عفت و وفا کے ہار کی منتظر پاکستانی عورت

رضوانہ قائد  جمعـء 28 فروری 2020
8 مارچ عالمی یوِم خواتین پر دنیا بھر میں عورتوں پر ظلم کے خلاف خواتین منظم ہورہی ہیں۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)

8 مارچ عالمی یوِم خواتین پر دنیا بھر میں عورتوں پر ظلم کے خلاف خواتین منظم ہورہی ہیں۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)

عالمی یوم خواتین کے قریب آتے آتے اس کی تیاریوں کی گونج بھی تیز ہورہی ہے۔ اس دن کی سرگرمیوں میں عورت مارچ کا نام نمایاں ہے۔ اپنے مخصوص رنگ ڈھنگ کے باعث اس مارچ کو سماجی حلقوں خصوصاً سوشل میڈیا پر مختلف قسم کے ردعمل کا سامنا ہے۔ پاکستانی معاشرے کے تنوع کے باعث یہ کوئی غیر متوقع بھی نہیں۔ مختلف نظریات کے حامل طبقات اپنے اپنے تبصروں اور آرا کے ساتھ سوشل میڈیا کے افق پر جلوہ افروز ہیں۔

زیادہ مزاحمت بعض مذہبی حلقوں کی جانب سے ہے، جن کے مطابق یہ مارچ اسلامی تہذیب پر وار ہے۔ لہٰذا اس کی پُرزور مزاحمت اور سدباب ضروری ہے۔ اس کےلیے قانونی کوششیں بھی جاری ہیں۔ اس پیش منظر میں وطنِ عزیز کے دینی رہنما محترم تقی عثمانی صاحب کے اصلاحی بیان پر مبنی ٹویٹ بھی عوام کی ہدایت کی غرض سے ہوا کے دوش پر ہے:
’’میری وہ بہنو بیٹیو! جو 8 مارچ کو مارچ کا ارادہ رکھتی ہو۔ اللہ نے آپ کے سر پر حیا کا تاج رکھا اور گلے میں عفت و وفا کے ہار ڈالے ہیں۔ آپ کسی کے کہنے پر انہیں سڑکوں پر روندنے نکلنا چاہتی ہیں۔ خدا کےلیے ذرا سوچیے! آپ کتنی آزاد ہوجائیں، کسی بدیسی کی غلام رہیں گی۔‘‘

اس ٹویٹ کے الفاظ سے لگتا ہے وطنِ عزیز میں چہار سو حیا کا چلن عام اور خواتین عفت و وفا کے ہاروں میں سرشار ہیں۔ کیا واقعی ایسا ہے؟ کیا حیا اور عفت و وفا کے تعلق سے یہاں امن و سکون ہے؟

بچیوں، لڑکیوں اور خواتین پر ظلم، ہراسگی، اغوا، تشدد، بہیمانہ قتل کے روز افزوں لرزہ خیز واقعات، تصویری خبریں اس خواب کا پردہ چاک کرنے کو کافی نہیں؟

بلاشبہ اسلام نے عورتوں کے حقوق کا مکمل منشور دیا ہے۔ مگر کتابوں میں قید ان حقوق نے ظلم کی چکی میں پسنے، سسکنے والی عورت کو مظلومانہ جاہلی رسومات کے بندھنوں سے کتنا آزاد کیا؟ قرآن و سنت میں دیے گئے عورتوں سے متعلق احکام و قوانین کا کتنا شعور عام عورت کے پاس پہنچایا گیا؟ ان احکامات و قوانین کو ’’مدینہ کے ریاست‘‘ میں نفاذ کےلیے اہلِ علم کی جانب سے کتنی جانفشانی کی گئی؟

8 مارچ کے خواتین مارچ کو لبرلز کی اسلام مخالف سرگرمی گردانا جارہا ہے۔ مگر حقیقت کچھ مختلف بھی ہے۔ مارچ کے لیے نکلنے والی ان ہزاروں خواتین میں سب کی سب ایک جیسی نہیں۔ ان میں حقیقتاً مظلوم، حجابی، اللہ اور رسولؐ کو ماننے والی، رکوع و سجود کرنے والی عدل کی متلاشی خواتین بھی شامل ہیں۔ یہ اپنی وراثت، اپنی جان و مال، عزت و عفت، اسلامی حقوق کے حصول کےلیے انصاف کی آس لیے ان کے جھنڈے تلے آرہی ہیں۔

ذرا سوچیے! ان مظلوم مسلمان عورتوں پر ظلم کے خلاف، عدل کےلیے مسلمان عورتیں کھڑی نہیں ہوں گی تو اور کون کھڑا ہوگا؟

ہمارے معاشرے میں عورت پر جتنا ظلم ہورہا ہے، اس ظلم کے کرنے والوں میں دین دار بھی شامل ہیں اور بےدین بھی۔ عبدالحلیم ابو شقہ کہتے ہیں:

ہمارے ہاں عورت کا مسئلہ (غلو) افراط و تفریط کی نمایاں مثال بن چکا ہے۔ اسلام کی روشنی آجانے کے بعد ظلم اور جاہلیت کے اندھیرے سے باہر نکلنے والی عورت دورِ رسالتؐ میں دین کے سائے میں سب سے زیادہ آزاد و خودمختار تھی۔ بعد کے زمانوں میں بعض مسلم طبقوں اور مبلغین نے عورتوں کے بارے میں انتہائی محدود تصوارات اختیار کرلیے۔ جس کے نتیجے میں بہت سے مسلم نوجوان اور خواتین اسلامی تعلیمات کی پابندی سے گھبرانے لگے۔ یہی وہ موقع تھا کہ دین بیزار لبرل سیکولر لوگوں کے ہاتھوں میں مسائل و مشکلاتِ زندگی کا اسلامی حل پیش کرنے والوں کے خلاف ایک ہتھیار ہاتھ آگیا۔

آج یہ ہتھیار فیمینزم کی شکل میں اسلام مخالف مقاصد کےلیے استعمال ہورہا ہے۔

عورت کو سب سے زیادہ حقوق اور آزادی اسلام نے دی ہے۔ اور اس کی آزادی کےلیے آواز ’’دوسرے‘‘ لوگ اٹھا رہے ہیں۔

ذرا سوچیے! عورت کی آزادی کےلیے دین دار مسلمانوں کے علاوہ جو بھی کھڑا ہوگا وہ اس کا فائدہ ضرور اٹھائے گا۔ اس کے ذریعے اپنے گندے اور مفاد پرستانہ مقاصد کو آگے بڑھائے گا۔ مظلوم عورتوں کےلیے جدوجہد کا سارا میدان اسلام مخالفوں/ دشمنوں کےلیے چھوڑ دینا، کیا یہ بذاتِ خود بہت بڑا ظلم نہیں؟ دین کا حقیقی شعور رکھنے والی عورتیں، دین پر قائم رہتے ہوئے مظلوم عورتوں کے حقوق کی زیادہ محافظ ہوسکتی ہیں، بخلاف ان عورتوں کے جو دین کی پروردہ نہیں، جو اللہ کی نہ سنے، جو سنت پر عمل نہ کرے۔

علما و مشائخ کی جانب سے عوام کی درست رہنمائی سے پہلو تہی اسلام اور عدل کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ قرآن میں ان کے غلط طرزِ عمل پر تنقید کرتے ہوئے خبردار کیا گیا کہ ایسا کرو گے تو تم بھی ان جیسے ہوجاؤ گے۔ (5:44، 5:63، 9:31، 9:34)

دنیا گدی نشینوں، مجاوروں، پنڈتوں، پروہتوں کے ذریعے چل رہی ہوتی تو انبیا مبعوث نہ کیے جاتے۔

(ترجمہ:) ’’بےشک ہم نے اپنے رسولوں کو روشن دلیلوں کے ساتھ بھیجا اور ان کے ساتھ کتاب اور عدل کی ترازو اتاری کہ لوگ انصاف پر قائم ہوں‘‘۔

تمام انبیا کی بعثت کا مقصد ہی انفرادی اور اجتماعی طور پر عدل قائم کرنا تھا۔ انبیا کے جانشین کی حیثیت سے اب امت کے ذمے یہ کام ہے۔ 8 مارچ کے دن مغرب کی ایجاد اور ان ہی کی ضرورت کہہ کر اس کی عالمی اہمیت سے فائدہ نہ اٹھانا کوتاہ بینی ہے۔ ڈاکٹر یوسف القرضاوی فرماتے ہیں:

اللہ نے ہمیں نہ مغرب نوازی کا حکم دیا ہے، نہ ہی مشرق نوازی کا۔ اس کا فرمان ہمیں نہ اسیرِ قدیم بناتا ہے، اور نہ ہی گرفتارِ جدید۔ وہ تو ہماری تمام خواہشات کو صرف شریعتِ محمدیؐ کا پابند اور دینِ حق کا خوگر بناتا ہے۔ افراط و تفریط کے درمیان کی راہ ہی اسلام کا جادہ اعتدال ہے اور مسافرانِ حق اسی کے راہرو ہیں۔

8 مارچ عالمی یوِم خواتین قریب ہے۔ دنیا بھر میں خواتین پر ظلم کے خلاف خواتین منظم ہورہی ہیں۔ مغرب کی پروردہ خواتین اپنے اسلام مخالف مفادات کےلیے سرگرم ہیں۔ عالمی میڈیا میں پاکستان میں خواتین پر ظلم و تشدد کی خبریں تو جاتی ہی ہیں، کبھی یہ خبریں بھی جائیں کہ ان مظلوم خواتین کے ساتھ عدل کے حصول کےلیے فیمنزم سے زیادہ اسلام پسند گروہوں نے ان کی عٙلٙم برداری کی۔

’’ریاستِ مدینہ‘‘ پاکستان میں ظلم اور ناانصافی کی چکی میں پسنے، سسکنے والی محروم و مظلوم مائیں، بہنیں، بیٹیاں بھی حیا کے تاج اور عفت و وفا کے ہاروں کی منتظر ہیں۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 1,000 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔