کورونا وائرس ۔۔۔ بے روزگارہونے والوں کی مدد کیجیے

محمد اظہر حفیظ  اتوار 29 مارچ 2020
صورت حال نے کتنے ہی لوگوں کی آمدن چھین لی، انھیں فاقوں سے بچانا ہماری ذمے داری ہے

صورت حال نے کتنے ہی لوگوں کی آمدن چھین لی، انھیں فاقوں سے بچانا ہماری ذمے داری ہے

سب کچھ رک گیا ہے، فضا میں خوف ہے، اسکول، کالج، یونی ورسٹیاں بند ہیں، کاروبار نہ ہونے کے برابر تو پہلے ہی تھے اب تو بالکل ہی نہیں ہے، دفتروں میں حاضری کم ہے، شادی ہال بند ہیں، سڑکیں خالی ہیں، مزدور سڑک کنارے فارغ بیٹھے ہیں مزدوری کوئی نہیں ہے، لوگ ملنا جلنا بند ہوگئے ہیں، ہاتھ ملانا بھی بیماری کا باعث ہوسکتا ہے، ماسک بازار میں نہیں ہیں، جو ہیں وہ مہنگے ہیں، احتیاط اچھی چیز ہے، سب سٹاک کرنا بہی بہتر ہے، پر خیال کیجیے ان کا جو اسٹاک نہیں کر سکتے، جن کو کئی دن سے مزدوری نہیں ملی، جو بے روزگار ہیں، ان کو تلاش کیجیے ان کی مدد کیجیے، ورنہ ہوسکتا ہے آپ کورونا سے بچ جائیں اور بے شرمی سے مر جائیں۔

نکلیے اپنے گھر سے ماسک پہنیے، اور دیکھے آپ کے آس پاس کوئی بھوکا تو نہیں ہے، کوئی ضرورت مند تو نہیں ہے، اس کی مدد کیجیے۔ مجھے قوی امید ہے کہ آپ کا ایک احسن قدم آپ کو کرونا سے بچا کر بہت دور لے جائے گا، اپنی ضرورت سے زیادہ کھانا بنائیے، تقسیم کیجیے، مستحقین میں ماسک، صابن تقسیم کیجیے ان کی مالی امداد کیجیے، تنگی کا وقت ہے اپنے دل کشادہ کیجیے اور جمع کی بجائے تقسیم کا فارمولا اپنائیے اللہ اس کو ضرب دے کر واپس عطا کریں گے۔ انشاء اللہ۔

کتنے لوگ بے روزگار ہوگئے ہیں ان چھٹیوں سے اندازہ کیجیے، سیروسیاحت رک گئی، وزیٹنگ ٹیچرز کی آمدن بند ہوگئی، غریب غربت کے اور نچلے لیول کی طرف جا رہا ہے، اپنا خیال ضرور رکھیے پر اپنے اردگرد لوگوں کو بھی نظرانداز مت کیجیے، مشکل وقت اکیلے گزارنا مشکل ہے ساتھ ساتھ رابطے میں رہنے سے جلد اور بہتر گزر جائے گا۔ اگر ممکن ہو تو ادھار مانگنے والے کی درخواست پر غور ضرور کریں۔ جو ممکن ہو اس کی مدد ضرور کریں۔ لوگوں کے لیے آسانی کریں، اللہ آپ کے لیے آسانیاں کریں گے انشاء اللہ۔ اگر ممکن ہو تو سفر سے گریز کریں، ضروری ہو تو احتیاطی تدابیر پر عمل کریں، ہر بس، ویگن اسٹاپ پر ماسک مہیا کیے جائیں۔

کاغذ والے ماسک کو بھی گرم پانی میں بھگو کر دوبارہ استعمال کر سکتے ہیں بس اس کو ڈبو کر نکال لیں اور سکھا لیں، اگر کوئی کورونا سے ہلاک ہوتا ہے تو بداحتیاطی ہے مگر اگر کوئی آپ کے آس پاس بھوک سے ہلاک ہوتا ہے تو اس کے ذمہ دار آپ ہیں۔ خیال کیجیے خیال رکھیے، زندگی مشکل نہیں ہے مشکل مت بنائیے، جمع مت کیجیے تقسیم کیجئے، یہ وقت تقسیم کرنے کا ہے کورونا وائرس نہیں مال ودولت تقسیم کرنا ہے، سادگی اپنائیے، توبہ کیجیے صدقہ دیجیے حسب توفیق۔ یہ وقت بہی گزر جائے گا۔ حکومت تو ایک تقریر کے بعد بری الذمہ ہوگئی ہے۔ اٹھیے اپنی مدد آپ کیجیے خیال کیجیے، آج کوئی بھوکا نہ سوئے، آپ کو پتا ہے آپ کے آس پاس کون ضرورت مند ہے؟ اگر نہیں تو پتا کیجیے۔ کہیں دیر نہ ہوجائے۔ اس کی ضرورت پوری کیجیے۔ یہ آپ کی ذمہ داری ہے آپ پر فرض ہے، اس کا دین، مذہب، فرقہ مت دیکھیے بس مدد کیجیے خیال رکھیے اللہ آپ کا خیال رکھیں گے۔

اگر صرف شادی ہال کی بندش کو لے لیں تو آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ کتنے لوگ بے روزگار ہوگئے، ویٹر، کھانا بنانے والے، کھانے کا سامان بیچنے والے، اسٹیج بنانے والے، فلم اور فوٹو بنانے والے، شادی ہال والے، گاڑیوں والے سجاوٹ والے، ڈھول اور دھمال والے، سیکیوریٹی والے، ڈرائیورز، ان سب کا خیال کیجیے اس انڈسٹری سے وابستہ بہت سے لوگ بے روزگار ہوگئے ہیں جن کو روزانہ کی بنیاد پر ادائیگی ہوتی ہے۔

یہ تو ایک مثال ہے، پچاس لاکھ بچے مدرسوں سے گھروں کو واپس آئے ہیں جن کے کپڑے کھانا پینا مدرسے کی ذمہ داری تھا ان کا خیال رکھیے، مزاروں پر لنگر بہی بہت سارے لوگوں کے روزگار اور خوراک کا ذریعہ تھے وہ بھی بند کردیے گئے، غربا اور مستحقین ہمارے ہی بہن بھائی اور بچے ہیں ان کی کھلے دل سے مدد کیجیے، باقی دیکھنا، سوچنا، خیال رکھنا آپ کا کام ہے آئیے اس مشکل وقت کو آسان بنائیے۔

اللہ ہمارا مددگار ہو آمین

۔۔۔

آئیے عزم کریں
محمد عثمان جامعی
مجبور ہوئے
سو دور ہیں ہم
پر یارو! ساتھ نہ چھوڑیں گے
ہے ہاتھ ملانا ناممکن
پر طے ہے ہاتھ نہ چھوڑیں گے

ہم گھر میں تمھارے اک دن بھی
چولہے کو نہیں بجھنے دیں گے
ہم بھوک نہیں آنے دیں گے
افلاس نہیں ٹکنے دیں گے

ہو خالی پیٹ
بھری آنکھیں

ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے
ماؤں کو تڑپنے نہ دیں گے
بچوں کو رونے نہ دیں گے
ہم سر نہ کوئی جھکنے دیں گے
آنچل نہ کوئی بِکنے دیں گے

سب اپنے ہیں
غم سانجھے ہیں
بے فکر رہو
ہم آتے ہیں

اس وبا سے لڑنے نکلیں گے
ہر سو پھیلے سناٹوں میں
پھر شور جگانے نکلیں گے
یہ جان ہتھیلی پہ رکھ کر
ہر جان بچانے نکلیں گے
جس در پہ فاقہ پہنچا وہاں
راشن پہنچانے نکلیں گے
مشکل میں جو آئے اس کا
ہم ساتھ نبھانے نکلیں گے
ہیں ہر اک مصیبت میں یک جا
یہ سب کو بتانے نکلیں گے

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔