قصہ ایک عامل کا

سعد اللہ جان برق  جمعرات 19 مارچ 2020
barq@email.com

[email protected]

آپ نے کبھی پیروڈیاں سنی یا پڑھی ہیں؟بڑے مزے کی چیز ہوتی ہیں، کسی مشہور شعر یا گیت یا غزل میں تھوڑی سی کمی پیشی کرکے اشک آور قہقہہ آور بنانے کو پیروڈی کہتے ہیں، مثلاً قتیل شفائی کا شعر ہے

شاید مجھے نکال کے پچھتا رہے ہوں آپ

محفل میں اس خیال سے پھرآگیاہوں میں

کسی نے اس میں بہت ہی کم رد وبدل کرکے کچھ کا کچھ بنادیاہے۔ آپ بھی اس میں ’’پچھتا‘‘کی جگہ ’’کچھ کھا‘‘کرکے دیکھیں۔ ہم نے بھی ایک زمانے میں ٹیلی وژن پران پیروڈیوں کا سلسلہ شروع کیا تھا جس کانام بھی پیروڈی تھا ’’بینجمن سسٹرز‘‘ جو ان دنوں بڑی مشہور تھیں، ان کی جگہ ’’بینجوملنگ برادرز‘‘یا بینجومن برادرز کردیاتھا جن میں ملنگوں کو بینجو بجاتے ہوئے دکھایا جاتاتھا۔ اردو پشتو دونوں زبانوں کی پیروڈی قوالیاں بڑی مقبول ہوئی تھیں۔ ایک دو نمونے غالب کی غزلوں کی

’’نقد‘‘فریادی ہے کس کی شوخئی تقریر کا

کاغذی ہے پیرہن قائد کی ہر تصویرکا

جز’’کیش‘‘اور کوئی نہ آیا بروئے کا

’’دفتر‘‘مگربہ تنگئی چشم حسود تھا

سیاست کرنے والے کم نہ ہوں گے

مگر وہ اتنے چیونگم نہ ہوں گے

جب سے تونے مجھے خربوزہ بنارکھاہے

چاقو ہرشخص نے ہاتھوں میں اٹھارکھاہے

پیروڈی کا حسن کم سے کم تبدیلی میں ہوتا ہے، جیسے ہماری ایک پیروڈی میں ہے

آتی جاتی’’ساس‘‘کا عالم نہ پوچھ

جیسے دہری دھار کا خنجرچلے

لیکن آج ہمارا موضوع نہ پیروڈی ہے نہ ’’ساس‘‘ جوکبھی بہو تھی اور نہ’’بہو‘‘جوکبھی ساس بنے گی بلکہ اس مسکین دانے کاہے جو چکی کے ان دو پاٹوں میں پیستا ہے یعنی

زحال مسکیں مکن تغافل بچارہ دل ہے

یعنی شوہر جو ہمیشہ ’’شوفر‘‘رہتاہے یہ ایک شوفر یعنی ڈرائیور کاقول ہے کہ میں آٹھ گھنٹے مالک ’’کی‘‘ بس میں ہوں اور باقی بیوی’’کے‘‘بس میں رہتا ہوں۔ ویسے تو خدا کے یہ صابر وشاکر اور پراسراربندے بہت سارے ناموں سے یاد کیے جاتے ہیں اور وہ سارے نام اس پر یوں ٹھیک بیٹھتے ہیں جیسے اسی کے لیے بنے ہوں یا اسے ان کے لیے بنایا گیا ہو۔ ہمارے ایک شاعر دوست تھے جس کی شکل وصورت قدوقامت بول چال نشست وبرخاست مطلب یہ کہ سارا جغرافیہ کچھ ایسا تھا کہ اس پر ہر ہر پھبتی بیٹھتی تھی، اُلو، بلی، چوہا، طوطا ، مرغا، مرغی، اونٹ، بیل، بکرا ، بکری ،کوا توا،سائیکل رکشا، موٹر ٹرک جو بھی کہیے۔

وہ ٹھیک اسی کی طرح لگتا، کتے کی دُم، گیدڑ کی پونچھ ، چیل کی چونچ، چمچہ ،کانٹا، آلومٹر ،گاجر مولی سب کے جیسا لگتاتھا۔اکثر وہ شکایت کرتا کہ یار آخر میں ہوں؟ کیا ہم اسے کہتے کہ بنانے والے نے تمہارے اندر ہر چیز کی گنجائش رکھی ہے بلکہ ہر نعمت تجھے عطا کی ہوئی ہے، ایسا لگتا ہے جب سارے جانور اور جاندار وبے جان  چیزیں بنائی گئیں تو باقی جو ملبہ بچا، اسے اکٹھا کر کے تم بنائے گئے ہو۔چنانچہ یہ شوہرنام کی چیز بھی ایک ایسی چیز ہے جسے ہر چیز بنایا جاسکتاہے اور ہرنام اس پرجچتا اور پھبتا ہے لیکن ایک نام ایسا ہے جس پر ہمیں اعتراض ہے اور سخت اعتراض ہے جسے ہم کبھی واپس نہیں لیں گے اور وہ نام ہے ’’زن مرید‘‘جو اکثر شوہروں پرچسپاں کیاجاتا  ہے یا شوہر اس پر چسپاں کیے جاتے ہیں لیکن ہر ہر پہلو سے غلط ہے، خلاف واقعہ ہے ،خلاف عقل ہے اور خلاف منطق ہے۔

کیونکہ ’’مرید‘‘کا لفظ عقیدت ہے جب کہ بیچارا شوہر خوف یا جھاڑو چپل اور یا کسی اور چیز کا مارا ہوتا ہے، اس میں عقیدت کا ذرہ بھر بھی شائبہ نہیں ہوتا، صرف ڈر خوف اور مجبوری ہوتی ہے اور مجبوری کانام ’’مریدی‘‘ نہیں بلکہ ’’غلامی‘‘ہوتا ہے۔ہم نے اپنی شناسائی کی دنیا میں تمام شوہروں کو اسی حالت کا شکار دیکھاہے، اس لیے زن مرید کی اصطلاح قطعی غلط ہے اور اس کا نام ’’زن غلامی‘‘ہوناچاہیے۔

کبھی کبھی کہیں کوئی ایک مثال ایسی بھی مل جاتی ہے جو زن غلامی کے بجائے ’’زن مریدی‘‘ کی فہرست میں آتی ہے۔مثلاً ہم نے ایک مثال ایسی دیکھی ہے جس میں شوہر باقاعدہ زن مرید تھا۔ قصہ یوں ہوا تھا کہ ہمارے علاقے سے اوپر چراٹ کے پہاڑی علاقے میں ایک عامل ٹائپ شخص نہ جانے کہاں سے آگیا تھا اور تھوڑے ہی دنوں میں وہ چھا گیا کیونکہ اس نے اپنا دھندہ جدید طریقے کے عین مطابق چلایا تھا، پہلے اس نے باقاعدہ ایک پبلسٹی ڈیپارٹمنٹ کھولا۔اور علاقے کے سارے’’ٹیکسی ڈرائیوروں‘‘زبان دراز بوڑھے بوڑھیوں کو اپنے ’’پے رول‘‘پررکھ لیا۔

ہرطرف اس کی دھوم ہوئی، ڈنکا بجنے لگا اور دولت کا مینہ برسنے لگا، اندازہ اس سے لگائیں کہ لوگ نذرونیاز میں جو بھیڑبکریاں پیش کرتے تھے، اس کا ایک بڑا ریوڑ بن گیا جو ادھر ادھر کے علاقے اور پہاڑیوں میں کھلا چرتا تھا اور لوگ ان صاحب کا مال سمجھ کر اس سے تغرض نہیں کرتے تھے، ظاہر ہے کہ اس میں بھی امراء والی وہ عادت راسخ ہوگئی تھی جسے ’’نکاح وطلاق‘‘کا سلسلہ کہتے ہیں چنانچہ ان صاحب نے بھی چار شادیاں کرلیں۔اور پھر ایک دن اچانک عامل کو کسی نے قتل کرڈالا، پولیس نے تفتیش شروع کی تو ہمارے ایک دوست کا دوست بھی شک کے دائرے میں آگیا۔

دوست کے کہنے پرہم نے تھانیدار سے رجوع کیا جو ہمارا شناسا اور قدردان تھا، ہم نے مذکورہ شخص کی صفائی پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایسا آدمی نہیں ہے،عامل صاحب کے قتل سے اس کا کوئی تعلق نہیں، اس لیے اسے شک کے دائرے سے نکال دو۔اس نے کہا، ٹھیک ہے اور ہم کونسا قاتل کو پکڑکرقتل کے جرم میں سزا دلوانا چاہتے ہیں، ہم تو اس سے پوچھنا چاہتے ہیں کہ یہ نیک کام اتنی دیر سے کیوں کیا۔کچھ عرصے بعد پتہ چلا کہ اس عامل صاحب کی اہلیہ محترمہ ہی نے اس کے نوجوان چیلے کے ساتھ مل کر عامل صاحب کو قتل کیاتھا۔ کیس کی  فائل بند ہونے پر اس چیلے نے عامل صاحب کی بیوی سے شادی کی، یہی ایک مثال ہم نے دیکھی ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔