پنجاب میں لاک ڈاؤن سے ہزاروں ایکڑ پر کاشت پھول خراب؛ گل فروش بھی متاثر

آصف محمود  پير 30 مارچ 2020
مختلف اقسام کے پھول خراب ہونے سے کاشتکاروں کو لاکھوں روپے کا نقصان ہوگیا . فوٹو ؛ ایکسپریس

مختلف اقسام کے پھول خراب ہونے سے کاشتکاروں کو لاکھوں روپے کا نقصان ہوگیا . فوٹو ؛ ایکسپریس

 لاہور: پنجاب میں لاک ڈاؤن کے باعث جہاں مختلف شعبے متاثر ہوئے ہیں وہیں ہزاروں ایکڑ پرکاشت کیے گئے مختلف اقسام کے پھول بھی خراب ہونا شروع ہوگئے ہیں جس سے کاشتکاروں کو لاکھوں روپے کا نقصان جب کہ فوت ہونے والوں کی میتیوں پرڈالنے کے لئے پھول ملنا بھی مشکل ہوگیا۔

کورونا وائرس کی وجہ سے لاک ڈاؤن کے باعث سے پھول بیچنے والوں کا کاروباربھی ٹھپ ہوگیا۔ پتوکی سمیت پنجاب کے مختلف اضلاع میں ہزاروں ایکڑپرکاشت کیے گئے گلاب، گلیڈ سمیت کئی اقسام کے پھولوں کی فصل خراب ہوگئی ہے جب کہ بیرون ملک اوردیگرصوبوں سے پھولوں کی برآمد بھی بند ہے۔

پتوکی میں پھولوں کے ایک کاشتکارچوہدری رضوان نے بتایا کہ اس وقت ان کی فصل تیار تھی لیکن وائرس کی وجہ سے جولاک ڈاؤن ہوا ہے ا س وجہ سے پھول منڈی میں نہیں بھیج سکتے کیوں کہ منڈی بھی بندپڑی ہے، ہمارے پاس اسٹوریج کا بھی کوئی ایسا انتطام نہیں جہاں لمبے عرصے تک پھولوں کومحفوظ رکھاجاسکے، ہماری آنکھوں کے سامنے فصل خراب ہوتی جارہی ہے اورہم کچھ نہیں کرسکتے۔ انہوں نے بتایا کہ ایک ہفتے کے دوران ان کی 25 سے 30 لاکھ روپے کی فصل خراب ہوگئی ہے اور یہ سلسلہ ابھی جاری ہے۔

لبرٹی چوک لاہورمیں پھول بیچنے والے محمد دانش بھی اس صورتحال سے خاصا پریشان ہیں۔ انہوں نے بتایا حکومت نے نا صرف لاک ڈاؤن کررکھا ہے بلکہ شادی بیاہ کی تقریبات پرپابندی ہے حالانکہ یہ شادیوں کا سیزن ہے اوراسی سیزن میں انہیں کمائی ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا ان کی دکان پرملکی اورغیرملکی پھولوں کا جواسٹاک موجود تھا وہ خراب ہوگیا ہے، تین دن میں 6 سے 7 لاکھ روپے کا نقصان اٹھاناپڑا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں دکانیں کھولنے کی اجازت نہیں ہے۔ میتیوں اورقبروں پرڈالنے کے لئے پھول نہیں بیچ سکتے۔

انہوں نے کہا کہ مارچ اپریل میں گلاب کی مختلف اقسام تیارہوجاتی ہیں، ہمارے پاس ڈھیڑوں آرڈرتھے جو اب کینسل ہوگئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ گلیڈ کو زیادہ سے 6 دن جب کہ گلاب کو تین دن تک محفوظ رکھاجاسکتا ہے، مختلف علاقوں سے روزانہ سگیاں منڈی میں 15 سے 20 ہزارگلیڈ جبکہ 50 سے 60 ہزار گلاب لائے جاتے ہیں اسی طرح پتوکی منڈی میں روزانہ 25 سے 30 ہزارگلیڈلایاجاتا ہے۔

ایک اوردکاندارنے بتایا کہ انہوں نے آن لائن پھول فراہم کرنے کی سروس شروع کی ہے مگر ابھی تک انہیں صرف قبروں اورمیتوں پرڈالنے کے لئے پھولوں کی چادروں کی ہی آرڈرملے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ جن سے پیسے ایڈوانس لئے تھے اب ان کوواپس کرنامشکل ہوگیاہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔