’’ادیب مصلح نہیں ہوتا‘‘

عبید اللہ عابد  منگل 24 مارچ 2020
ممتاز فکشن نگار سلمیٰ یاسمین نجمی کے حالات وخیالات۔ فوٹو: فائل

ممتاز فکشن نگار سلمیٰ یاسمین نجمی کے حالات وخیالات۔ فوٹو: فائل

’’نویں جماعت میں تھی کہ پہلا افسانہ ’منزل‘ لکھا۔ امی جان کو دکھانے کا حوصلہ نہ ہوا۔ کافی دن یوں ہی پڑا رہا۔ آخر ایک دن دھڑکتے دل، کانپتے ہاتھوں سے انھیں تھمایا اور خود کمرے کا دروازہ بند کرکے بیٹھ گئی۔ آج کل شاید کوئی محبت نامہ لکھ کر بھی اتنا نہ گھبراتا ہو، جتنا میں ایک افسانہ لکھ کر نروس تھی کہ نہ جانے امی کیا سوچیں گی، مگر کوئی دھماکا نہ ہوا۔ امی حسب معمول تھیں۔ ان کو نارمل دیکھ کر سانس میں سانس آیا۔‘‘

محترمہ سلمیٰ یاسمین نجمی کی والدہ محترمہ ’نیر بانو‘خود بھی ایک صاحب طرز ادیبہ تھیں، بے شمار افسانے اور مضامین لکھے، وہ ادیب عالم تھیں، پھر طبیہ کالج دہلی سے حکمت کی تعلیم حاصل کی، اسی کالج میں حکمت پڑھائی۔ انھیں اردو اور فارسی ادب سے خوب شغف تھا اور ان زبانوں میں شاعری ازبر تھی، بعدازاں اپنی کوشش سے انگریزی کی استعداد اس قدر بڑھائی کہ انگریزی ادب بھی پڑھا۔

یہ ساری باتیں دہلی کی ہیں، محترمہ سلمیٰ یاسمین نجمی نے بھی وہیں آنکھ کھولی تو والدہ نے چاہاکہ بیٹی جلد از جلد پڑھنا سیکھ جائے، بیٹی نے بھی کمال کیا اور چارسال کی عمر میں پڑھنا سیکھ لیا۔کہتی ہیں: ’’اب میں حیران ہوتی ہوں کہ چار سال کی بچی کس طرح پڑھ سکتی ہے۔ پڑھنے کا ایک چسکا اور جنون تھا۔ پیسہ لائبریری کی کتابیں پڑھتی تھی جن پر پیسہ بنا ہوتا تھا۔ جو کچھ بھی ہاتھ آجاتا، پڑھ لیتی۔خالہ حمیدہ بیگم جوجماعت اسلامی حلقہ خواتین کی پہلی ناظمہ اور میری استاد تھیں، کے گھر کی ’پڑچھتی‘ پر ’’پھول‘‘کے بے شمار پرانے شمارے پڑے ہوئے تھے، وہ سارے پڑھ لئے، دیکھنے والے پوچھتے کہ یہ لڑکی’’پھول‘‘ پڑھتی ہے یا کھاتی ہے۔‘‘

’’امی گھر پر ’نقوش‘ اور’فنون‘ منگواتیں۔ ایک اور رسالہ بھی منگواتی تھیں ’روح ادب‘۔ اس میں اشفاق احمد کی ایک کہانی چھپی ہوئی تھی، شاید اس کا عنوان ’مہمان بہار‘ تھا۔ اماں چھپا کر رکھتی تھیں کہ میں نہ دیکھ سکوں کہ ابھی میری عمر وہ کہانی پڑھنے کی نہیں۔ میں آٹھ برس کی تھی مگر میں نے وہ کہانی پڑھ لی۔ پھر میں نے اس دور کے سارے ادیبوں کو پڑھا۔ حجاب امتیاز تو رومانوی سا لکھتی تھیں، پریم چند کو پڑھا، وہ ترقی پسند نہیں تھا، باقی ترقی پسند ادب سارا پڑھا۔ پرانی شاعری بھی پڑھی مثلاً ولی دکنی کی شاعری۔ ہر چیز پڑھنے کا چسکا تھا۔ میں سیالکوٹ کی اقبال لائبریری کی ممبر تھی، وہاں کا سب کچھ پڑھ لیا۔ میرا بھائی کتابیں لے آتا۔ ابن صفی کی ساری کہانیاں پڑھیں۔ مجھے بہت پسند تھا۔ میں نے تیرتھ رام فیروزپوری کو بھی پڑھا۔ جب کالج آئی تو انگریزی ادب پڑھنا شروع کردیا۔ اس وقت کے مشہور ادیبوں، ڈکنز، ہارڈی، ورڈزورتھ، شیلے، کیٹس، شیلے، کولرج وغیرہ سب کو پڑھا۔ اس وقت روسی ادب کا ترجمہ انگریزی زبان میں ہوچکا تھا، وہ بھی پڑھ ڈالا۔‘‘

٭ خاندانی پس منظر

’’والدین کا آبائی وطن دہلی تھا، تقسیم کے بعد پاکستان آگئے۔ تب میں بہت چھوٹی تھی اور ایک بھائی بھی تھا جو چھوٹا تھا۔ والد پولیس میں تھے، وہ نہیں آئے کیونکہ ابھی فیصلہ نہیں ہوا تھا کہ انھوں نے انڈیا میں ڈیوٹی کرنی ہے یا پاکستان میں۔ ہم لوگ نانا کے پاس کوئٹہ آگئے۔ وہاں پہلی جماعت میں داخلہ لیا۔ وہیں قائداعظم کو بھی دیکھا، تب میں پانچ ، چھ برس کی تھی۔ وہ ہمارے سکول آئے، ہم سب بچے قطاریں بنا کر کھڑے تھے اور وہ درمیان میں سے گزر کر جارہے تھے۔دبلے پتلے، شیروانی اور شلوار میں ملبوس۔ یہ معلوم تھا کہ قائداعظم ہیں لیکن ان کی اہمیت کا اندازہ نہیں تھا۔ یہ منظر ذہن میں رہ گیاہے۔ پھر ایک سال بعد والد بھی پاکستان آگئے، ان کی تعیناتی سیالکوٹ میں ہوئی، اور ہم بھی کوئٹہ سے وہاں آگئے۔‘‘

’’والد سید سخاوت علی، اعلیٰ خاندان کے تھے۔ ایک مغل بادشاہ نے ہمارے جدامجد کو جاگیر دی اور کہا کہ یہاں کام کریں۔ اباّ دہلی کے عبدالسلام شاہ نیازی، کے مرید تھے، اخلاق احمد دہلوی نے ان پر لکھا بھی ہے۔ وہ اباّ سے بہت زیادہ محبت اور سیّد ہونے کے ناتے عزت کرتے تھے۔اباّ نے عہد کیا ہواتھا کہ کبھی رشوت نہیں لینی۔ جب آدمی رشوت نہیں لیتا تو ترقیاں بھی نہیں ہوتیں کیونکہ وہ کھاتا ہے نہ کھلاتاہے۔ والدہ کی جب شادی ہوئی تو بہت آزاد خیال تھیں، اس زمانے میں’اپوا‘ جیسی تحریکیں اٹھ رہی تھیں، سب پردے اتر گئے تھے۔ میرے ماموں زاہد حسین سٹیٹ بنک آف پاکستان کے پہلے گورنر تھے۔خرم جاہ مراد (جو نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان رہے ہیں) میری امّی کے خالہ زاد بھائی تھے۔ اماں کی ایک ہی خالہ تھیں۔ وہ شروع ہی سے سیدمودودی کی حامی تھیں، اس وقت جماعت اسلامی کا حلقہ خواتین قائم نہیں ہوا تھا۔اپنی خالہ کے ہاں میری امی نے کتاب ’پردہ‘ پڑھی، اسی طرح انھوں نے مزید دو چار کتابیں پڑھنے کو دیں، یوں ان میں تبدیلی آئی اور وہ سیدمودودی کی حامی بن گئیں۔انھوں نے خالہ سے کہا کہ مجھے جماعت اسلامی کی رکن بنائیں۔اس وقت جماعت اسلامی کا حلقہ خواتین قائم نہیں ہوا تھا، چنانچہ مودودی صاحب نے کہا کہ آپ دو رکعت نماز پڑھ کر عہدنامہ رکنیت پڑھ لیجئے، آپ رکن بن جائیں گی۔ یوں والدہ پہلی رکنِ جماعت بنیں۔ اباّ سی آئی ڈی میں تھے، وہ بیوی کے خط خود نہیں پڑھتے تھے، کسی اور سے پڑھواتے۔ اس زمانے میں سنسر شپ بہت زیادہ تھی۔ تاہم انھوں نے کبھی میری والدہ کو سیدمودودی کی جماعت میں سرگرم ہونے سے نہیں روکا تھا۔‘‘

٭ لکھنا کب شروع کیا؟

’’نو سال کی تھی جب پہلی کہانی’’ننھا مجاہد‘‘ لکھی جو مقامی رسالہ میںشائع ہوئی۔ چودہ سال کی عمر تک حجاب امتیازعلی وغیرہ کو پڑھ چکی تھی۔کہانی پر وہی اثرات تھے، منظرکشی بھی اسی قسم کی تھی،آخر میں کہانی کو ’’مشرف بہ اسلام‘‘ کردیا، اذانیں دلادیں اور کلمے پڑھوا دیے۔ اس کے بعد لکھنے کا سلسلہ جاری ہوگیا۔ امی نے بھی تعریف کی اور خالہ حمیدہ بیگم نے بھی۔کالج میں داخلہ لیا تو اس وقت ’عفت‘ اور ’چراغ راہ‘میں میری کہانیاں اور افسانے چھپتے رہے۔کالج لائف میں ہر وقت کچھ نہ کچھ لکھتی ہی رہتی تھی۔گورنمنٹ کالج فار ویمن سیالکوٹ سے گریجویشن کی، ابھی میرا رزلٹ نہیں آیا تھا کہ 61ء میںشادی ہوگئی اور خواجہ محبوب الٰہی(شوہر) کے ساتھ انگلینڈ چلی گئی، وہ ’سی اے‘ کررہے تھے۔ وہاں دو برس رہی۔اُس وقت طبعیت میں جھجھک بہت تھی۔اس لئے مزید نہیں پڑھا۔‘‘

٭ ’اصلاحی‘ ادب دراصل ’پروپیگنڈا‘ ادب ہوتا ہے

’’مجھے نہیں معلوم ’اصلاح‘ کیا ہوتی ہے، ہم مصلح نہیں ہیں، ہم ادیب ہیں۔ میرے ادب کا مقصد ہے ادب برائے زندگی اور زندگی برائے بندگی۔ اصلاح والی بات یوں ہے کہ آپ نے کسی کو پکڑ کر زبردستی جائے نماز پر کھڑا کردینا، کلمہ پڑھوا دینا، کسی سے چوری چھڑوا دینی ہے، یہ ادیب کا کام نہیں۔ میںکسی کی چوری نہیں چھڑوا سکتی۔ ہاں! یہ کہہ سکتی ہوں کہ ایک چور کیوں چور بنتاہے یا جس کی چوری ہوتی ہے، اس پر چوری کے کیا اثرات ہوتے ہیں۔ میراخیال ہے کہ ’اصلاحی ادب‘ کے بجائے ’تعمیری ادب‘ کا نام دیناچاہئے۔ ہاں! ادب بے مقصد اور مادرپدرآزاد نہیں ہونا چاہئے۔ ادب کی کچھ حدود ہیں جو ہمارا دین ہمیں بتاتا ہے۔ مثلاً بے حیائی کی حد کہاں شروع ہوتی ہے، ہمیں اسے ملحوظ رکھناچاہئے۔ ادیب کا کام معاشرے کی دکھتی رگوں پر انگلیاں رکھنا ہے، اس کے بعد وہ باقی کا معاملہ قاری پر چھوڑ دے۔ وہ اپنی اصلاح کرناچاہتاہے تو کرے، نہیں تو نہ سہی۔’اصلاحی‘ ادب ایک طرح سے ’پروپیگنڈا‘ ادب بنتاہے۔ اسلام کی اچھی اقدار ہرمذہب اور معاشرے میں اچھی سمجھی جاتی ہیں۔ ٹالسٹائی نے جتنی کہانیاں لکھی ہیں، وہ ساری ’اسلامی‘ سی ہی لگتی ہیں۔ جو باتیں ہمارے دین میں ہیں، ٹالسٹائی ان باتوںکو نہایت خوبصورتی سے بیان کرتاہے۔ ایک ادیب کو مصلح اور مبلغ بن کر سامنے نہیں آنا چاہئے۔ میں جب لکھتی ہوں تو اپنی اصلاح کررہی ہوتی ہوں کہ فلاں بُری چیز مجھ میں ہے تو وہ نہیں ہونی چاہئے۔‘‘

٭ کس ادیب سے متاثر ہوئیں؟

’’کسی ایک ادیب سے متاثر نہیں ہوئی۔ ہر ادیب اچھا بھی لکھتاہے اور کمزور بھی۔ مجھے راجندر سنگھ بیدی کا ناول ’ایک چادر میلی سی‘ بہت اچھا لگا۔ اسی طرح بلونت سنگھ کو بھی پڑھا۔ اس کی بعض چیزیں اچھی لگیں۔ الطاف فاطمہ کا ’چلتا مسافر‘ اچھا لگا۔ عصمت چغتائی کو پڑھا ، اگرچہ اس سے اختلاف تھا لیکن اس نے اچھا لکھا۔ اس نے ’ٹیڑھی لکیر‘ اچھی لکھی۔ میں ابن صفی کے ایک کردار سے اس قدر متاثر ہوئی کہ اپنے بیٹے کا نام ’احمدکمال‘ رکھا۔ مجھے احمد کمال فریدی بہت اچھا لگتا تھا۔ وہ اپنے کردار کی وجہ سے پسند آیا۔ابن صفی کے جاسوسی ادب میں آپ کو مزاح بھی ملے گا، تجسس بھی۔ وہ آپ کو اپنی گرفت میں لے لیتاہے۔ اس میں صرف تجسس ہی نہیں ہوتا بلکہ آپ کو اس میں ایک مضبوط کردار کا بندہ بھی نظر آتا ہے، دل چاہتاہے کہ ہمارے بچے بھی ایسے ہی ہوں‘‘۔

’’مجھے زیادہ کہانیاں قرۃ العین حیدر کی اچھی لگیں۔ ’آگ کا دریا‘ نے بہت مسحور کیا۔ نظریاتی اختلاف الگ بات ہے لیکن ادب کو پڑھنا چاہئے۔ ’اینا کارینینا‘ اور’ وار اینڈ پیس‘ سمیت ٹالسٹائی کی تمام چیزیں پڑھی ہیں، دوستوفسکی کا ’ایڈیٹ‘ پڑھا۔ جب میں نے اپنا ناول’سانجھ بھئی چودیس‘ لکھا تو اس سے پہلے میں نے ایمائل زولا کا ناول’ ارتھ‘ پڑھا ، اس نے اپنے فرانسیسی گاؤں کی زندگی کو بڑی خوبصورتی سے پیش کیاتھا۔ وہ پڑھ کر خواہش پیدا ہوئی کہ میں بھی اپنے علاقے کو اسی طرح ناول میں بیان کروںکہ وہاں کھیت کیسے کٹتے ہیں، ان کے میلے کیسے ہوتے ہیں۔اس علاقے کے لوگوں میں کیا خوبیاں ہیں اور کیا برائیاں۔ وہ کس اندازمیں سوچتے ہیں کیونکہ وہاں کوئی جاتا ہی نہیں تھا، تبلیغی جماعت والے بھی نہیں۔ وہ جیسا سوچتے ہیں ، ویسا ہی کرتے ہیں۔ اس کا پلاٹ بہت عرصہ میرے ذہن میں رہا۔میں اپنے ادیبوں سے ضرور کہوں گی کہ پڑھنا بہت زیادہ چاہئے۔ وہ جو کچھ بیان کرتے ہیں، بعض اوقات ویسا ہوتا نہیں ہے۔ ہمیں چاہئے کہ جب لکھیں تو پہلے تحقیق کریں، سوچیں اور سمجھیں۔ ہمارا کینوس حقیقت سے قریب ہونا چاہئے۔‘‘

’’رومانس ایک حقیقت ہے، اس سے آپ انکار نہیں کرسکتے۔ آپ کسی کے دل پر قدغن نہیں لگاسکتے یا اس کے جذبات پر۔ ہمیں اس رومانس کو ایک حد میں رکھنا ہے، بھئی! محبت تو ہوسکتی ہے نا، اگر کسی لڑکی کو ہوجاتی ہے، کزنز وغیرہ ہوتے ہیں تو اسے کیا کرنا چاہئے، کیا آج کی عورت کی طرح وہ اظہار کرے اور جا کے جو جی چاہے، وہ حرکتیں شروع کردے۔’بوئے گل‘ میں آپ نے دیکھا ہوگا کہ لڑکی نے اظہار نہیں ہونے دیا، اس نے پسندیدگی کے جذبہ کو اپنے اندر ہی رکھا۔اب ہماری لڑکیاں حدود پار کررہی ہیں، وہی لڑکوں کے پیچھے لگ گئی ہیں۔ میں نے رومانس لکھا ہے تو اسے مادرپدرآزاد نہیں ہونے دیا۔‘‘

٭اپنا کون سا ناول زیادہ پسند ہے؟

’’مجھے اپنا ناول ’سانجھ بھئی چودیس‘ بہت زیادہ پسند ہے۔ اس کا کینوس بہت بڑا تھا اور اس میں کردار بے شمار تھے، انھیں سنبھالنا اور انھیں لے کر چلنا، بعض اوقات میں بھول جاتی تھی، ہر ایک کا الگ مزاج ہے، الگ سوچ ہے، ان سب کو لے کر چلنا مجھے کافی مشکل لگتا۔ میں نے اسے سات آٹھ دفعہ لکھا، پھر مجھے حفیظ الرحمن احسن نے کہا کہ آپ ’وار اینڈ پیس‘ نہیں لکھ رہی ہیں، اب اسے چھاپ دیں۔ یہ پانچ سو صفحات کا تھا لیکن پھر سات سو صفحات کا ہوگیا۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے اسے سنبھال لیا، کئی بڑے ادیبوں نے اس کی تعریف کی تو مجھے کسی حد تک اطمینان ہوا۔‘‘ ان کے ناولوں پر بھارت کے شہر رانچی میں ڈاکٹرروبینہ نسرین پی ایچ ڈی کرچکی ہیں۔ پاکستان میں ڈاکٹرعرفان احمد بھی پی ایچ ڈی کرچکے ہیں۔اسی طرح ان کے زیرادارت علمی و ادبی جریدے’عفت‘ پر ایم فل کے مقالے لکھے جارہے ہیں۔

٭نسیم حجازی کی ناول نگاری۔

’’ نسیم حجازی بہترین ناول نگار تھے۔ ترقی پسند انھیں ناول نگار نہیں مانتے، اگر وہ ناول نگار نہیں تھے تو کیا تھے۔ اگر کوئی اسلام کا نام لے ، ترقی پسند اسے آگے جانے ہی نہیں دیتے۔ میں نے ان کا ناول ’شاہین‘ دس دفعہ پڑھا۔ مجھے اس کا کردار بدربن مغیرہ نہیں بھولتا۔آپ ہر ایک کو ناول نگار کہتے ہیں، ایم اسلم کو، رشید اختر ندوی کو، پھر نسیم حجازی ناول نگار کیوں نہیں؟ کیا اس لئے کہ انھوں نے ہماری تاریخ لکھی؟ کیا ’خاک وخون‘ ناول نہیں ہے؟ جب آپ ناول لکھتے ہیں تو آپ نے تاریخ کا ایک بیک گراؤنڈ لے لیاہے، اس میں سے بہادری اور شجاعت کے قصے سنانے کے لئے ایک کردار تخلیق کیا۔ ہوسکتاہے کہ تاریخ کے اندر انھوں نے کہیں اونچ نیچ کردی ہو لیکن کیا خود تاریخ میں شروع ہی سے اونچ نیچ نہیں ہے؟ جنھوں نے تاریخ لکھی، انھوں نے خود تاریخ سے کھلواڑ کیا، کون سی چیز آپ تک ٹھیک پہنچی ہے؟ ہر ایک نے اپنے نقطہ نگاہ سے تاریخ لکھی ہے۔‘‘

٭ڈائجسٹوں کی کہانیاں ادب کا حصہ ہیں؟

’’جس طرح پہلے کہانی، افسانہ ، ناول لکھے جارہے تھے، ویسا کام اب نہیں ہو رہا۔ ’فنون‘، ’نقوش‘، ’ادب لطیف‘ جیسے رسائل تھے ، اس طرح کے وقیع پرچے اب نہیں نکل رہے۔ ان کی جگہ ڈائجسٹوں نے لے لی۔ نتیجتاً اچھے ادیب اب ڈائجسٹوں میں لکھنا چاہتے ہیں۔ہزاروں میں ان کی فروخت ہوتی ہے، بہت لوگوں تک بات پہنچتی ہے، اب لکھنے کا کام عورتوں نے سنبھال لیاہے۔ ڈائجسٹوں میں اچھی چیزیں بھی آرہی ہیں۔ ہم نہیں کہہ سکتے کہ ڈائجسٹوں میں ادب نہیں ہوتا۔ ان میں اچھا لکھنے والے لوگ موجود ہیں۔ عمیرہ احمد لکھ رہی ہیں، کیا ہم انھیں چھوڑ دیں کہ وہ ڈائجسٹوں میں لکھ رہی ہیں؟ اسی طرح نمرہ احمد لکھ رہی ہیں۔ ڈائجسٹوں میں عام ، فضول اور بے مقصد کہانیوں کے ساتھ ساتھ کہیں نہ کہیں ادبی چیز بھی نظر آجاتی ہے جو بہت اچھی ہوتی ہے۔ ڈائجسٹوں میں جو کہانیاں چھپ رہی ہیں، اس میں ادب کا لحاظ اس لئے نہیں کیا جا رہا کہ اسے طوالت دینا ہوتی ہے۔ دوسرا وہاں لوگوں کی پسندیدگی کو ملحوظ خاطر رکھ کر لکھا جارہاہے۔ جب تک کوئی مدیر ہمت نہیں کرے گا کہ اپنے پرچہ کا نقصان برداشت کرکے بھی شائع کرے، اس نقصان کو کسی اور طرح سے پورا کرے۔ انحطاط تو رہے گا، سوچنے کی ضرورت ہے کہ اب کیوں ممتاز مفتی، اشفاق احمد پیدا نہیں ہو رہے۔‘‘

٭تاریخ کی شخصیات جو بہت پسند ہیں؟

’’پہلے لوگوں کا تو ذکر نہیں، وہ تو عظیم الشان تھے۔ جب قحط الرجال آگیا تو پھر صلاح الدین ایوبی میری پسندیدہ شخصیات میں پہلے نمبر پر ہیں، انھوں نے مجھے بے پناہ متاثر کیا۔انھوں نے بیت المقدس واپس لیا۔آج بھی انگریز انھیںگالیاں دیتے ہیں۔ میرے پوتے کا نام بھی صلاح الدین ہے۔ میں نے صلاح الدین ایوبی پر بہت لکھا، جب ان کی موت کا ذکر کرتی تو خود رونے بیٹھ جاتی تھی۔ وہ ایک حیرت انگیز اور عظیم شخصیت تھی۔ مسلمان صلاح الدین جیسے ہوتے تو نہ جانے کہاں سے کہاں پہنچ جاتے۔‘‘

’’احمدشاہ ابدالی سے بھی بہت متاثر ہوں، محمود غزنوی بھی مجھے بہت پسند ہے، مخالفین اسے چور اور ڈاکو قرار دیتے ہیں، میں ان سے پوچھتی ہوں کہ اسے کیا ضرورت تھی دولت کی؟ کیا وہ سومنات کے مندرکا سونا چرانے آیا تھا؟ وہ اس بت کو توڑنے آیا تھا، جس کے بارے میں عقیدہ تھا کہ جب تک یہ بت نہیں ٹوٹے گا، شکست نہیں ہوگی۔ محمود غزنوی میں ایسی کوئی بات نہیں تھی جو مخالفین ان کے بارے میں کہتے پھر رہے ہیں۔ مغلوںمیں اورنگ زیب عالمگیر اچھا لگتاہے۔ مغلوں کے بعد قائداعظم ، بہادر یار جنگ، علی برادران ہیں۔ قائداعظم کے اندر جو ذاتی خوبیاں تھیں، وہ اس وقت کسی دوسرے میں نہیں تھیں۔سوال یہ ہے کہ آخر اللہ تعالیٰ نے قائداعظم ہی کو اس کام کے لئے کیوں منتخب کیا، حسین احمد مدنی یاکسی مولوی صاحب کو کیوں نہ چنا۔ اب طیب اردوان کے علاوہ مجھے کوئی شخصیت نظر نہیں آتی۔‘‘

’’میں اپنا مرشد اگرکسی کو سمجھتی ہوں تو مودودی صاحب اور علامہ اقبال کو۔ علامہ اقبال کے تصور خودی پر میرے لیکچر ہوچکے ہیں۔’ نوائے سحر‘ اور اس کے بعد ’ارمغان حجاز‘ کا ترجمہ و تشریح بھی لکھی ہے۔ اسے بھی کتابی صورت میں لاؤں گی۔ علامہ اقبال کی بات ہی اور ہے، ان جیسا کوئی پیدا نہیں ہوسکتا۔ خشک کتابیں صرف سیدمودودی ہی کی پڑھ سکتی ہوں، باقی مولویوں کی کتابیں مجھ سے نہیں پڑھی جاتیں۔ مولانا جس اندازمیں لکھتے ہیں، ان کا انداز سادہ ، خوبصورت اور رواں ہوتاہے۔‘‘

٭24گھنٹے کیسے گزارتی ہیں؟

’’ صبح ناشتہ وغیرہ کرکے دس بجے لکھنا شروع کرتی ہوں۔ رسالہ (عفت) مرتب کرنا ہوتاہے،کوئی کہانی لکھ رہی ہوتی ہوں تو اسے آگے بڑھاتی ہوں۔ لکھنے کا کام صبح کے وقت ہی ہوتا ہے۔ ظہر کی نماز تک کام کرسکتی ہوں۔ اس کے بعد کھاناکھاتی اور آرام کرتی ہوں۔ پہلے یہ آرام نہیں کرتی تھی لیکن اب ضروری ہوگیا ہے۔ مغرب کے بعد واٹس ایپ پر پیغامات دیکھتی ہوں اور ان کے جوابات دیتی ہوں۔ عشا کی نماز کے بعد کھانا کھاتی اور خبریں، حالات حاضرہ کے پروگرامات دیکھتی ہوں، اس کے بعد رات ایک بجے تک مطالعہ کرتی ہوں۔ دوپہر کو بھی تھوڑا سا پڑھتی ہوں۔ جمعرات کو ہمارے گھر پر درس قرآن وحدیث ہوتا ہے۔ بعض اوقات ایک اکیڈمی والے علامہ اقبال پر میرا لیکچر رکھتے ہیں۔‘‘

سلمیٰ یاسمین نجمی رفاعی کاموں میں بھی خوب حصہ لیتی ہیں۔ ایک سو کشمیری بچوں کی کفالت ذمہ لی ہوئی ہے، تھرپارکر میں پانی کے کنویں کھدوانے اور مساجد کی تعمیر کا بھی کام کر رہی ہیں، اسی طرح صوبہ بلوچستان میں بھی۔ اس کے علاوہ مستحقین کی شادی بیاہ کے معاملات میں مدد کرتی ہیں۔ وہ تھرپارکر اور صوبہ بلوچستان میں جو بھی کام کراتی ہیں، اس پر تختی لگواتی ہیں:’’ اہل پنجاب کی طرف سے‘‘، تاکہ وہاں پنجاب کے عوام کے بارے میں تاثربدل جائے۔ ان کی رفاعی سرگرمیوں کا دائرہ برما اور شام تک پھیلا ہواہے۔ ان کے تین بیٹے اور ایک بیٹی ہے۔ پاکستان میں حالیہ معاشی بحران کے بعد فیکٹری بند ہوئی تو دو بیٹے باہر چلے گئے، وہاں کام کررہے ہیں، تیسرا فیکٹری دوبارہ چلانے کی کوشش کررہاہے۔ بیٹی شادی شدہ ہے، امریکا میں تھی، اب لاہور میں ہے۔

 

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔