کیا فالج کی دوا سے کورونا کے مریضوں کو فائدہ ہوسکتا ہے؟

ویب ڈیسک  پير 30 مارچ 2020
سانس لینے میں شدید دشواری، کورونا وائرس سے ہلاکتوں کی سب سے بڑی وجہ کے طور پر سامنے آئی ہے۔ (فوٹو: فائل)

سانس لینے میں شدید دشواری، کورونا وائرس سے ہلاکتوں کی سب سے بڑی وجہ کے طور پر سامنے آئی ہے۔ (فوٹو: فائل)

میساچیوسٹس: طبّی ماہرین کا کہنا ہے کہ فالج کے علاج میں استعمال ہونے والی ایک عام دوا، جو تقریباً ہر اسپتال میں ہمہ وقت موجود رہتی ہے، اضافی طور پر کورونا وائرس کے مریضوں کو بھی فائدہ پہنچا سکتی ہے اور ان کےلیے وینٹی لیٹرز کی ضرورت کم کرسکتی ہے۔

اس وقت جبکہ ساری دنیا کی توجہ کورونا وائرس کی عالمی وبا کو مؤثر انداز میں شکست دینے پر مرکوز ہے، وہیں یہ مسئلہ بھی درپیش ہے کہ ناول کورونا وائرس ’’کووِڈ 19‘‘ سے شدید متاثرہ افراد کو سانس لینے میں انتہائی دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور دنیا کے کسی ملک کے پاس بھی ان شدید متاثرین کےلیے مناسب تعداد میں وینٹی لیٹرز موجود نہیں۔

اگرچہ ایک برطانوی کمپنی نے مختصر وینٹی لیٹر ایجاد بھی کرلیا ہے جس کی تجارتی پیمانے پر تیاری بھی عن قریب شروع ہوجائے گی لیکن پھر بھی اس میں تین سے چار ہفتے ضرور لگ جائیں گے۔

یہ خبر بھی پڑھیے: کورونا سے جنگ: صرف دس دن میں ’’دستی‘‘ وینٹی لیٹر ایجاد کرلیا گیا

تاہم امریکی طبّی ماہرین نے فالج کی جس دوا کو کورونا وائرس کےلیے امید افزاء قرار دیا ہے، وہ ’’ٹشو پلازمینوجن ایکٹیویٹر‘‘ (ٹی پی اے) کہلاتی ہے جسے فالج یا دل کے دورے سے بننے والے، خون کے لوتھڑوں کو فوراً تحلیل کرنے میں استعمال کیا جاتا ہے۔

اپنی اسی خوبی کی بناء پر یہ دوا سانس لینے میں بھی سہولت پیدا کرسکتی ہے۔ لیکن اس بارے میں اب تک صرف ایک محدود انسانی مطالعہ ہی کیا گیا ہے جو 2001 میں شائع ہوا تھا۔ اس مطالعے سے پتا چلا تھا کہ جن مریضوں نے ’’ٹی پی اے‘‘ استعمال کی تھی انہیں سانس لینے میں بھی سہولت ہوئی تھی جس سے ان میں شرحِ اموات بھی (ٹی پی اے استعمال نہ کرنے والے مریضوں کے مقابلے میں) 70 فیصد تھی۔

یہ تحقیق ہارورڈ اور ایم آئی ٹی کے سائنسدانوں نے مشترکہ طور پر کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جب تک کووِڈ 19 کی کوئی ویکسین تیار نہیں ہوجاتی، تب تک وینٹی لیٹرز کی ممکنہ ضرورت کم سے کم رکھنے میں اس دوا کی خوبیوں سے فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے جو محدود ہی سہی لیکن سائنسی طور پر ثابت شدہ ضرور ہیں۔

واضح رہے کہ کورونا وائرس کے متاثرین میں بڑی تعداد ان لوگوں کی ہے جنہیں سانس لینے میں شدید دشواری کا سامنا تھا اور انہیں مصنوعی تنفسی آلے (وینٹی لیٹر) کی سہولت بھی میسر نہیں تھی۔

مذکورہ تحقیقی مقالہ ’’دی جرنل آف ٹراما اینڈ اکیوٹ کیئر سرجری‘‘ کے تازہ شمارے میں آن لائن شائع ہوا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔