد خاقان عباسی کی درخواست ضمانت پر سماعت کی۔

نیب نے کہا کہ شاہد خاقان عباسی نے ایل این جی مہنگے داموں خریدی جس پر چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے استفسار کیا کہ کیا آپ نے تفتیش کی کہ دنیا میں کہیں اس سے سستی ایل این جی خریدی گئی ہے۔

چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے استفسارکیا کہ کیا نیب نے گرفتاری سے قبل وزارت خارجہ سے رابطہ کیا تھا، اس کیس میں بہت حساس معاملات ہیں، دوسرے ممالک سے تعلقات کا معاملہ ہے، آپ نے تفتیش ہی نہیں کی اور اس کو گرفتاری کی بنیاد بنا رہے ہیں۔

عدالت نے شاہد خاقان عباسی کی بھی ضمانت منظورکرتے ہوئے رہائی کا حکم دے دیا۔ عدالت نے شاہد خاقان عباسی کوایک کروڑ روپے کے مچلکے جمع کرانے کی ہدایت کی۔

واضح رہے کہ احسن اقبال پرالزام ہے کہ انہوں نے تین ارب روپے کا منصوبہ نارووال میں شروع کیا جس کی اصل لاگت 30 کروڑتھی۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔