کورونا وائرس؛ پنجاب اور خیبرپختون خوا نے ریلیف پیکج کا اعلان کردیا

اسٹاف رپورٹر  ہفتہ 28 مارچ 2020
پنجاب میں 25 اور کے پی میں 19 لاکھ مستحق افراد کو مدد فراہم کی جائے گی۔ فوٹو، فائل

پنجاب میں 25 اور کے پی میں 19 لاکھ مستحق افراد کو مدد فراہم کی جائے گی۔ فوٹو، فائل

لاہور / پشار: پنجاب اور خیبر پختون خوا کی صوبائی حکومتوں نے کورونا وائرس سے پیدا ہونے والے حالات کے لیے خصوصی ریلیف پیکج کا اعلان کردیا ہے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق پنجاب حکومت نے کورونا  سے  معاشی طور پر متاثرہ 25لاکھ گھرانوں کے لئے 4 ہزار روپے ماہانہ کے پیکج کا اعلان کیا  ہے۔وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار نے صوبے میں کورونا آرڈیننس کے نفاذ کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ وائرس کے مریضوں کی دیکھ بھال کر نے والے ڈاکٹر اور پیرا میڈیکل اسٹاف کو ایک ماہ کی اضافی تنخواہ دی جائے گی۔ 3100قیدیوں کو 90روز کے لئے رہائی دی جائے گی آج سے کرونا آرڈینینس نافذ کر دیا گیا ہے۔

عثمان بزدار نے صحافیوں کو تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ صوبے میں  کورونا وائرس کے باعث  معاشی طور پر   متاثر ہونے والے 25لاکھ خاندانوں کے لئے 10ارب روپے کی رقم مختص کی جا رہی ہے 18ارب کے صوبا ئی ٹیکس معاف کئے جائیں گے  اور کورونا کا علاج کرتے ہوئے جاں بحق ہونے والے ڈاکٹرز اور طبی عملہ کو شہدا پیکج دیا جائے گا۔

وزیراعلی پنجاب نے کہا کہ کورونا وائرس سے پیدا ہونے والے معاشی بحران کے پیش نظر صوبائی 18 ارب روپے کے صوبائی ٹیکسوں کی چھوٹ دی جائے گی۔ صوبے میں کرفیو نہیں لگا دفعہ 144پر موثر عمل درآمد کروائیں گے جیل میں قید معمولی جرائم کے قیدیوں کو 90روز کے لئے رہا ئی دی جائے گے۔

پنجاب کے وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ عبوری امداد کے لئے حکومت آن لائن فارم فراہم کرے گی۔ محکمہ صحت کو فنڈز کی فراہمی اولین ترجیح ہوگی۔

دوسری جانب خیبر پختون خوا حکومت نے بھی کاروباری برادری کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے 11.4 ارب روپے کے معاشی پیکج کا اعلان کیا ہے۔صوبائی وزیر اطلاعات اجمل وزیر نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ پیکج سے 19 لاکھ مستحق خاندانوں کو فائدہ ہوگا جب کہ بزنس کمیونٹی کو 5 ارب روپے کے ٹیکسوں کی چھوٹ دی جائے گی۔ صوبے میں غذا کی قلت نہیں، منافع خوروں اور ذخیرہ اندوزوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ 500 تشخیصی کٹس فراہم کرکرکے صوبے کی تشخیصی استعداد میں اضافہ کیا گیا ہے اور اسے مزید بڑھایا جاے گا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔