کورونا وائرس؛ ملک میں فیس ماسک کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ

ویب ڈیسک  جمعرات 27 فروری 2020
ماسک کا 100 روپے والا ڈبہ 850 روپے اور 200 والا ڈبہ 1200روپے میں فروخت فوٹو:فائل

ماسک کا 100 روپے والا ڈبہ 850 روپے اور 200 والا ڈبہ 1200روپے میں فروخت فوٹو:فائل

 اسلام آباد: کورونا وائرس کی تصدیق کے بعد ملک کے مختلف شہروں میں فیس ماسک نایاب ہوگئے اور قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہوگیا۔

پاکستان میں کورونا وائرس کے 2 کیسز کی تصدیق ہوگئی ہے۔ ایک مریض کراچی اور دوسرا اسلام آباد میں ہے اور یہ دونوں افراد ایران سے واپس آئے تھے۔

ملک میں نازک صورتحال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ذخیرہ اندوزوں نے عوام کا استحصال کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ماسک مہنگے کردیے ہیں۔ بڑے تاجروں نے بے حسی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ماسک کا ذخیرہ کرلیا ہے جس کے باعث کئی شہروں میں یہ نایاب ہوگئے ہیں۔

حفاظتی اقدامات کے طور پر استعمال ہونے والے فیس ماسک مارکیٹ اور دکانوں سے غائب ہوگئے ہیں اور میڈیسن کی ہول سیل مارکیٹ میں بھی فیس ماسک دستیاب نہیں۔ شہریوں کے ساتھ ساتھ میڈیکل اسٹوروں پر دکاندار بھی صورتحال پر پریشان ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: کورونا وائرس سے بچنے کے لیے دیسی ماسک بنانے کا آسان طریقہ

کئی دکانوں پر ماسک بلیک میں فروخت کیے جارہے ہیں۔ راول پنڈی میں  50 ماسک کا 100 روپے والا ڈبہ 850 روپے کا فروخت ہونے لگا اور موٹےکپڑے کے ماسک کا ڈبہ 200 سے بڑھ کر 1200روپے کا ہوگیا۔ ادھر کراچی کی ہول سیل مارکیٹ میں 160 روپے والے باکس کی قیمت 1800 روپے تک پہنچ گئی ہے۔

ڈیلرز کا کہنا ہے کہ پاکستان میں فیس ماسک چین سے آتے ہیں مگر اب رسد بند ہے اور چین میں ماسک کی بڑھتی طلب کے باعث پاکستان میں قلت پیدا ہوئی۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ اسپتالوں تک میں ماسک کی قلت ہوگئی تو ایسے میں کورونا وائرس سے کیسے نمٹیں گے۔ انہوں نے وزیراعظم عمران خان سے معاملے پر نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔