دہلی فسادات؛ مسلمانوں کے حق میں ریمارکس پر ہائی کورٹ کے جج کا تبادلہ

ویب ڈیسک  جمعرات 27 فروری 2020
جسٹس ایس مرلی دھر نے مسلمانوں کے بارے میں نفرت انگیز بیانات پر تین بی جے پی وزراء کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کی تجویز دی تھی۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)

جسٹس ایس مرلی دھر نے مسلمانوں کے بارے میں نفرت انگیز بیانات پر تین بی جے پی وزراء کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کی تجویز دی تھی۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)

نئی دہلی: دہلی میں مسلم کش فسادات کے بارے میں ایک مقدمے کی سماعت میں بی جے پی سے تعلق رکھنے والے تین وزراء کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کے ریمارکس دینے پر دہلی ہائی کورٹ کے جج کا تبادلہ کردیا گیا ہے۔

گزشتہ روز دہلی میں تشدد اور بڑے پیمانے پر قتل و غارت گری سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران دہلی ہائی کورٹ کے جج ایس مرلی دھر نے کہا تھا کہ مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز بیانات دینے پر تین بی جے پی وزراء یعنی انوراگ ٹھاکر، پرویش ورما اور کپل مشرا کے خلاف ایف آئی آر درج کرنی چاہیے۔

یہ خبر بھی پڑھیے: مسلم کش فسادات، بھارتی عدالت کا بی جے پی رہنماؤں کیخلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم

بھارتی اخبار ’’دی ہندو‘‘ کے مطابق دہلی کے مسلم کش فسادات میں اب تک 34 افراد اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔ چار روزہ ہنگاموں اور تشدد کے بعد اگرچہ اس وقت حالات پرسکون ہیں لیکن اب بھی پرانی دلّی کے مسلم اکثریتی علاقوں پر خوف اور دہشت کا راج ہے۔

یہ خبر بھی پڑھیے: دہلی مسلم کش فسادات میں 20 افراد جاں بحق؛ کئی علاقوں میں کرفیو

بی بی سی نے اپنی ایک تازہ رپورٹ میں بتایا ہے کہ سخت حفاظتی اقدامات کے باوجود ان کے نمائندے کو موٹر سائیکل پر سوار تین لڑکے دکھائی دیئے جنہوں نے ہاتھوں میں ڈنڈے اٹھائے ہوئے تھے اور وہ ’’جے شری رام‘‘ کے نعرے لگا رہے تھے۔

واضح رہے کہ ان فسادات کا آغاز اتوار کے روز اُس وقت ہوا جب مسلم مخالف متنازع شہریت قانون کے خلاف دہلی میں پرامن دھرنے پر بیٹھے مظاہرین پر مسلح ہندو جتھوں نے حملہ کردیا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔