تعلیمی اصلاحات

عبدالقادر حسن  بدھ 26 فروری 2020
Abdulqhasan@hotmail.com

[email protected]

ان دنوں پنجاب میں تعلیمی پالیسی حکومت کے زیر غور ہے اور اسے مزید بہتر بنانے کے لیے اس میں مختلف ترامیم تجویز کی جا رہی ہیں، ان ترامیم پر نجی تعلیمی اداروں نے اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے اور حکومت کے تعلیمی بہتری کے پروگرام کو تعلیم دشمن پروگرام قرار دیا جا رہا ہے ۔

دوسری طرف حکومت شاید یہ سمجھ رہی ہے کہ نجی تعلیمی اداروں کو ماضی میں بہت زیادہ ڈھیل دے دی گئی تھی جس کی وجہ سے ان نجی تعلیمی اداروں نے مفاد عامہ سے زیادہ اپنے مفاد کو عزیز رکھا ہے اور طالبعلموں کو تعلیم فروخت کی جا رہی ہے ۔

جن لوگوں کو اس ملک کی کچھ فکر ہے ان کے لیے حکومت کو یہ کام شروع دن سے کر دینا چاہیے تھے لیکن ڈیڑھ برس بعد بھی اگر تعلیمی پالیسی کی فکر کی گئی ہے تو گویا حکومت نے اپنے پہلے دو برسوں کے اندر اندر یہ کام شروع کر دیا ہے جو کام گزشتہ کئی دہائیوں سے توجہ چاہ رہا تھا اس کی اصلاح کے لیے اب اگر قدم اٹھایا جا رہا ہے تو اس پر اطمینان کا اظہار کرنا ہی چاہیے لیکن اس اہم ترین کام کو نہایت ایمانداری اور مخلص ہو کر ادا کرنے کی ضرورت ہے تا کہ کسی بھی نجی ادارے کو بلاوجہ پسند نا پسند کا نشانہ نہ بنایا جائے اور تعلیم کے میدان میں بلا رکاوٹ ترقی کا سفر جاری رہنا چاہیے۔

اس وقت تک تو ہمارے تعلیمی پالیسی یہ رہی ہے کہ میرے بچپن کا ذکر ہے، میرے گاؤں کے پرائمری اسکول کا درجہ بڑھانے کے لیے گاؤں کے لوگ میرے ایک بزرگ بھائی کے پاس حاضر ہوئے اور کہا کہ حکومت پرانے انگریزوں کے وقت کے پرائمری اسکولوں کا درجہ بڑھا رہی ہے، آپ ہمارے اسکول کوبھی اس فہرست میں شامل کرا دیں، ان لوگوں کو جواب ملا کہ تم درجہ بڑھانے کی بات کرتے ہو میرے بس میں ہو تو میں اس پرائمری اسکول کو بھی آگ لگا دوں اگرچہ یہ اسکول اب ہائی اسکول ہے لیکن ایک مدت سے دوسرے اسکولوں کی طرح اس میں بھی استادوں کی کمی ہے اور دوسرا عملہ بھی بس واجبی سا ہے۔

ایسا ہی حال دوسرے سرکاری اسکولوں کا ہے اور قوم کے اندر چونکہ پڑ ھنے کا شوق موجود ہے اس لیے پرائیویٹ اسکول ایک بہت ہی نفع بخش صنعت بن چکے ہیں، ان کی ماہانہ فیسیں ہزاروں میں ہیں اور داخلہ بھی آسانی سے نہیں ملتا ۔ ان کے علاوہ خود حکومت کے بھی بعض تعلیمی ادارے ایسے ہیں جنھیں پبلک اسکول کہا جاتا ہے مگر ان میں پبلک کو داخلہ نہیں ملتا ۔ خواص اور خاص طبقات کے لیے مخصوص ہیں ۔

ہمارے ایک سابق وزیر اعلیٰ چوہدری پرویز الٰہی نے پنجاب میں تعلیم مفت کر دی تھی اور بچوں کو درسی کتب بھی مفت فراہم کی جا رہی تھیں، مجھے معلوم نہیں کہ ان کے بعد میں آنے والے وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے ان کے نیک کام کو جاری رکھا یا پھر صرف دانش اسکول ہی بنائے جن پر اخراجات کا تو علم نہیں لیکن ان اسکولوں کے طالبعلموں کی کسی بورڈ میں کوئی پوزیشن نظر سے نہیں گزری، نہ جانے شہباز شریف کے بعد دانش اسکول کس حال میں ہیں کیونکہ سنا تو یہ تھا کہ ان کے دورحکومت میں ہی دانش اسکولوں میں دانش کی کمی ہو گئی تھی۔ ہمارے حکمران سرکاری اسکولوں کو کروڑوں نہیں اربوں میں سرکاری امداد دیتے ہیں کیونکہ اکثر حکمران انھی پبلک اسکولوں کے پڑھے ہوئے ہیں اور وہ اپنے اسکولوں سے سرکار کے پیسے پر اپنی وفاداری نبھانا فرض سمجھتے ہیں۔

ہماری موجود حکومت جو غلط بخشیاں اور گھپلے کیے ہیں، وہ اپنی جگہ پر لیکن اس نے پنجاب میں تعلیمی اصلاح کے نام پر نیک کام شروع کیا ہے اگرچہ نظام تعلیم کی مکمل اصلاح تو شاید نہ ہو سکے لیکن نجی تعلیمی اداروں کو کسی ضابطے اور قاعدے میں ضرور لایا جا سکے گا۔

دوسری طرف نجی تعلیمی اداروں کے مالکان نے حکومت کے تعلیمی میدان میںمجوزہ اصلاحات پر اپنے خدشات کا اظہار کیا ہے اور اصلاحتی عمل کو نجی تعلیمی اداروں اور طالبعلموں کے لیے علم دشمن قرار دیتے ہوئے ایک کمیٹی قائم کی ہے جو حکومت سے تعلیمی میدان میں اصلاحات کے متعلق مذاکرات کرے گی۔ اگر حقیقت کی بات کی جائے تو سرکاری نظام تعلیم کا جو حال ہے وہ سب کے علم میں ہے اور حکومت سالانہ اربوں روپے خرچ کر کے بھی بچوں کو معیاری تعلیم دینے سے قاصر ہے بلکہ سرکاری شعبے میںتعلیمی اداروں کی اس قدر کمی ہے کہ طالبعلم مجبوراً نجی تعلیمی اداروں کا انتخاب کرنے پر مجبور ہیں ۔ نجی تعلیمی اداروں کو سرکاری نظام تعلیم کی خرابیوں کا بخوبی علم ہے، ان میں سے اکثر خرابیاں ایسی ہیں جو بغیر کسی خرچ کے دور ہو سکتی ہیں البتہ بعض خرابیوں کو دور کرنے کے لیے رقم کی ضرورت ہو گی۔

حکومت تعلیمی میدان میں بہت زیادہ خرچ کرناچاہتی ہے ۔ میرے جیسا آدمی جو ملک کے دفاع کو حد سے زیادہ اہمیت دیتا ہے اپنی قوم کی جہالت دیکھ کر کبھی کبھی جی چاہتا ہے کہ دفاع کا بجٹ بھی قوم کی تعلیم پر لگا دیا جائے، ایک جاہل قوم اپنا دفاع کیسے کر سکتی ہے۔

ہم اسلام کا نام بہت لیتے ہیں مگر ہمارا اسلام صرف چند عبادات تک محدود ہے ۔ انسانی زندگیوں میں یہ انقلاب صرف عبادات اور ملاں کے سجدے کی وجہ سے برپا نہیں ہوا تھا کچھ اور تھا جس نے انسانی تاریخ کا رخ بدل دیا اور اس میں پہلے درجہ پر تعلیم و تدریس تھی ۔

پہلی آیت ’’پڑھنے‘‘ سے اتری اور پھر حضورﷺ کی پوری زندگی تعلیم کے فروغ میں گزر گئی ،آپ کو شاید حیرت ہو کہ جب اسلامی دنیا مغربی سامراج کی محکوم نہیں ہوئی تھی، اس وقت تک اس کے ہاں تعلیمی شرح قریب قریب سو فیصد تھی، خود ہندوستان میں مدرسوں اور مسجدوں نے مسلمانوں میں تعلیم اس قدر عام کر دی تھی کہ انگریزوں نے پہلا کام یہ کیا کہ ان درسگاہوں سے ملحق ان کی مالی امداد کے لیے عطیہ میں دی گئی زمینوں پر قبضہ کر لیا اور مولوی کو جو معلم بھی تھا کمی کمین بنا کر روٹی کا محتاج کر دیا ورنہ مسلمانوں میں تعلیم ہمیشہ مفت رہی اور طلبہ کو رہائش، خوراک اور کتابیں مفت ملتی تھیں ۔ تعلیمی اداروں میں فیس کا تصور انگریز کا لایا ہوا ہے جس طرح طب میں رائج کیا گیا ورنہ حکیم تو صرف دوا کے پیسے لیتا تھا، وہ بھی صاحب حیثیت لوگوں سے اور اسی آمدن سے غرباء کا مفت علاج کرتا تھا۔

بہر حال حکومت کو تعلیمی شعبہ میں نہایت دانشمندی اورخاص طور پر نجی شعبے کے ماہرین کے ساتھ مل کر اصلاحات کا عمل مکمل کرنا چاہیے تا کہ نجی تعلیمی ادارے جو ملک کی آبادی کے بڑے حصے کی تعلیمی ضروریات کو پورا کر رہے ہیں ان کے ساتھ کسی قسم کی زیادتی نہ ہو۔ حکومتی سطح پر تعلیمی اداروں کا قیام اب اتنا سود مند نہیں نجی شعبہ کا تعلیمی میدان تیزی سے پھیل رہا ہے جو طالبعلموں کی ضروریات کو پورا کر رہا ہے ۔

تعلیم کے میدان میں جو پالیسیاں ماضی کی حکومتیں بنا گئی ہیں موجودہ حکومت کا یہ فرض ہے کہ ان پالیسیوں کا تحفظ کرے اور اگر ا ن میں اصلاح کی گنجائش ہے تو ضرور کرے لیکن کسی ایسی اصلاح سے گریز کرنا چاہیے جس سے طالبعلموں کا نقصان ہو البتہ حکومت سے والدین کی ایک درخواست ہے کہ حکومت نجی تعلیمی اداروں کو فیسوں کی مد میں پابند کرے جس طرح حکومت نے میڈیکل کے شعبے میں سالانہ اخراجات کی ایک حد مقرر کر رکھی ہے دوسری تعلیم کے لیے بھی اسی مناسبت سے نجی اسکولوں اور یونیورسٹیوں کو پابند کیا جانا چاہیے ۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔