خون میں مضر بیکٹیریا کی فوری شناخت کرنے والا ننھا سا آلہ

ویب ڈیسک  جمعرات 26 مارچ 2020
ایسے مختصر اور کم خرچ آلات بطورِ خاص دور دراز اور پسماندہ علاقوں کےلیے بہت مفید خیال کیے جاتے ہیں۔ (فوٹو: امریکن کیمیکل سوسائٹی)

ایسے مختصر اور کم خرچ آلات بطورِ خاص دور دراز اور پسماندہ علاقوں کےلیے بہت مفید خیال کیے جاتے ہیں۔ (فوٹو: امریکن کیمیکل سوسائٹی)

نیو جرسی: رٹگرز یونیورسٹی کے انجینئروں نے دیگر ماہرین کے اشتراک سے ایک ایسا چھوٹا سا آلہ ایجاد کرلیا ہے جو خون میں موجود، مضر بیکٹیریا کو بہت کم وقت میں شناخت کرسکتا ہے جبکہ اس مقصد کےلیے وہ بالکل نئی اور منفرد تکنیک سے استفادہ کرتا ہے۔

یہ آلہ کس طرح کام کرتا ہے؟ اگرچہ اس کی پوری تفصیل تو نہیں بتائی گئی ہے لیکن ریسرچ جرنل ’’اے سی ایس اپلائیڈ مٹیریلز اینڈ انٹرفیسز‘‘ میں اس حوالے سے شائع شدہ مقالے سے اتنا ضرور پتا چلتا ہے کہ خون میں موجود مضر جرثوموں کو فوری طور پر الگ کرکے تجزیہ کرنے کےلیے خاص طرح کے مقناطیسی خردبینی موتی (beads) استعمال کیے گئے ہیں۔

اسے ایجاد کرنے والے سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس مختصر سے آلے کی تیاری بہت آسان اور کم خرچ ہے۔ اس کا ابتدائی نمونہ صرف چند قسم کے بیکٹیریا (جراثیم) کی فوری شناخت کرسکتا ہے جسے بہتر بنایا جارہا ہے تاکہ آنے والے برسوں میں یہ کئی اقسام کے خطرناک جرثوموں کو پہچان سکے اور امراض کے خلاف جنگ میں انسانیت کی بہتر طور پر مدد کرسکے۔

اس طرح کے مختصر اور کم خرچ آلات بطورِ خاص دور دراز اور پسماندہ علاقوں کےلیے بہت مفید خیال کیے جاتے ہیں جہاں بڑی میڈیکل ٹیسٹنگ لیبارٹریز قائم کرنے اور انہیں چلانے کے اخراجات بہت زیادہ ہوتے ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔