کوریا کی تقسیم اور جنگ ۔۔۔

ڈاکٹر عرفان احمد بیگ  اتوار 29 مارچ 2020
سرد جنگ کے پہلے بڑے اور اعلانیہ معرکے میں اقوام متحدہ کا کردار، اقوام متحدہ کی ڈائمنڈ جوبلی پر خصوصی سلسلہ

سرد جنگ کے پہلے بڑے اور اعلانیہ معرکے میں اقوام متحدہ کا کردار، اقوام متحدہ کی ڈائمنڈ جوبلی پر خصوصی سلسلہ

( قسط نمبر7)

دوسری جنگ عظیم میں سابق سوویت یونین جلد ہی جرمنی کے خلاف برطانیہ، فرانس اوردیگر یورپی ممالک کے اتحاد میں شامل ہو گیا تھا۔ اگر چہ سوویت یونین میں اقتدار کے مالک جوزف اسٹالن ہی تھے، جنہوں نے لینن کے ساتھ مل کر پہلی جنگ ِ عظیم کے ایک سال پہلے1917 میں کیمونسٹ انقلاب کے موقع پر سوویت یونین کو جنگ سے نکال لیا تھا اور اس کی جگہ امریکہ اتحاد میں شامل ہوگیا تھا،کیونکہ کیمونسٹ سوویت یونین پہلی عالمی جنگ کو نو آبادیاتی قوتوں کی جانب سے ملک ہوس گیری کی بڑی جنگ قرار دیتا تھا اور ایسا تھا بھی، مگر جب 1930-32 کی عالمی کساد بازاری کے بعد جرمنی میں ہٹلر کی نازی پارٹی اقتدار میں آئی تو اسٹالن شروع میں ہٹلر اور اس کے ناز ی ازم کا مخالف نہیں تھا اور یہاں تک کہ شروع میں روس نے جرمنی کے ساتھ پولینڈ کے حصے بخرے کئے تھے مگر اس کے فوراً بعد سوویت یونین نے پینترا بدلا اور جرمنی اور جاپان کے خلاف اتحادیوں کی صف میں شامل ہو گیا اور اُس وقت دنیا بھر میں اشتراکی نظریات کے کروڑوں لوگوں کو یہ سمجھایا کہ جرمنی کا ہٹلر کیونکہ قوم پر ستی کی بجائے فسطائیت پر یقین رکھتا ہے جس کی وجہ سے پوری دنیا کے امن اور انسانوں کو خطرہ ہے اِس لیے سوویت یونین کو اتحادیوں کے ساتھ شامل ہونا پڑا جو اشتراکی نظریات کے خلاف بھی ہیں ۔

یوں اسٹالن کے موقف کے مطابق روس کا یہ اتحاد اُس وقت تک تھا جب تک جرمنی کو شکست نہیں ہو جاتی لیکن جنگ عظیم دوئم کے دوران ہٹلر نے ایک جانب جیوش پروٹوکول کو اور دوسری جانب سوویت یونین کے اشتراکی نظریے کے باوجود اتحادیوں سے اتفاق کرنے پر بہت پروپیگنڈہ کیا، اور اُ س وقت یہ پروپیگنڈہ اور شدت اختیار کر گیا جب امریکہ کے بحری اڈے پرل ہاربر پر جاپانی حملے کے بعد امریکہ بھی جرمنی اور جاپان کے خلاف اتحاد میں شامل ہو گیا، لیکن یہ حقیقت ہے کہ اگست 1945 کو دوسری جنگِ عظیم کے ختم ہوتے ہی بہت سے وہ ملک جو خصوصاً جاپان یا جرمنی کی مقبوضات میں تھے۔

اِن کی تقسیم کی یا اِن پر تعلقات کی بنیاد پر سیاسی اقتصادی کنٹرول کی بنیادوں پر فرانس، امریکہ اور بر طانیہ کی سوویت یونین سے کشاکش رہی، یہ تناؤ مشرقی اور مغربی جرمنی پر بھی تھا، پھر اقوام متحدہ کے قیام کے مراحل میں مفاہمت رہی، اس کی ایک وجہ شائد یہ بھی تھی کہ امریکہ نے 1945 میں نہ صرف ایٹم بم بنا لیا تھا بلکہ جاپان پر یہ بم استعمال بھی کر لیے تھے۔ یوں 1949 تک ایسے بہت سے مواقع آئے کہ امریکہ اور برطانیہ کے رویے درشت بھی ہوئے مگر سوویت یونین نے برداشت سے کام لیا لیکن جب سوویت یونین نے بھی ایٹمی دھماکہ کر کے دنیا کی دوسری ایٹمی قوت ہونے کا اعلان کر دیا تو صورتحال دنیا میں طاقت کے توازن کے لحاظ سے بہتر ہو گئی۔ اب سوویت یونین اس پوزیشن میں تھا کہ وہ برطانیہ اور امریکہ کے سامنے جرات کا مظاہرہ کر سکے، یوں 25 جون 1950سے27 جولائی 1953 تک کوریا کی جنگ ہوئی جو جنگ عظیم دوئم کے بعد سرد جنگ کے لحاظ سے پہلا اور بڑا معرکہ تھا۔

کوریا کا پس منظر یوں ہے کہ مشرقی ایشیا کا ایک یہ جزیرہ نما ملک ہے جو Yellow sea بحر زرد میں واقع ہے جس کا مجموعی رقبہ دوسری عالمی جنگ سے اور شمالی اور جنوبی کوریا میں تقسیم سے قبل 220540 مربع کلومیٹر تھا۔ ساتویں صدی قبل مسیح میں یہاں بادشاہت قائم ہوئی اور پھر کوریا میں بیک وقت تین بادشاہتیں بھی رہیں، مضبوط مقامی کورین بادشاہت 698 ء میں قائم ہوئی، 1392 میںکوریا جوسن سلطنت میں رہا، پھر 12 اکتوبر 1897 کو کورین بادشاہت قائم ہوئی۔ 29  اگست 1910 کو جاپان کوریا معاہدہ ہوا اور پھراس پر جاپان کا قبضہ ہوا۔ جاپان اس علاقے میں ایک مضبوط اور طاقتورملک تھا اور خصوصاً پہلی جنگِ عظیم سے لے کر دوسری جنگِ عظیم تک اِس کی علاقائی طاقت میں بڑا ضافہ ہوا۔ کوریا کے ہمسایہ ملکوں میں جاپان ، روس، چین، تائیوان، فلپائن واقع ہیں، اس لیے دفاعی نقطہ نظر سے چین اور روس کے لیے کوریا اہمیت رکھتا ہے تو ساتھ ہی سمندر کے اعتبار سے امریکہ کے لیے بھی اسٹرٹیجی کی بنیاد پر اہمیت رکھتا ہے۔

دوسری جنگِ عظیم میں جاپان نے امریکہ کے اہم فوجی اڈے پرل ہاربر کو نشانہ بنایا تھا جس کی وجہ سے امریکہ بھی دوسری جنگ ِ عظیم میں اتحا دیوں کی صف میں شامل ہو گیا تھا اور پھر جاپان کے شہروں ناگا ساکی اور ہیروشیما پر 6 اور 9 اگست 1945 کو امریکہ نے ایٹم بم گرائے تھے، مگر ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ یہاں امریکی جنرل مارشل ڈگلس میکارتھر نے جاپان کی فتح کے موقع پر بھی اہم کردار اد ا کیا تھا۔ 29 اگست 1945 کو اسی مارشل میکارتھر کے سامنے جاپان کے کمانڈر اور بادشاہ ہیرو ہٹو نے ہتھیار ڈالنے کے معاہدے پر دستخط کئے تھے اور جنگ کے خاتمے کے بعد جاپان کی نہایت تیز رفتار تعمیر و ترقی میں امریکہ نے بے حد تعاون کے ساتھ فوری اور بہت مالی امداد کی تھی، اس معاہدے کے بعد جاپان کی تعمیر وترقی اقتصادی و دفاعی تعاون کے معاہدے بھی ہوئے، اُس وقت سے امریکہ جا پان کا نہایت قریبی حلیف ہے۔

یوں اس علاقے میں کوریا جنگِ عظیم سے قبل چونکہ جاپان کا مقبوضہ ملک تھا اس لیے غیر اعلانیہ طور پر اس پر زیادہ حق پہلے امریکہ اور اس کے بعد ا س کے اتحادی برطانیہ اور مغربی یورپ کے دیگر ملکوں کا تھا چونکہ کوریا کی سمندر ی اور علاقائی قربت چین اور روس سے بھی ہے اس لیے وہ یہ نہیں چاہتے تھے کہ یہاں پر امریکہ کا حلیف ملک اور حکومت موجود ہو۔ دوسری جنگِ عظیم میں اگر چہ سوویت یونین اتحادیوں میں شامل تھا مگر جنگ کے بعد جنگ عظیم دوئم کے اتحادیوں کے اپنے اپنے مفادات تھے اور اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم سے بہر حال کوشش یہ تھی کہ اب دنیا میں کوئی تیسری عالمی جنگ نہ ہو اس لیے پہلے تو 38th Parallel کوریا کی جغرافیائی پوزیشن پر کوریا شمالی اور جنوبی دو ملکوں میں تقسیم کر دیا گیا، شمالی حصے پر روس اور چین نواز حکومت برسراقتدار آئی اور جنوبی کوریا پر امریکہ کی حامی اور حمایت سے حکومت قائم ہوئی پھر اقوام متحدہ کی جانب سے کہا گیا کہ شمالی اور جنوبی کوریا میں جمہوری اقدار کو مد نظر رکھتے ہوئے عام انتخابات کروائے جائیں مگر اِس کو شمالی کو ریا نے قبول نہیں کیا اور شمالی کوریا میں اقوام متحدہ کو اجازت نہیں دی۔

دوسری عالمی جنگ کے بعد شمالی کوریا سوویت یونین کی افواج کے قبضے میں تھا اور جنوبی کوریا میں امریکی تھے، شمالی کوریا نے اقوام متحدہ کی نگرانی میں انتخابات نہیں کرائے۔ 12 دسمبر 1948 میں اقوام متحدہ کی قرارداد نمبر 195 میں کہا گیا کہ اس قوم کو ایک حکومت کے ماتحت ہونا چاہیے اور یہاں سے سوویت یونین اور امریکہ کی فوجوں کا انخلا ہونا چاہیے، مگر جیسے جیسے وقت گزرتا گیا شمالی کوریا کا رویہ جارحانہ ہوتا گیا، شمالی اور جنوبی کوریا کے فوجی دستوں میں تصادم کو روکنے کیلئے یواین آبزرور دستے بھیجنے کو کہا گیا۔

21 اکتوبر 1949 کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے اپنی قرارداد نمبر 293 کو منظور کرتے ہوئے صرف جنوبی کوریا کی حکومت کو قانونی حکومت تسلیم کیا اور شمالی حصے کی حکومت کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا، اس پر امریکہ کے صدر ٹرومین نے کہا ’’میں یہ محسوس کرتا ہو ںکہ جنوبی کوریا کو اس بات کی اجازت دی جائے کہ وہ کیمونسٹ لیڈر کو ہٹائے اگر کیمونسٹ لیڈر شپ کو اجازت دی گئی کہ وہ بلا روک ٹوک جنوبی کوریا میں فوجی مداخلت کریں تو پھر دنیا کی کوئی چھوٹی قوم اپنے طاقتور کیمونسٹ ہمسایہ کی جارحیت سے محفوظ نہیں رہے گی اور اگر اِن کو بغیر چیلنج اجازت دی گئی تو اِس کا مطلب واضح ہے کہ اقوام ِمتحدہ کی بنیاد اور اس کے اصول و ضوابط خطرے میں پڑ جائیں گے ‘‘ ۔ اب جنوبی کوریا جسے امریکہ کی مکمل سپورٹ حاصل تھی اور دوسری جانب شمالی کوریا جس کی پشت پناہی سوویت یونین کر رہا تھا اِن دونوں کے درمیان حالات انتہائی کشید گی کی جانب جا رہے تھے، اس کی بنیادی وجہ یہاں اسِ جزیرہ نما ملک کی وہ جغرافیائی پوزیشن ہے کہ اگر امریکہ جنوبی کوریا اور شمالی کوریا میں اپنی مکمل حامی حکومت قائم کر لیتا تو دفاعی نکتہ نظر سے چین اور روس دونوں ہی کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا کیونکہ علاقے میں پہلے ہی اس اعتبار سے امریکہ کی پوزیشن اس طرح بہتر ہے کہ یہاں جاپان اور تائیوان پہلے ہی امریکہ کے اسٹرٹیجکل پارٹنر ہیں۔

پھر دوسری جنگِ عظیم کے بعد اقوام متحدہ کی تشکیل میں وہ غیر اعلانیہ اصول و ضوابط جن کو امریکہ سمیت، برطانیہ، فرانس اور یہاں تک کہ روس اور چین نے بھی تسلیم کر رکھا ہے اور وہ اصول وضوابط اقوام متحدہ کے چارٹر یا دائرہ عمل میںکہیں درجہ بھی نہیں رکھتے اور اِن ویٹو کی حامل قوتوں کی جانب سے اخلاقی طور پر اعلانیہ بھی نہیں ہیں، وہ یہی ہیں کہ اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل میں امریکہ، سابق سوویت یونین اور حالیہ روس، اسی طرح سابق تائیوان چین حالیہ عوامی جمہوریہ چین، فرانس اور برطانیہ جو سکیورٹی کونسل کے مستقل ممبر بھی ہیں اور اِ ن کے پاس جنرل اسمبلی اور سکیورٹی کونسل کے کسی بھی اکثریتی فیصلے کو اپنے ایک ویٹو ووٹ سے مسترد کرنے کا اختیار ہے اور یہ اختیار اس لیے ہے کہ اقوام متحد ہ کو تشکیل دینے والی اِنہی قوتوں کے سامنے 1919 میں، معاہدہ وارسائی کے ساتھ ہی قائم ہونے والے عالمی ادارے لیگ آف نیشن ’’ اقوامِ عالم‘‘ کی ناکامی تھی، یوں یہ طے کیا گیا کہ سکیورٹی کونسل میں اِن پانچ قوتوں میں براہ راست بنیاد پر کسی بڑے عالمی نوعیت کے تصادم سے بچنے کے لیے ا ِن پانچ ملکوں کے لیے سکیورٹی کونسل میں ویٹو پاور کو پریشر کم کر کے سیفٹی وال کی طرح رکھا گیا اور اگرچہ ان غیر اعلانیہ اصولوں کو اخلاقی طور پر کھلم کھلا نہیں اپنایا جاتا مگر یہ تلخ حقیقت ہے کہ بڑی قوتوں کی وہ نوآبادیات جو خصوصاً جنگ عظیم اوّل کے بعد سے دوسری جنگ عظیم کے اختتام تک تھیں اِن پر اُس نوآبادیاتی دور کے قبضے کی بنیاد پر اب تک ان قوتوں کے مفادات کو عالمی اقتصادی، سیاسی تناظر میں تسلیم کیا جا تا ہے۔

البتہ مغربی جمہوری ملکوں نے اس عالمی سیاست میں یہ ایک راستہ ضرور چھوڑا ہے کہ کسی ایسے ملک میں بڑی قوتوں کے مفادات ہوں اور وہاں کے عوام جمہوری انداز میں اپنی مرضی سے آزادانہ فیصلے کرنا چاہیں تو اِن کا احترام کرنا چاہیے مگر اس پر بھی بہت کم عمل کیا جاتا ہے ہاں یہ ضرور ہے کہ جب یہ پانچ ویٹو پاور متفق ہوں جیسے انڈونیشیا میں نیو پاپوا نیو گینیا اور مشرقی تیمور یا سوڈان کی تقسیم وغیرہ، مگر یہاں کوریا میں صورتحال قدرے مختلف ہے یہ جنگ عظیم سے قبل کسی ویٹو پاور کی حامل قوت کی نو آبادی نہیں تھا بلکہ یہاں کوریا کی سرزمین جاپان کے قبضے میں تھی اور جاپان کی حتمی شکست امریکہ کے جنرل مارشل ڈیگلس میکارتھر کے ہاتھوں ہوئی تھی اور کوریا جاپان کی نوآبادی تھی مگر جنگِ عظیم دوئم کے اختتام پر یہاں شمالی کوریا میں سابق سوویت یو نین کی فوجیں اور جنوبی کوریا میںامریکی فوجیں موجود تھیں اور پہلے ہی اقوام متحدہ کی نگرانی میں انتخابات کی بنیاد پر مشترکہ کوریا کی جمہوری حکومت کی تشکیل کے موقف کو شمالی کوریا نے مسترد کر دیا تھا اور ایسی ہی صورتحال مشرقِ وسطٰی میں اسرائیل کی اور مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی ہے، یہاں براہ راست یا یوں کہہ لیں کہ جنگ عظیم دوئم کے فوراً بعد روس اور چین، امریکہ کے آمنے سامنے آگئے تھے۔

1950 میں اقوام متحدہ کے رکن ملکوں کی تعداد 60 تھی اور سکیورٹی کونسل کے پانچ ویٹو پاور ملکوں میں سے امریکہ، برطانیہ ، فرانس کے علاوہ اِن کو تائیوان چین کے ویٹو پاور کی حمایت بھی حاصل تھی اور جنر ل اسمبلی میں بھی ان ملکوں کو اکثریت حاصل رہی، اور اسی اکثریت کی بنیاد پر 1947 کے اختتام پر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے قرار داد نمبر 112 کی منظوری کے بعد ایک عارضی کمیشن تشکیل دیا تھا جس نے شمالی اور جنوبی کوریا کے انتخابات کی نگرانی کرنی تھی، اقوام متحدہ کی کوشش تھی کہ شمالی اور جنوبی کوریا دونوں دوبارہ ایک ہو جائیں اور یہاں عوام کی اپنی مرضی سے ایک حکومت قائم ہو مگر اقوام متحدہ کے اس کمیشن کو شمالی کوریا نے اپنے علاقے میں داخل نہیں ہونے دیا تھا۔

یوں جہاں تک اقوام متحدہ کا تعلق تھا تو اُس کے اصول و ضوابط کے مطابق تو اخلاقی طور پر یہ امریکہ اور جنوبی کوریا کی فتح تھی یہ جمہوریت کی بنیاد پر یہ اخلاقی سیاسی دباؤ 1950 تک بہت بڑھ گیا تھا اور اس کے لیے سوویت یونین کی جانب سے طاقت کے استعمال کی اسٹرٹیجی اپنائی گئی تا کہ اس عالمی دباؤ کو پہلے روکا جائے، دوسری صورت میں دھکیلا جائے اور آخری صورت میں اسے کم سے کم کیا جائے اور یوں25 جون 1950 کو شمالی کوریا نے سوویت یونین کی پشت پناہی سے جنوبی کوریا میں اپنی فوجیں داخل کرنے کی کوششیں کی، جنوبی کوریا میں اُس وقت John J Muccio جان جے مُکوئی امریکہ کے سفیر تھے، اُنہوں نے فوراً امریکی صدر ٹرومین کو اطلاع دی کہ شمالی کو ریا نے 10 ڈویژن فوج یعنی 89000 فوج کے ساتھ جنوبی کوریا پر ایک بڑا حملہ کر دیا ہے۔

یہ فوری ٹیلی گرام اُن کی جانب سے امریکہ کے اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کو بھیجا گیا کہ اب صورتحال مزید بھی خراب ہو سکتی ہے، اُس وقت کے امریکی وزیر Dean Acheson نے رات کو سوتے ہوئے امریکی صدر ٹرومین کو جگا کر یہ اطلاع دی اور ٹرومین نے فوراً یہ صورتحال اسی وقت اقوام متحدہ کے سیکر ٹری جنرل Trygve Lie ٹریگو لی کے سامنے رکھ دی۔ جنوبی کوریا پر یہ حملہ صدر ٹرومین کے لیے بھی کافی تشویش کا باعث تھا، انہوں نے اس حملے کو دوسری جنگ عظیم میں جاپان کی جانب سے پرل ہاربر جیسا قرار دیا اور یہ بھی کہا گیا کہ یہ صورت جنگِ عظیم دوئم کے آغاز پر ناروے میںمداخلت جیسی ہے۔

امریکی صدر کے اِن بیانات نے واضح کر دیا تھا کہ امریکہ یہاں بہت زیادہ سنجیدہ ہے اور وہ کسی حد تک بھی جا سکتا ہے۔ دوسری جانب اب سوویت یونین اور چین بھی جنگ کرنے کا پورا ارادہ کر چکے تھے۔ امریکی صدر ٹرومین کے کہنے پر اُسی روز یعنی 25 جون 1950 کو اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل نے قرار داد نمبر 82 منظور کی جس میں شمالی کوریا سے مطالبہ کیا گیا کہ جنوبی کوریا میں اپنی فوجوں کو آگے بڑھنے سے روک دے اور یہ فوجی مداخلت بند کر دے، اس قرارداد کے حق میں نو ووٹ آئے اور ایک ووٹ ’’ملک‘‘ غیر حاضر رہا۔ اُس وقت عملی طور پر کوریا شمالی اور جنوبی کوریا کے دو حصوں میں تقسیم ہوگیا تھا اور یہاں جنگ شروع ہو گئی۔

اُس وقت یعنی جنگ عظیم دوئم کے صرف پانچ سال بعد سرد جنگ کے اعتبار سے یہ بہت بڑا معرکہ تھا جس میں بہت بڑی تاریخی شخصیات اپنے اپنے ملکوں کے عظیم لیڈروں کی حیثیت سے متحرک تھیں جن میں امریکہ کے صدر ہیری ٹرومین امریکی جنرل میکار تھر، روس کے رہنما جوزف اسٹالن ، چین کے ماوزے تنگ ، برطانیہ کے چرچل شامل تھے۔ شمالی اور جنوبی کوریا کے درمیان جنگ کی اہمیت اور شدت کا اندازہ اس سے لگا یا جا سکتا ہے کہ اس جنگ میں شمالی کوریا کے ساتھ روس اور چین بھرپور طاقت کے ساتھ شامل تھے۔ شمالی کوریا کی اپنی کل فوج 266600 جبکہ چینی فوجیوں کی تعداد 1450000، روسی فوج 26000 تھی۔ جولائی 1953 تک جوں جوں جنگ میں شدت آتی گئی تو چین اور روس کی فوجیوں کی تعداد بڑھتی گئی اور آخر تک چین کی فوج 2970000 اور روس کی فوج 72000 تک پہنچ گئی۔

اس کے مقابلے میں جنوبی کوریا کی کل 602902 تھی، لیکن اس کے ساتھ امریکہ ، برطانیہ ، فرانس، ترکی، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ،کینڈا سمیت 28 ملکوں کی فوجیں شامل تھیں۔ شروع میں امریکہ کے فوجیوں کی تعداد 326863 اور برطانوی فوجیوں کی تعداد 14198 تھی لیکن بعد میںاِن کی بھی تعداد بڑھتی گئی اور امریکی فوج 1780000 ہو گئی اور اتحادیوں کی فوجوں کی تعداد بھی بڑھ کر 972334 ہو گئی، یہ اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ دونوں فریق اپنے اپنے موقف سے دستبردار ہو نے کو تیار نہیں تھے، کوریا کی جنگ 25 جون 1950سے27 جولائی1953 تک جاری رہی، اس جنگ میں امریکہ کی فوج کے مشہور تجربہ کار جنرل مارشل ڈیگلس میکار تھر نے جنوبی کوریا اور دیگر 28 ملکوں کی فوجوں کی کمان کی۔ دوسری جانب شمالی کوریا کے ساتھ تعدادکے لحاظ سے بڑی فوج چین کی تھی اس کی 29 لاکھ 70 ہزار فوج کے کمانڈر چین کے جنرل پینگ ڈیہوائی Peng Dehuai تھے۔

72000 روسی فوج کے کمانڈ رPavelzigrev پاول زیروف تھے۔ جنگ میں 30 لاکھ سے زیادہ فوجی اور سویلین افراد ہلاک ہوئے، جب کہ جنگ میں فوجیوں کی ہلاکت کے حوالے سے جو اعداد و شمار سامنے آئے اُن کے مطابق جنوبی کوریا کی جانب سے اتحادی فوج میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 990968 تھی، 387744 جنگ میں لاپتہ یا اغوا ہوئے اور373599 زخمی ہوئے، ان ہلاک ہونے والے فو جیوں میں سے 54246 امریکی اور 1109 برطانوی فوجی تھے، شمالی کوریا کی تین قومی اتحادی فوج کی کل ہلاکتیں 1550000 کے قریب تھیں جن میں سب سے زیادہ تعداد چینیوں کی تھی۔ کہا جاتا ہے کہ اس جنگ کے دوران جب بہت زیادہ جانی نقصان ہو رہا تھا تو امریکی صدرو ٹرمین اور پھر صدرآئزن ہاور کو فوجی تھنک ٹینک کے بعض ماہرین نے جاپان کی طرح یہاں بھی ایٹم بم استعمال کرنے کی تجویز دی تھی جس کو امریکی صدر نے سختی سے رد کر دیا تھا، اس کی بنیاد ی وجہ غالباً یہی تھی کہ کوریا کی جنگ میں جب 25 جون 1950 کی اقوام متحدہ کی قرار داد کے باوجود جنگ نہیں روکی گئی اور پھر یہ جنگ شدت ہی اختیار کرتی گئی تو یہ واضح ہو گیا تھا کہ سوویت یونین اور چین کسی بھی صورت میں یہاں کم سے کم شمالی کوریا کی کیمونسٹ یا روس اور چین کی حمایتی حکومت کو ہرحال میں برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔

جہاں تک تعلق اُس وقت کی جمہوریت کے حامل اور ترقی یافتہ ممالک کا تھا تو اکثر آزاد اور خود مختار ممالک کی اکثریت امریکی موقف کی حامی تھی، یہی وجہ تھی کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اور سکیورٹی کونسل کی قرار دادیں بھی امریکی موقف کے حق میں تھیں مگر سوویت یونین اور چین نے اٹل موقف اختیار کیا تھا اور پوری دنیا کی اکثریتی رائے کو اپنے قومی مفادات کی خاطر رد کر دیا تھا۔

اس لیے اگر امریکہ ایٹمی ہتھیار استعمال کرتا تو اُسے جاپان کے مقابلے میں بہت مختلف اور سخت جواب ملتا کیونکہ اُس وقت سوویت یونین بھی ایٹمی قوت بن چکا تھا اور اس طرح دنیا ایسی بڑی تباہی سے گزرتی کہ وہ پہلی اور دوسری جنگ عظیم سے کہیں زیادہ ہوتی اور دوسری جنگ عظیم کے بعد اُن پانچ برسوں میں امریکہ کی مدد سے یورپ اور جاپان میں تعمیر نو کا عمل مکمل ہوا تھا اور جس تیز رفتاری سے وہاں ترقی اور خوشحالی آرہی تھی وہ عمل نہ صرف رک جاتا بلکہ یہ ممالک دوبارہ اور کہیں زیادہ بدحال تباہ اور برباد ہو جاتے، اس لیے امریکہ کے پاس اقوام متحدہ میں باوجود اکثریت کی حمایت اور تائید کے ایٹم بم استعمال کرنے کا حوصلہ نہیں تھا۔ یوں شمالی اور جنوبی کوریا کی یہ جنگ Sea of japan  بحیرہ جاپان اور YellowSea بحیرہ زرد میں واقع جزیاہ نماہ کوریا میں 25 جون 1950 سے شروع ہو کر 27 جولائی 1953 کو3 سال 1 ماہ2 دن بعد ختم ہوئی او رKorean Demilitarized Zone شمالی اور جنوبی کوریا کی سرحدوںکے درمیان قائم کئے جانے والے غیر فوجی علاقے میں دونوں جانب سے فوجی قبضے کی بنیاد پر کچھ تبدیلی آگئی کہ جنگ میں شمالی کوریا نے Kaesong کارسونگ کا شہر حاصل کر لیا اور جنوبی کوریا نےشمالی کوریاکے 3900 مربع کلو میٹر رقبے پر قبضہ کر لیا اور پھر 1953 میں ہو نے والے معاہد ے پر دونوں جانب سے دستخط کر دئیے گئے اور یوں ڈیموکریٹک پیپلز ری پبلک آف کوریا یعنی شمالی کوریا میں Kim ll Sung کم ایل سنگ کی کمیو نسٹ حکومت کو تسلیم کر لیا گیا اور ری پبلک آف کوریا جمہوریہ کوریا یعنی جنوبی کوریا میں کیمونسٹ مخالف Syngman Rhee سنگمین رہی کی حکومت کو تسلیم کر لیا گیا ۔

اس کے بعد یہاں دونوں اطراف میں یعنی شمالی اور جنوبی کوریا کے درمیان نہ صرف پوری سرد جنگ کے دوران بلکہ اس کے بعد بھی تناؤ کی صورت جاری رہی حالانکہ 1990 میںافغانستان سے سوویت یونین کی فوجوں کے نکل جانے کے بعد روسی رہنما گوربا چوف نے گلاسنس اور پرسٹرء کا کے تحت فوری اصلاحات کیں۔

اس نظام کے ساتھ سوویت یونین کو دوبارہ روس میں تبدیل کیا، سنٹرل ایشیا کی ریاستوں اور سابق مشرقی سوویت یونین کی ریاستوں کو آزادیاں دے کر اِن کو خود مختار ملکوںکی حیثیت سے تسلیم کرتے ہوئے کیمونزم کے خاتمے اور اس کی جگہ آزاد معیشت کو متعارف کر نے کے کٹھن مراحل طے کئے اور پھر نیٹو کے مقابلے میں تشکیل پانے والا سوویت یونین کا گروپ جو وارسا معاہد ے کی بنیاد پر تشکیل پایا تھا وہ بھی اِن ملکوں سے کیمونزم کے خاتمے کے بعد ختم ہوا تو خیال کیا جا رہا تھا کہ اب مشرق اور مغربی جرمنی کی طرح شمالی اور جنوبی کوریا بھی دوبارہ ایک ملک ہو جائیں گے کیونکہ یہاںبھی دونوں حصوں میں ایک ہی کورین قوم آباد ہے جو جنگِ عظیم دوئم سے پہلے ایک ہی ملک کوریا میں بغیر سرحدی تقسیم کے صدیوں سے رہتی رہی ہے، مگر ایسا نہیں ہوا اور شمالی اور جنوبی کوریا میں یہ تناؤ آج تک جا ری ہے اور اس تناؤ میں اب بھی امریکہ، روس اور چین درپردہ کارفرما دکھائی دیتے ہیں اور تعریف کی بات یہ ہے کہ باوجود دنیا سے اشتراکیت کے خاتمے کے اب بھی روس اورچین کی جانب سے وہی اسٹرٹیجی ہے اور امریکہ کی طرف سے بھی جواباً وہی انداز ہے۔

ہاں البتہ یہ ضرور ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہاں اس کے حجم کے اعتبار سے اس میںبہت اضافہ ہو چکا ہے اور مزید ہوتا رہے گا، مثلاً شمالی کوریا پر جب امریکی ملٹری تھنک ٹینک کے بعض ماہرین نے امریکی صدر کو یہاں جاپان کی طرح ایٹم بم استعمال کر نے کی تجویز دی اور امریکہ نے اس لیے ایٹم بم استعمال نہیں کیا تھا کہ جواب میں سابق سوویت یونین بھی ایسا کر نے کے لیے تیار تھا، اب صورت یہ ہے کہ باوجود اس کے کہ شمالی کوریا ایک چھوٹا سا ملک ہے اور اس کی معیشت بھی اتنی مضبوط نہیں، شمالی کوریا فوجی تعداد کے لحاظ سے دنیا کی چوتھی بڑی قوت ہونے کے ساتھ ساتھ ایٹمی صلاحیت اور جدید میزائل سسٹم بھی رکھتا اور اس کے دور مار کروز میزائیلوں کی زد میں امریکہ بھی آتا ہے اور ماضی قریب میں باوجود امریکہ کے ڈرانے دھمکانے کے شمالی کوریا نے یہ صلاحیت حاصل کر لی اور یہ حقیقت ہے کہ اگر آج بھی امریکہ یہاں جنگ کر ے تو امریکہ کو افغانستان، شام، عراق، لیبیا جیسی صورتحال نہیں ملے گی بلکہ ایک تو یہاں اگر امریکہ نے روایتی انداز کی جنگ کی تو بھی اُسے ایک بہت بڑی فوج کا سامنا کرنا پڑے گا اور اب اگر کوریا کی گزشتہ جنگ کی طرح چالیس پچاس ہزار امریکی فوجی یہاں مارے جاتے ہیں تو امریکی عوام اس پر بلبلا اٹھیں گے اور اگر امریکہ یہاں جدید میزائل استعمال کرتا ہے تو کوریا اس کا بھی موثر جواب دے گا اور ایٹمی ہتھیاروں کا آپشن بھی شمالی کوریا کے پاس موجود ہے۔

یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ اوّل تو دنیا بھر کے ماہرین اور جنگی مبصرین اس بات پر اتفاق کرتے ہیں کہ اب دنیا میں کوئی ملک بھی ایٹمی ہتھیار استعمال کر نے کی حماقت نہیں کرے گا اور اگر کی بھی تو جو قوت ایٹمی ہتھیار استعمال کرے گی اُس کی اسٹرٹیجی یہ ہو گی کہ وہ پہل کرے کیونکہ اگر دشمن نے پہل کر دی تو دوسرا فریق اس کا جواب نہیں دے سکے گا۔ یوں آج امریکہ کے ڈونلڈ ٹرمپ جیسے صدر کی بھی مذاکرات ہی کو ترجیح دیتے ہیں اور یوں امریکہ کی کو شش ہوتی ہے کہ یہاںصورتحال کنٹرول میں رہے اس وقت شمالی کوریا کا رقبہ 120540 مربع کلومیٹر ہے اور آبادی24052231 ہے اس کا آئین جو اس وقت نافذ العمل ہے، 1972 میں بنایا گیا اور جب 1990ء میں دنیا میں سرد جنگ کا خاتمہ ہوا تو اس آئین میں 17 ستمبر1991 کو ضرورت، وقت اور صورتحال کے مطابق ترامیم کی گئیں۔ 2014 کے مطابق شمالی کوریا کا سالانہ جی ڈی پی، پی پی پی 40 ارب ڈالر اور سالانہ فی کس آمدنی 1300 ڈالر تھی، کوریا میں قومی رضاکار نیم فوجی دستے جو کل فوجی قوت کا 37 فیصد ہیں سمیت کو ریا کی فوجی قوت 9495000 ہے جو جنگ کی صورت میں دشمن کے خلاف لڑ سکتی ہے جب کہ اس کی باقاعدہ فوج کی تعداد 12 لاکھ 21 ہزار ہے۔

یوں فوجی تعداد کے اعتبار سے شمالی کوریا، چین امریکہ اور بھارت کے بعد دنیاکا چوتھا ملک ہے اور اس کی صرف باقاعدہ فوج کل آبادی کا 4.7% سے کچھ زیادہ ہے۔ شمالی کوریا 1991 ہی سے اقوام متحدہ کا رکن بنا، جب شمالی کوریا نے اپنے 1972 کے آئین میں بنیادی ضرورتوں کے مطابق ترامیم کی تھیں، شمالی کوریا جی سیون اور آسیان کا رکن ملک بھی ہے، شمالی کوریا کا دارالحکومت Pyonyang پیانگ یانگ ہے، 1990 میں سرد جنگ کے خاتمے کے اعلان کے بعد سے شمالی کوریا باوجود مختلف اقتصادی بحرانوں اور مسائل کے اپنی فوجی قوت کو وقت کے تقاضوں کے مطابق بڑھاتا رہا ہے، شمالی کوریا کو 1994 سے لے کر 1998 تک شدید نوعیت کے قحط کا سامنا رہا جس میں شمالی کور یا کے 240000 عوام ہلاک ہوئے تھے۔ شمالی کوریا کے مقابلے میں جنوبی کو یا کا رقبہ 100363 مربع کلومیٹر ہے اور آبادی 51709098 ہے۔ 2020 کے مطابق جنوبی کوریا کا سالانہ جی ڈی پی، پی پی پی 2.418 کھرب ڈالر ہے۔

یہاں فی کس سالانہ آمدنی 46451 ڈالر ہے اور جنوبی کوریا دنیا کی چوتھی بڑی میٹرولپیٹین اکانومی ہے اس کا آئین جو 1988 میں تشکیل پایا تھا اس میں بھی 1991 میں ترمیم کی گئیں اور یہ بھی اسی وقت سے اقوام متحدہ کا رکن ہے، یہاں امریکہ اور روس اور چین کی اسٹرٹیجی واضح طور پر الگ الگ اپنی شناخت کے ساتھ دکھائی دیتی ہے، شمالی کوریا ایٹمی ہتھیاروں اور جدید میزائلوں کے ساتھ اپنی فوج کی تعداد کے لحاظ سے دنیا کی چوتھی بڑی قوت ہے جب کہ اس کے مقابلے میںجنوبی کوریا اپنے سالانہ جی ڈی پی، پی پی پی 2.418 ٹریلین ڈالر اور فی کس سالانہ آمدنی دنیا کی چوتھی میٹرو پولیٹین اکانومی ہے۔

امریکی بھرپور مالی اقتصادی حمایت اور تعاون کے ساتھ اس کا درالحکومت سیول اب تیزی سے ترقی کرتی معیشت کی بنیاد پر دنیا بھر میں شہرت رکھتا ہے۔ جنوبی کو ریا کے لیے ا مریکہ کی منڈیوں کے ساتھ جاپان، برطانیہ اور دیگر وہ ملک جو سیاسی اقصادی معاشی طور پر امریکہ سے جڑے ہوئے ہیں، اُ ن کی بھی منڈیاں جنوبی کوریا کی تجارت کے لیے کھلی ہوئی ہیں اور مالیاتی تجارتی تعاون جنوبی کوریا کو حاصل ہے، پھر یہ بھی حقیقت ہے کہ امریکہ یہاں 1990 کے بعد سے بدلتی ہوئی عالمی صورتحال کے باوجود کوئی تبدیلی نہ لا سکا، لیکن بہت آہستگی سے روس اور چین کے خلاف امریکہ اب تک اپنی چالیں چلتا آیا ہے اور اب امریکہ کی یہی کوشش ہے کہ کسی طرح وہ کسی بھی قیمت پر شمالی کوریا کو اُس کے ایٹمی ہتھیاروں سے دستبردار کروا دے اور جنوبی کوریا کے ساتھ مذاکرات کی بنیاد پر کسی ایسے معاہدے پر آمادہ کر لے کہ شمالی اور جنوبی کوریا ایک ہی قوم کے باشندے ایک دوسرے ملک میں آزادانہ آجا سکیں۔

اِن کے درمیان تجارتی، ثقافتی ، روابط بحال ہوں، اگر امریکہ مرحلہ وار سہی ان دونوں مقاصد میں سے کسی ایک مقصد میں بھی کامیاب ہو جا تا ہے تو شمالی کوریا میں چین اور روس کی اسٹرٹیجک پالیسی ناکام ہو جائے گی اور یہ بھی ممکن ہے کہ ایسی صورت میں چین اور روس بھی اپنی اسٹرٹیجی ضرور تبدیل کر یں، یوں اگرچہ آج کوریا کی جنگ کے واقعے کے اعتبار سے 70 برس اور جنگ کے خاتمے کے لحا ظ سے67 سال ہو چکے ہیں مگر کوریا جو جاپان کی نوآبادیات کے طور پر بھی ایک قوم کا ملک تھا دو حصوں میں تقسیم ہے، 1990 تک تو جرمنی کی تقسیم بھی مشرقی اور مغربی جرمنی کی بنیاد پر تھی مگر اُس وقت مشرقی جرمنی میں روس نواز کیمونسٹ حکومت تھی اور مغربی جرمنی میں امریکہ اور برطانیہ نواز آزاد معیشت کی حامل اور جمہوری حکومت تھی اور سرد جنگ کے خاتمے کا اعلان ہی مغربی اور مشرقی جرمنی کے دوبارہ ایک ملک ہو جا نے پر ہوا تھا اور شائد اقوام متحدہ کے قیا م سے لے کر اب تک جدید تاریخ میں جرمنی ہی کوریا ہی کی طرح ایک ایسا ملک ہے جس کے دو حصے بھی اقوام متحدہ کے قیام کے بعد ہوئے اور اُن دو حصوں کی آزادی اور خود مختار ی پر مہر بھی اقوام متحدہ ہی نے ثبت کی تھی مگر اقوام متحدہ ہی نے پھر مشرق اور مغربی جرمنی کو اُس کے پرانے نقشے کے مطابق ایک ملک تسلیم کیا۔

اب کوریا کی صورت بھی سامنے ہے کہ یہاں آج بھی کورین قوم دو حصوں میں تقسیم ہو کر رہ رہی ہے، یہا ں اکثر پاکستانی اقتصادی معاشی ماہرین کے حوالوں سے مختلف سیاسی حلقوں میں اور خصوصاً میڈیا میں جنوبی کوریا کی اقتصادی ترقی کی مثال دیتے ہو ئے کہا جاتا ہے کہ جنوبی کوریا کی ترقی کا یہ ماڈل پاکستان کے ماہر ِاقتصادیات ڈاکٹر محبوب الحق نے بنایا تھا جنہوں نے جنرل ضیا الحق کے دور میں وزیر اعظم محمد خان جو نیجو کی حکومت کا پہلا قومی بجٹ بنایا تھا جو بہترین اور خسارے سے پاک قومی بجٹ تھا لیکن وہ صرف ایک ہی بجٹ پیش کر سکے، یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ اُس وقت بھی دنیا کی بڑی قوتوں کے مفاد میں یہ نہیں تھا کہ پاکستان اقتصادی طور پر آزاد اور خود مختار ہو جائے اور آج بھی کچھ ایسی ہی صورت ہے، اس لیے ڈاکٹر محبوب الحق کا اقتصادی ماڈل یہاں کام نہیں کر سکا اور جنوبی کوریا میں یہ ماڈل اُس وقت تک کام کر تا رہے گا جب تک جنوبی کوریا کی یہ اہمیت امریکہ اور دیگر اتحادیوں کے لیے اہم ہے ۔          (جاری ہے)

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔