ڈومیسٹک کرکٹرز کو مستقبل کی فکر ستانے لگی

سلیم خالق  ہفتہ 28 مارچ 2020
ستمبر میں سیزن شروع ہوا، ادائیگی اکتوبر سے ہوئی،کھلاڑی ڈپارٹمنٹس کو یاد کرنے لگے۔ فوٹو: فائل

ستمبر میں سیزن شروع ہوا، ادائیگی اکتوبر سے ہوئی،کھلاڑی ڈپارٹمنٹس کو یاد کرنے لگے۔ فوٹو: فائل

کراچی: ڈومیسٹک کرکٹرز کو مستقبل کی فکر ستانے لگی،کورونا وائرس کے سبب میدان ویران رہے تو گھر چلانے کے لالے پڑ سکتے ہیں۔

کورونا وائرس  کی وجہ سے اسپورٹس ایونٹس مسلسل ملتوی یا منسوخ ہو رہے ہیں، اس صورتحال میں کھلاڑی بھی بیحد پریشانی کا شکار ہیں، پاکستانی ڈومیسٹک کرکٹرز کو اپنے مستقبل کی فکر ستانے لگی،  نئے سسٹم میں  ڈپارٹمنٹل ٹیموں کی بندش سے پہلے ہی سیکڑوں پلیئرز بے روزگار ہوچکے۔

پی سی بی نے بھی کوچز اور گراؤنڈاسٹاف کو فارغ کر دیا تھا، جو خوش نصیب کرکٹرز ڈومیسٹک کنٹریکٹ پانے میں کامیاب رہے انھیں بھی اب یہ ڈر ہے کہ گھرکا خرچ کیسے چلائیں گے، پی سی بی ماہانہ50 ہزار روپے تنخواہ دیتا ہے، ٹیکس کی کٹوتی کے بعدتقریباً45 ہزار روپے کی رقم ہی مل پاتی ہے۔

رواں برس سیزن کا آغاز 14 ستمبر سے ہوا  مگر حیران کن طور پر بورڈ نے تنخواہوں کا سلسلہ اکتوبر سے شروع کیا، غلطی کی نشاندہی کے باوجود تاحال واجبات ادا نہیں کیے گئے، سب سے پہلے اکتوبر سے دسمبر تک کا معاوضہ ادا کیا گیا، اس کے بعد جنوری اور فروری کی ادائیگی ہوئی۔

بعض سینئر کرکٹرز پہلے ہی شکوہ کر چکے کہ انھیں اور ڈیبیوکرنے والے کو بھی ماہانہ ایک ہی رقم دی جاتی اور میچ فیس بھی یکساں ہے مگر بورڈ نے اس پر کوئی توجہ نہیں دی، گوکہ پی سی بی کا کہنا تھا کہ کھلاڑیوں کو ڈپارٹمنٹس کی بندش سے کوئی فرق نہیں پڑے گا مگر حقیقت میں ایسا ہے نہیں، کورونا وائرس کے سبب پاکستان ون ڈے کپ ملتوی ہو چکا جبکہ قومی ٹی 20 کپ کے انعقاد پر بھی سوالیہ نشان موجود ہے۔

ایک کرکٹر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ بورڈ نے سالانہ 20 لاکھ روپے آمدنی کا دعویٰ کیا تھا لیکن اگر کوئی ڈومیسٹک کرکٹر تینوں طرز کے ایونٹس میں حصہ لے اور تمام میچز کھیلے تب بھی اسے تقریباً18 لاکھ روپے ملیں گے، بہت کم ہی پلیئرز فرسٹ کلاس، ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی تینوں فارمیٹس میں حصہ لیتے ہیں۔

واضح رہے کہ قائد اعظم ٹرافی کی میچ فیس 75 جبکہ ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی کی 40،40 ہزارروپے ہے۔ ایک اور فرسٹ کلاس کرکٹر نے کہا کہ ہمیں اپنے ڈپارٹمنٹ سے ہر ماہ بڑی رقم بطور تنخواہ ملتی تھی مگر اب ایسا نہیں رہا، آف سیزن میں ٹیکس کٹوتی کے بعد 45 ہزار ماہانہ میں گذارا کیسے ہو گا؟

احتجاج اس لیے نہیں کر رہے کہ بورڈ نے ناراض ہوکر سزا سنا دی تو یہ آمدنی بھی ختم ہو جائے گی،انھوں نے کہا کہ کوروناکی وجہ سے اب پتا نہیں کہ میدان کب آباد ہوں گے، ہمیں اپنے مستقبل کے حوالے سے بہت خدشات ہیں۔

 

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔