راز و نیاز اور قُربتوں کی معراج

ڈاکٹر محمد نجیب قاسمی سنبھلی  اتوار 22 مارچ 2020
’’اے اﷲ! رجب اور شعبان کے مہینوں میں ہمیں برکت عطا فرما اور ماہ رمضان تک ہمیں پہنچا۔‘‘۔ فوٹو: فائل

’’اے اﷲ! رجب اور شعبان کے مہینوں میں ہمیں برکت عطا فرما اور ماہ رمضان تک ہمیں پہنچا۔‘‘۔ فوٹو: فائل

’’اﷲ کے نزدیک مہینوں کی تعداد بارہ مہینے ہیں، جو اﷲ کی کتاب (لوح محفوظ) کے مطابق اُس دن سے نافذ ہیں، جس دن اﷲ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا۔ ان میں سے چار حرمت والے ہیں۔‘‘ (سورۃ التوبہ)

نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ وہ چار مہینے ذوالقعدہ، ذوالحجہ، محرم الحرام اور رجب المرجب ہیں۔ ان چار مہینوں کو حرمت والے مہینے اس لیے کہتے ہیں کہ ان میں ہر ایسے کام جو فتنہ، فساد، قتل و غارت گری اور امن و سکون کی خرابی کا باعث ہو، سے منع فرمایا گیا ہے۔ اگرچہ لڑائی جھگڑا سال کے دیگر مہینوں میں بھی حرام ہے، مگر اِن چار مہینوں میں لڑائی جھگڑا کرنے سے خاص طور پر منع کیا گیا ہے۔ ان چار مہینوں کی حرمت و عظمت پہلی شریعتوں میں بھی مسلّم رہی ہے حتی کہ زمانہ جاہلیت میں بھی ان چار مہینوں کا احترام کیا جاتا تھا۔

رجب کا مہینہ شروع ہونے پر حضور اکرم ﷺ اﷲ تعالیٰ سے یہ دعا مانگا کرتے تھے: ’’اے اﷲ! رجب اور شعبان کے مہینوں میں ہمیں برکت عطا فرما اور ماہ رمضان تک ہمیں پہنچا۔‘‘ مسجد حرام (مکہ مکرمہ) سے مسجد اقصیٰ کا سفر جس کا تذکرہ سورۂ بنی اسرائیل میں کیا گیا ہے، کو اسراء کہتے ہیں اور یہاں سے جو سفر آسمانوں کی طرف ہوا اس کا نام معراج ہے۔

قرآن کریم اور احادیث متواتر سے ثابت ہے کہ اسراء و معراج کا تمام سفر صرف روحانی نہیں بل کہ جسمانی تھا۔ یعنی نبی اکرم ﷺ کا یہ سفر کوئی خواب نہیں تھا بل کہ ایک جسمانی سفر اور عینی مشاہدہ تھا۔ یہ ایک معجزہ تھا کہ مختلف مراحل سے گزر کر اتنا طویل سفر اﷲ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے رات کے صرف ایک حصے میں مکمل کردیا۔ معراج کا واقعہ پوری انسانی تاریخ کا ایک عظیم، مبارک اور بے نظیر معجزہ ہے۔ خالق کائنات نے اپنے محبوب ﷺ کو دعوت دے کر اپنا مہمان بنانے کا وہ شرف عظیم عطا فرمایا جو نہ کسی انسان کو کبھی حاصل ہوا ہے اور نہ کسی مقرب ترین فرشتے کو۔

واقعہ معراج کے مقاصد میں جو سب سے مختصر اور عظیم بات قرآن کریم (سورہ بنی اسرائیل) میں ذکر کی گئی ہے وہ یہ ہے کہ ہم (اﷲ تعالیٰ) نے آپ ﷺ کو اپنی کچھ نشانیاں دکھلائیں۔ اس کے مقاصد میں سے ایک اہم مقصد اپنے حبیب ﷺ کو وہ عظیم الشان مقام و مرتبہ دینا ہے جو کسی بھی بشر حتی کہ کسی مقرب ترین فرشتہ کو نہیں ملا ہے اور نہ ملے گا۔ نیز اس کے مقاصد میں امت مسلمہ کو یہ پیغام دینا ہے کہ نماز ایسا مہتم بالشان عمل اور عظیم عبادت ہے کہ اس کی فرضیت کا اعلان زمین پر نہیں بل کہ ساتوں آسمانوں کے اوپر بلند و اعلیٰ مقام پر معراج کی رات میں ہوا۔ نیز اس کا حکم حضرت جبرئیلؑ کے ذریعے نبی اکرم ﷺ تک نہیں پہنچا بل کہ اﷲ تعالیٰ نے فرضیت ِ نماز کا تحفہ بہ ذاتِ خود اپنے حبیب ﷺ کو عطا فرمایا۔ نماز اﷲ تعالی سے تعلق قائم کرنے اور اپنی ضرورتوں اور حاجتوں کو مانگنے کا سب سے بڑا ذریعہ اور معراج مومن ہے۔

اس واقعہ کی مختصر تفصیل یہ ہے کہ حضور اکرم ﷺ کے پاس سونے کا طشت لایا گیا جو حکمت اور ایمان سے پُر تھا، آپ ﷺ کا سینۂ مبارک چاک کیا گیا، پھر اسے زم زم کے پانی سے دھویا گیا، پھر اسے حکمت اور ایمان سے بھر دیا گیا اور پھر بجلی کی رفتار سے زیادہ تیز چلنے والی ایک سواری یعنی براق لایا گیا جو اپنا قدم وہاں رکھتا تھا جہاں تک اس کی نظر پڑتی تھی۔ اس پر سوار کرکے حضور اکرم ﷺ کو بیت المقدس لے جایا گیا اور وہاں تمام انبیائے کرامؑ نے حضور اکرم ﷺ کی اقتداء میں نماز پڑھی۔ پھر آسمانوں کی طرف لے جایا گیا۔

پہلے آسمان پر حضرت آدمؑ، دوسرے آسمان پر حضرت عیسیٰؑ اور حضرت یحییٰؑ، تیسرے آسمان پر حضرت یوسفؑ، چوتھے آسمان پر حضرت ادریسؑ، پانچویں آسمان پر حضرت ہارونؑ، چھٹے آسمان پر حضرت موسیٰؑ اور ساتویں آسمان پر حضرت ابراہیم علیہ السلام سے ملاقات ہوئی۔ اس کے بعد البیت المعمور حضور اکرم ﷺ کے سامنے کردیا گیا جہاں روزانہ ستّر ہزار فرشتے اﷲ کی عبادت کے لیے داخل ہوتے ہیں، جو دوبارہ اس میں لوٹ کر نہیں آتے۔ پھر آپ ﷺ کو سدرۃ المنتہی تک لے جایا گیا۔ اس موقع پر حضور اکرم ﷺ کو اﷲ تعالیٰ سے انسان کا رشتہ جوڑنے کا سب سے اہم ذریعہ یعنی نماز کی فرضیت کا تحفہ ملا۔

رات کے صرف ایک حصہ میں مکہ مکرمہ سے بیت المقدس جانا، انبیائے کرامؑ کی امامت کرنا، پھر وہاں سے آسمانوں تک تشریف لے جانا، انبیائے کرامؑ سے ملاقات اور پھر اﷲ جل شانہ کی دربار میں حاضری، جنت و دوزخ کو دیکھنا، مکہ مکرمہ تک واپس آنا اور واپسی پر قریش کے ایک تجارتی قافلے سے ملاقات ہونا جو ملک شام سے واپس آرہا تھا۔ جب حضور اکرم ﷺ نے صبح کو معراج کا واقعہ بیان کیا تو قریش تعجب کرنے اور جھٹلانے لگے اور حضرت ابوبکر صدیقؓ کے پاس گئے۔

حضرت ابوبکر صدیقؓ نے فرمایا کہ اگر انہوں نے یہ بات کہی ہے تو سچ فرمایا ہے۔ اس پر قریش کے لوگ کہنے لگے کہ کیا تم اس بات کی بھی تصدیق کرتے ہو؟ انہوں نے فرمایا کہ میں تو اس سے بھی زیادہ عجیب باتوں کی تصدیق کرتا ہوں اور وہ یہ کہ آسمانوں سے آپؐ کے پاس خبر آتی ہے۔ اسی وجہ سے انہیں صدیق کا لقب عطا ہوا ۔ اس کے بعد جب قریش مکہ کی جانب سے حضور اکرم ﷺ سے بیت المقدس کے احوال دریافت کیے گئے تو اﷲ تعالیٰ نے بیت المقدس کو حضور اکرم ﷺ کے لیے روشن فرما دیا، اُس وقت آپ ﷺ حطیم میں تشریف فرما تھے۔ قریش مکہ سوال کرتے جارہے تھے اور آپ ﷺ جواب دیتے جا رہے تھے۔

اﷲ تعالیٰ ہم سب کا خاتمہ ایمان پر فرما اور دونوں جہاں کی کام یابی و کام رانی عطا فرما۔ آمین

 

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔