دہلی مسلم کش فسادات پر پاکستانی فنکاروں کا اظہارافسوس

ویب ڈیسک  جمعرات 27 فروری 2020
بھارت میں مسلمانوں کے ساتھ ہونے والی ناانصافی، بہیمانہ تشدد اور مسجد کی بے حرمتی پر پاکستانی فنکاربھی بول پڑے ہیں ، فوٹوفائل

بھارت میں مسلمانوں کے ساتھ ہونے والی ناانصافی، بہیمانہ تشدد اور مسجد کی بے حرمتی پر پاکستانی فنکاربھی بول پڑے ہیں ، فوٹوفائل

کراچی: بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں متنازع شہریت کے قانون کے خلاف پر امن مظاہرین پر انتہاپسندوں کی جانب سے کیے جانے والے بہیمانہ تشدد اور اس کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والے 20 افرادپر پاکستانی فنکاروں نے تشویش اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔

بھارت میں مسلمانوں کے ساتھ ہونے والی ناانصافی، ان پر ہونے والے بہیمانہ تشدد اور مسجد کی بے حرمتی پر پاکستانی فنکاروں کا صبر بھی جواب دے چکا ہے اور انہوں نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر بھارت کی صورتحال پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بالی ووڈ خانز کیلئے ان کا کیریئر دلی کے مسلمانوں کے خون سے زیادہ عزیز

 

گزشتہ روز وزیراعظم عمران خان نے نئی دہلی میں مسلم کش فسادات پر ردعمل دیتے ہوئے کہا تھا اگر پاکستان میں کسی نے غیرمسلم شہریوں پر ہاتھ اٹھانے کی کوشش کی یا کسی عبادت گاہ کی جانب بری نظر سے دیکھا تو نہایت سختی سے پیش آئیں گے۔ ہماری اقلیتیں اس ملک کی برابر کی شہری ہیں۔

ماہرہ خان

ماہرہ خان نے وزیراعظم کی اس ٹوئٹ کو ری ٹوئٹ کراتے ہوئے فخریہ انداز میں کہا’’یہ میرا لیڈر‘‘۔ ماہرہ نے عمران خان کی ٹوئٹ کو سراہتے ہوئے کہا یہ ہمارے پاکستان کے لیڈر ہیں میں اونچی اور صاف آواز میں آپ کا شکریہ ادا کرنا چاہتی ہوں۔

تاہم ماہرہ خان کی یہ ٹوئٹ کئی بھارتیوں کو ایک آنکھ نہ بھائی اور  ایک بھارتی شخص نے انہیں جواب دیتے ہوئے کہا ماہرہ خان میں آپ کا بھارتی مداح ہوں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ میں آپ کی بات سے متفق ہوں۔ آپ اس وقت کہاں تھیں، جب غیر مسلم خواتین کو ہر سال زبردستی شادی کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ جب مندروں کی بے حرمتی کی جاتی ہے؟

یہ بھی پڑھیں:  دہلی مسلم کش فسادات پر بالی ووڈ فنکاروں کے صبر کا پیمانہ بھی لبریز ہوگیا

ماہرہ خان نے اس مداح کے سوالوں کا بہترین جواب دیتے ہوئے کہا آپ کو میری باتوں سے اختلاف کرنے کا پورا حق ہے۔ اور آپ کے سوالوں کا جواب یہ ہے کہ میں نے ہمیشہ اقلیتوں کے لیے اور ان تمام موضوعات پر آواز اٹھائی ہے جس پر مجھے محسوس ہوتا ہے کہ آواز اٹھانے کی ضرورت ہے۔  یہ بھارت اور پاکستان کے بارے میں نہیں ہے بلکہ انسان بمقابلہ فاشسٹ سیاست (ظلم و بربریت اور تعصب کی سیاست) کے بارے میں ہے۔ اس کے ساتھ ہی ماہرہ خان نے دونوں قوموں کے لیے امن کی خواہش کا اظہار کیا۔

فرحان سعید

اداکار فرحان سعید نے بھی وزیراعظم کا یہی ٹوئٹ ری ٹوئٹ کیا اور انہیں مخاطب کرتے ہوئے لکھا یہی وجہ ہے کہ میں نے آپ  کو ووٹ دینے پر فخر کا اظہار کیا تھا اور ہر روز آپ کے لیے دعا کرتا ہوں۔ دعا ہے آپ پاکستان کو ان اونچائیوں پر لے کر جائیں جس کا ہم نے خواب دیکھا ہے آمین۔

یہ بھی پڑھیں: عمران خان کو ووٹ دینے پر غلط ثابت ہوا تو معافی مانگ لوں گا، فرحان سعید

یاد رہے کہ فرحان سعید نے چند روز قبل ایک نجی ٹی وی کے شو میں کہا تھا کہ اگر میں عمران خان کو ووٹ دینے پر غلط ثابت ہوا تو 5 سال بعد عوام سے معافی مانگ لوں گا۔

حمزہ علی عباسی

حمزہ علی عباسی نے بھی ٹوئٹ کیا جو غیر مسلموں پر ظلم اور ان کے حقوق غصب کرنے کے حوالے سے تھا۔

حریم فاروق

اداکارہ حریم فاروق نے دہلی میں مسلمانوں پر تشدد کے خلاف ٹوئٹ کرتے ہوئے بھارتی حکومت پرتنقید کرتے ہوئے کہا آپ کے جھنڈے تلے تقریباً 200 ملین (20 کروڑ) مسلمان رہتے ہیں لہذا کس طرح بھارتی حکومت یہ سب ہونے دے رہی ہے۔ وقت آگیا ہے بھارت میں ناانصافی کے خلاف آواز اٹھانے کا۔

منشا پاشا

اداکارہ منشا پاشا نے دہلی فسادات کو خوفناک قرار دیتے ہوئے ہندو توا کو دہشتگرد قرار دیا۔ اور لکھا انڈیا میں جو کچھ بھی ہورہا ہے اسے دیکھ کر خوف محسوس ہوتا ہے۔ منشا پاشا نے اشوک نگر میں انتہا پسندوں کے ہاتھوں جلائی جانے والی مسجد کی تصویر شیئر کی اور لکھا اس خوفناک حرکت کے بعد سیکولر انڈیا شعلوں میں جلے گا۔  اس کے ساتھ ہی منشا پاشا نے بھارت میں احتجاج کرنے اور اپنے حقوق کے لیے لڑنے والے افراد اور  اقلیتوں کے لیے دعا کی۔

ارمینا خان

اداکارہ ارمینا خان نے بھی بھارتی صورتحال پرتشویش کا اظہار کرتے ہوئے لکھا وہاں اتنی نفرت کیوں ہے؟کیوں آپ ایک دوسرے کو مارنا چاہتے ہیں؟ یہ سب انتہائی افسوسناک ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔