کورونا کے بعد کی دنیا... کیسی ہوگی، کیسی ہونی چاہیے؟

واصب امداد  ہفتہ 4 اپريل 2020
کورونا وائرس تو ایک دن چلا جائے گا لیکن ہمیں سکھا جائے گا کہ ایک حد کے بعد قدرت خود ہی اپنا حساب چُکتا کرتی ہے۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)

کورونا وائرس تو ایک دن چلا جائے گا لیکن ہمیں سکھا جائے گا کہ ایک حد کے بعد قدرت خود ہی اپنا حساب چُکتا کرتی ہے۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)

ربِ ذوالجلال نے دنیا کا ایک عجب نظام بنایا ہوا ہے۔ یہاں، دیکھا جائے تو سب راستے ایک ہی منزل کی جانب رواں دواں ہیں مگر غور کیا جائے تو اس راستے کا ہر قدم اور ان قدموں کے نیچے آنے والا ہر کنکر دوسروں کی رہ گزر سے مختلف ہے۔ کورونا وائرس کی وبا کسی صورت تھمتی نظر نہیں آرہی۔ یہ وائرس کیا ہے، کیسے ہوتا ہے، اس سے بچاؤ کیسے ممکن ہے اور دورِ جدید میں اس کا مستقبل کیا ہے؟ اس پر بہت کچھ لکھا جاچکا۔ آج کل میری سوچ کا محور مگر کچھ اور ہے۔ اس مہلک مرض نے دنیا کو ساکت کردیا ہے، تمام ممالک اپنے کھڑکیاں دروازے بند کررہے ہیں، تمام معیشتیں دھڑام سے گر رہی ہیں، اسٹاک مارکیٹس کسی مقتل گاہ جیسا منظر پیش کررہی ہیں، ایئرپورٹس کو تالے لگ چکے ہیں۔ جہاں کبھی رقصِ حیات ہوتا تھا، آج وہاں چپ کا راج ہے۔ حکومتیں اپنے اپنے عوام کو گھروں میں بند کرنے کےلیے مختلف طریقے آزما رہی ہیں۔ دیکھا جائے تو تمام عالم ایک سکتے کی کیفیت میں ہے، سب کے سامنے ایک ایسا بلیک سوان ایونٹ وقوع پذیر ہوا ہے کہ آج سے چند مہینے پہلے تک لوگ اپنی وسیع ترین پلاننگ میں بھی ایسا کوئی واقع نہیں سوچ سکتے تھے۔

بقول ٹرمپ کہ ہمارا مقابلہ ایک ان دیکھے دشمن سے ہے، وہ دشمن گھر کے باہر کھڑا ہے، وہ کرنسی نوٹوں پر ہے، نبض کی ڈور پر ہے، لوگوں کے ہاتھوں میں ہے، ہوا کی نمی میں ہے، وہ ہر جگہ ہے۔ وہ ان دیکھا دشمن جنگی اصطلاح میں دنیا بھر کی سویلین پاپولیشن پر بمباری کررہا ہے، ہر ملک کے ڈاکٹروں کی فوج اس ان دیکھے دشمن سے مقابلے کےلیے جہاں صف بندی کررہی ہے، وہیں ہر گزرتے لمحے کے ساتھ ٹھکانے لگانے کےلیے ایک کے بعد ایک لاش کا اضافہ ہوتا چلا جارہا ہے۔ یہ ان چند ایسے گلوبل ایونٹس میں سے ہے جن کا اثر آنے والی نسلوں تک زائل ہوتا نظر نہیں آرہا۔ جیسے دو عالمی جنگیں ہوگئیں مگر ان کا اثر آج تک ہے، جیسے کولڈ وار کا خاتمے پر دنیا ایک ہیجیمونی کی غلام ہوگئی اور آج تک ہے، جیسے نائن الیون کے بعد دنیا آج تک وار آن ٹیرر کا خمیازہ بھگت رہی ہے، ویسے ہی کورونا سے پہلے اور کورونا کے بعد کی دنیا بھی یقیناً بہت مختلف ہوگی۔

سوچتا ہوں کہ کورونا وائرس تو ایک دن چلا ہی جائے گا، مگر جاتے جاتے اپنے ساتھ بہت سی باتیں ہمیں سکھا جائے گا، کہ آخر قدرت اپنے اندر بھی ایک آٹو کریکٹ مکینزم رکھتی ہے۔ آپ ایک حد تک قدرت کو چیلنج کرسکتے ہیں، اس کے بعد قدرت خود ہی اپنا حساب چُکتا کرتی ہے۔

کورونا کے بعد کی دنیا میں یقیناً جب بھی کوئی طاقتور ملک کسی کمزور پر اپنی طاقت کا استعمال کرکے لاک ڈاؤن یا کرفیو کا نفاذ کرے گا تو پوری دنیا آج یعنی اپنے کورونا کے وقت کو یاد کرکے چیخ اٹھے گی۔ جیسے ایٹمی ہتھیاروں کی بات سے لوگوں کی روح تک کانپ اٹھتی ہے، یقیناً تب لاک ڈاؤن اور کرفیو نامی الفاظ لوگوں کے حواس ساکت کرنے کےلیے کافی ہوں گے۔ کورونا کے بعد کی دنیا آزاد ہوگی، لوگ جیو اور جینے دو پر عمل پیرا ہوں گے، لوگ نہ تو اپنی آزادی کسی کے حوالے کریں گے اور نہ ہی کسی کو کسی کی آزادی سلب کرنے کی جرأت ہوگی۔

کورونا کے بعد ہر مصافحہ، ہر بغل گیر ہونا پہلے سے زیادہ پر اثر ہوگا۔ کورونا سکھا جائے گا کہ آپ چاہے مہنگا ترین جوتا پہنے ہوئے ہوں، آپ چاہے پہاڑوں اور چٹانوں پر دوڑنے کی صلاحیت رکھتے ہوں، آپ کے جوتے کے اندر کا ایک کنکر آپ کا پاؤں لہولہان کردے گا۔ کورونا کے بعد کی دنیا میں ممالک بیرونی معاملات میں دخل انداز ہونے سے پہلے اپنے گھر کو درست کرنے پر توجہ دیں گے، یعنی پہلے اپنے آنگن کی صفائی اہم ہوگی۔

کورونا سکھا جائے گا کہ جنگی آلات، رافیل طیاروں اور ہلاکت خیز میزائلوں سے کہیں زیادہ اہم وینٹی لیٹرز، ایکیوٹ کیئر بیڈز اور پروٹیکٹیو ماسک ہیں۔ کورونا کے بعد کی دنیا میں دوسروں کو تباہ کرنے کی سوچ پر اپنے آپ کو بچانے کی سوچ غالب ہوگی۔

کورونا وائرس سکھا جائے گا کہ انٹرنیٹ ایک کموڈٹی ہے، محض انٹرٹینمنٹ کا سامان نہیں۔ کورونا وائرس کے بعد کی دنیا میں معذور افراد یقیناً منیجریل عہدوں پر ہوں گے۔ انہیں جسمانی تفریق کے باعث عتاب کا نشانہ نہیں بنایا جائے گا۔ دنیا انہیں موقعہ دے گی کہ وہ گھر بیٹھ کر بذریعہ انٹرنیٹ اپنی صلاحیتوں کا بہترین استعمال کریں۔ پھر معذور ہونا کسی کی زندگی اندھیر نہیں کرے گا۔

کورونا کے بعد کی دنیا سمجھ جائے گی کہ تعلیم اور شعور میں فرق ہے۔ دنیا کو علم ہوگا کہ تعلیم محض نصابی کتب رٹنے رٹانے کا نام نہیں۔ یوں دنیا میں ہنر سیکھنے اور سکھانے پر توجہ دی جائے گی اور کتابی نصاب غرقِ دریا کردیا جائے گا۔ لوگوں کو یہ بھی اندازہ ہوگا کہ دنیا کو اصل خطرہ جہالت سے نہیں، پڑھے لکھے لوگوں کی سیکھی ہوئی باتوں پر عمل نہ کرنے سے ہے۔ دنیا یہ بھی جان جائے گی کہ یہ وائرس اس لیے پھیلا اور اتنی جانوں کے زیاں کا باعث اس لیے بنا کہ لوگ معلومات پر نہیں، مبالغے پر یقین رکھتے تھے۔

امید کرتا ہوں کورونا کے بعد کی دنیا میں پڑھائے جانے والے مضامین میں ایک مضمون ’’سماجی ذمہ داری‘‘ کا بھی ہوگا۔ لوگ ذخیرہ اندوزی سے نفرت کریں گے، قربانی، احساس اور جذبہ ایثار سے سرشار ہوں گے۔

کورونا وائرس تو چلا جائے گا مگر اپنے بعد ’’پہلے آپ‘‘ کی رِیت چھوڑ جائے گا۔ لوگ اپنی ضرورت سے زیادہ جمع کرنے کو گناہ سمجھیں گے، کوئی کسی کی مجبوری کو کاروبار کا موقعہ نہیں سمجھے گا۔ کورونا مذہبی منافرت کا خاتمہ کرجائے گا، لوگ جب بھی کسی ہندو، سکھ اور عیسائی سے نفرت کرنے لگیں گے تو انہیں یاد آئے گا کہ اس وبا کے دوران کسی ڈاکٹر سے کسی مریض نے اور کسی مریض نے کسی ڈاکٹر سے جان بچانے کے عمل سے پہلے اس کا مذہب نہیں پوچھا تھا۔

کورونا کے بعد دنیا کسی بھی چیز کو فار گرانٹڈ نہیں لے گی، اور ایک ایک نعمت کی موجودگی کا احساس کیا جائے گا۔ لوگ زندگی کی چھوٹی چھوٹی خوشیوں کا بھی احساس کریں گے، ہر آسانی اور ہر نعمت پر خدا کو شکریہ کہیں گے۔ کورونا کے بعد کے شب و روز اس احساس میں گزریں گے کہ یہ دنیا چاہے جتنی بھی ترقی کر جائے، جتنی بھی جدت اختیار کر لے، اس کا سسٹم ایک لحظے میں دھڑام سے گر سکتا ہے۔ یعنی اِس دنیا کے اوپر بھی کوئی طاقت ہے جِس کی رضا کو اپنی رضا پر فوقیت دینی ہے کہ انسان اْس کی ناراضگی کا خطرہ نہیں مول لے سکتا۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 1,000 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

واصب امداد

واصب امداد

بلاگر میڈیا کے طالب علم ہونے کے ساتھ ریڈیو براڈ کاسٹر ہیں۔ ملکی سیاست اور انٹرنیشنل افیئرز میں دلچسپی کے ساتھ لکھنے کا بھی شوق ہے۔ ان سے ٹویٹر آئی ڈی [email protected] پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔