بازار اور مارکیٹیں بند ہونے سے خواجہ سرا فاقہ کشی پر مجبور

کاشف حسین  منگل 24 مارچ 2020
بازاروں اوردکانوں کی بندش سے آمدن کا بڑا ذریعہ بند ہو گیا، مزار بند ہونے سے بھوک مٹانا بھی مشکل ہوگیاہے ،خواجہ سرا۔ فوٹو: فائل

بازاروں اوردکانوں کی بندش سے آمدن کا بڑا ذریعہ بند ہو گیا، مزار بند ہونے سے بھوک مٹانا بھی مشکل ہوگیاہے ،خواجہ سرا۔ فوٹو: فائل

کراچی: کورونا وائرس کی وبا کی روک تھام کے لیے کراچی میں ہونے والے لاک ڈاؤن کے نتیجے میں جہاں یومیہ اجرت کمانے والے افراد کا روزگار متاثر ہوا ہے وہیں کراچی کی سڑکوں اور بازاروں میں بھیک مانگ کر گزر بسر کرنے والی تیسری جنس مخنس اور خواجہ سراؤں کو بھی شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

سندھ حکومت نے کراچی میں کورونا وائرس کی روک تھام کے لیے تمام بازاروں، ہوٹلوں اور دکانوں پر پابندی عائد کردی ہے، صرف کھانے پینے کی اشیا فروخت کرنے والی دکانیں اور بازار کھولنے کی اجازت ہے اس صورتحال میں شہر کی تجارتی سرگرمیاں بری طرح متاثر ہورہی ہیں اور 90فیصد دکانیں اور کاروبار بند پڑا ہے۔

کراچی میں سکونت پذیر خواجہ سراؤں سے تعلق رکھنے والے افراد کی گزربسر کا واحد ذریعہ گداگری ہے، تیسری جنس سے تعلق رکھنے والوں کی اکثریت دوسرے شہروں سے تعلق ر کھتی ہے جو کراچی کی مصروف سڑکوں، چوراہوں اور بازاروں میں بھیک مانگ کر گزربسر کرتے تھے، بازاروں اور دکانوں کی بندش کی وجہ سے تیسری جنس سے تعلق رکھنے والے افراد کی آمدن کا بڑا ذریعہ بند ہوگیا ہے۔

کراچی کی سڑکیں ویران پڑی ہیں اور شہری گھروں سے باہر نکلنے سے اجتناب کررہے ہیں، کراچی کی درگاہیں اور مزارات غریب اور نادار افراد کے لیے بھوک مٹانے کا ایک اہم ذریعہ ہیں تاہم کورونا کی وبا کی روک تھام کے لیے مزارات اور درگاہوں کو بھی 15 روز کے لیے بند کردیا گیا ہے، تیسری جنس سے تعلق رکھنے والے ان مزرات اور درگاہوں سے رجوع کرلیا کرتے تھے تاہم اب ان کے لیے یہ راستہ بھی بند کردیا گیا ہے۔

لاک ڈاؤن سے10ہزارخواجہ سرامشکلات سے دوچار ہو گئے

کراچی میں قانون کی تعلیم حاصل کرکے اپنے جیسے تیسری جنس سے تعلق رکھنے والے افراد کی قانونی مدد کرنے والی نشاء راؤ کے مطابق لاک ڈاؤن کی صورتحال کی وجہ سے تیسری جنس سے تعلق رکھنے والے افراد رہائش کی جگہوں پر محصور ہوکر رہ گئے ہیں۔ ان کے پاس کھانے پینے کی اشیا خریدنے کے پیسے نہیں ہیں اور فاقہ کشی جسی صورتحال کا سامنا ہے۔

نشا راؤ کے مطابق کراچی میں لگ بھگ 10 ہزار خواجہ سرا سکونت پذیر ہیں جن کی مشکلات میں لاک ڈاؤن کی وجہ سے بے پناہ اضافہ ہوگیا ہے ایسے مخنس جو سندھ کے مختلف شہروں سے تعلق رکھتے تھے وہ کراچی سے واپس اپنے آبائی علاقوں کو جاچکے ہیں لیکن ایسے تما م شی میلز جو پنجاب یا دیگر صوبوں سے تعلق رکھتے ہیں یا کراچی کے مقامی ہیں اور انھیں ان کے خاندان بے دخل کرچکے ہیں بے حد مشکلات کا شکار ہیں۔

ٹرانس جینڈرز کو موجودہ حالات میں تنہا نہیں چھوڑیں گے

کمشنر کراچی افتخار شلوانی جو اس وقت کورونا وائرس سے مقابلہ کرنے والے ہر اول دستے کا حصہ ہیں اپنی انتہائی مصروفیات کے باوجود انھوں نے تیسری جنس کو درپیش مسئلے کو سنجیدگی سے سنا، ایکسپریس سے بات کرتے ہوئے کمشنر کراچی افتخار شلوانی کا کہنا تھا کہ حکومت سندھ نے ایسے تمام افراد جو یومیہ روزگار کماتے ہیں اور موجودہ حالات میں پریشانی کا شکار ہیں راشن پہنچانے کا انتظام کیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ تیسری جنس سے تعلق رکھنے والے خواجہ سرا بھی اس معاشرے کا حصہ ہیں اور عام شہریوں کی طرح ان کے حقوق کا تحفظ اور مسائل کا حل بھی حکومت کی ذمہ داری ہے، افتخار شلوانی نے کہا کہ ٹرانس جینڈر کمیونٹی سے وابستہ افرا دکو موجودہ حالات میں تنہا نہیں چھوڑا جائے گا ایسے تمام افراد کمشنر ہاؤس یا کسی بھی ڈپٹی کمشنر کے دفتر سے رابطہ کرکے اپنے کوائف جمع کراسکتے ہیں انہیں موجودہ حالات ہر قسم کی مدد پہنچائی جائے گی۔

سماجی تنظیموں نے متاثرہ خواجہ سراؤں سے رابطہ نہیں کیا

تیسری جنس سے تعلق رکھنے والے افراد کے حقوق کے تحفظ کے لیے کئی سماجی تنظیمیں سرگرم ہیں تاہم تاحال ان این جی اوز نے بھی متاثرہ شی میلز سے رابطہ نہیں کیا۔ نشا راؤ کے مطابق زیادہ تر شی میلز گروپ کی شکل میں چھوٹے سے مکانات میں مل جل کر رہتے ہیں اور ایک دوسرے کے دکھ درد میں کام آتے ہیں زیادہ تر رہائش گاہیں کرائے کے مکانات میں واقع ہیں جن کے کرائے، بجلی گیس کے بلوں کی ادائیگی بھی ان حالات میں ممکن نہیں رہی، تیسری جنس سے وابستہ افراد کے لیے فلاحی انجمنوں کے دسترخوانوں پر جگہ حاصل کرنا یا مخیر حضرات کی جانب سے تقسیم کیے جانے والے راشن کی قطاروں کا حصہ بننا بھی ممکن نہیں ہے کیونکہ دیگر جنس کے افراد انھیں اپنے درمیان قبول نہیں کرتے اور عمومی طور پر معاشرے کی جانب سے انھیں تضحیک کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔

خواجہ سراؤں کی بڑی تعداد بیماریوں میں مبتلاہے

کراچی میں سکونت پذیر تیسری جنس سے تعلق رکھنے والوں کی بڑی تعداد مہلک بیماریوں میں مبتلا ہیں جن میں ایچ آئی وی پازیٹیو مریضوں کی بڑی تعداد ہے، تیسری جنس سے وابستہ افراد جو عمر کے آخری حصہ میں پہنچ گئے ہیں زیادہ خراب حالات کا شکار ہیں، ان کی آمدن نہ ہونے کے برابر ہے اور ان کے رشتے داروں نے ان سے منہ پھیر رکھا ہے اور عمر کے آخری حصہ میں ہونے کی وجہ سے انھیں مالی پریشانی کے ساتھ مختلف بیماریوں نے بھی گھیر رکھا ہے۔

تیسری جنس سے تعلق رکھنے والے افراد کورونا وائرس کے پھیلاؤکا سبب بھی بن سکتے ہیں،عموماً تیسری جنس سے تعلق رکھنے والے افراد دن میں سیکڑوں افراد سے ملتے ہیں، خیرات ملنے کی صورت میں مخیر حضرات کے سر پر ہاتھ پھیر کر دعائیں دینا، باڈی لینگویج کا استعمال کرنا ان کی عادت کا حصہ ہے، زیادہ تر نیم خواندہ یا ناخواندہ ہیں اور کورونا وائرس کی وبا کی روک تھام کے لیے حفاظتی اقدامات اختیار کرنے کے لیے وسائل نہیں رکھتے۔

بیمارخواجہ سراؤں کوفوری مدد کی ضرورت ہے، نشاراؤ

نشا راؤ کے مطابق لگ بھگ 400 ایسے افراد ان کی کمیونٹی کا حصہ ہیں جو پہلے ہی سنگین بیماریوں کا شکار ہیں اور انھیں فوری طو رپر معاشرے کی مدد درکار ہے، نشا راؤ نے سندھ حکومت، شہری انتظامیہ سے اپیل کی ہے کہ تیسری جنس سے تعلق رکھنے والے افراد کی مشکلات کے پیش نظر ان کی براہ راست مدد کے لیے اقدامات کیے جائیں انھیں کھانے پینے کی اشیا کے ساتھ جراثیم کش صابن، ماسک اور دیگری حفاظتی اشیا فراہم کی جائیں تاکہ وبا پر قابو پائے جانے تک انھیں اپنے گھروں سے نکلنے کی ضرورت نہ پڑے۔

 

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔