ایکنک نے 98 ارب کے 6 منصوبوں کی منظوری دیدی

ارشاد انصاری / شہباز رانا  جمعـء 27 مارچ 2020
4نظرثانی شدہ منصوبے ایسے بھی ہیں جن کی لاگت کئی گنا بڑھ چکی ہے
فوٹو: فائل

4نظرثانی شدہ منصوبے ایسے بھی ہیں جن کی لاگت کئی گنا بڑھ چکی ہے فوٹو: فائل

 اسلام آباد: وزیراعظم کے مشیربرائے خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کی زیرصدارت گزشتہ روز قومی اقتصادی کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی (ایکنک) کے اجلاس میںتقریباً98ارب روپے کی لاگت کے6 منصوبوں کی منظوری دی گئی جن میں چارنظرثانی شدہ ایسے منصوبے بھی ہیں جن کی لاگت باربار بڑھتی رہی ہے۔

ایک عشرہ قبل ان منصوبوں کی لاگت کا تخمینہ 27.7 ارب روپے تھاجو اب بڑھ کر 61.3 ارب روپے ہوچکی ہے ۔ان میں چکوال مندرہ روڈ کا منصوبہ بھی شامل ہے جس کی2012ء میں لاگت2.7 ارب ڈالر تھی،اب اس منصوبے کیلئے11.9ارب روپے کی منظوری دی گئی ہے جو پہلی لاگت سے 348 فیصد زیادہ ہے۔نیب سابق وزیراعظم پرویزاشرف دورکے اس منصوبے کی انکوائری کررہا ہے۔

پرویز اشرف نے پیپرا رولز کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اس کا ٹھیکہ این ایل سی کو دیا تھا۔ اجلاس میں 16ارب 8کروڑ16 لاکھ 17 ہزار روپے مالیت کے نیشنل الیکٹرانک کمپلیکس آف پاکستان فیزون کی تعمیرکی بھی منظوری دی۔دیگر منصوبوں میں بلوچستان کے ضلع قلعہ سیف اللہ میں 4ارب 90 کروڑ 56لاکھ67 ہزار روپے مالیت کی اضافہ شدہ لاگت سے باتوزئی سٹوریج ڈیم کی تعمیر، گرین لائن بی آرٹری کو آپریشنل بنانے اور انٹیگریٹڈ اینٹیلیجنٹ ٹرانسپورٹ سسٹم ایکوئپمنٹ کی تنصیب کیلئے 10 ارب95 کروڑ61 لاکھ 60 ہزار روپے مالیت کے آپ ڈیٹڈ و تبدیل شدہ پی سی ون کی بھی منظوری بھی شامل ہے ۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔