کورونا وائرس سے کورونا فوبیا تک

ڈاکٹر نوید اقبال انصاری  پير 6 اپريل 2020
کورونا وائرس سے زیادہ اس کا خوف لوگوں کر پریشان کررہا ہے۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)

کورونا وائرس سے زیادہ اس کا خوف لوگوں کر پریشان کررہا ہے۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)

پاکستان میں کورونا وائرس کے کیسز سامنے آتے ہی میڈیا پر ایک شور مچ گیا اور لاک ڈاؤن کا مطالبہ اس قدر بڑھ گیا (گو کہ میرے نزدیک یہ چائے کی پیالی میں طوفان تھا بہرکیف) کہ خود وزیراعظم یہ کہنے پر مجبور ہوئے کہ میڈیا کے دباؤ میں آکر انھوں نے لوگوں کو گھروں تک محدود کرنے کا فیصلہ کیا۔

پاکستان کے ایک بڑے ٹی وی چینل پر کچھ ماہرین نفسیات گفتگو میں کہہ رہے تھے کہ ضرورت سے زیادہ خوف کی فضا بن گئی ہے، جس کے سبب لوگ ڈپریشن وغیرہ جیسی مختلف بیماریوں میں تیزی سے مبتلا ہورہے ہیں، ایک دوسرے سے خوف کھا رہے ہیں، گھر میں بیٹھے بیٹھے بار بار ہاتھ دھو رہے ہیں، قوت برداشت ختم ہوتی جارہی ہے، نارمل لوگوں میں بے چینی پیدا ہو رہی ہے۔ کل کیا ہوگا؟ اس کا خوف بڑھ رہا ہے۔ ایک ماہر نفسیات کا یہ کہنا تھا کہ ذہنی قوت مدافعت پیدا کرنے کی ضرورت ہے اور اس میں مذہب کا کردار بڑا اہم ہوتا ہے۔

ان ماہرین کی باتیں سن کر یہ بات واضح تھی کہ ہمیں خوف کی باتوں سے دور رہنا چاہیے اور مذہب سے جڑنا چاہیے، کیونکہ ایسے حالات میں مذہب ہی امید کی کرن دکھاتا ہے جس سے ذہنی سکون حاصل ہوتا ہے اور قوت مدافعت بڑھتی ہے۔ دوسری طرف ہم دیکھ رہے ہیں کہ میڈیا پر خوف کی خبروں اور پروگراموں کی بھرمار ہے۔ میڈیا سے بار بار لاک ڈاؤن بڑھانے اور سخت کرنے کا کہا جارہا ہے اور لوگوں کو مساجد سے دور کرکے مذہب سے دور کیا جارہا ہے۔ خاص کر نماز جمعہ سے روکنے کی حکمت عملی اپنائی جارہی ہے، حالانکہ جمعہ کا خطبہ لوگوں کے خوف کو ختم کرکے صبر، توکل اور قناعت جیسی تعلیم دے کر ان حالات میں بہت اہم کردار ادا کرسکتا تھا۔ مساجد کے دروازے لوگوں پر یہ کہہ کر بند کیے جارہے ہیں کہ یہاں ہجوم لگ جاتا ہے، حالانکہ مساجد میں تو پہلے ہی لوگ کم آتے ہیں۔ ہر نماز میں مشکل سے مسجد کی دو سے تین صفحیں بنتی ہیں جبکہ دودھ، کریانہ اسٹور، سپر اسٹور اور گورنر ہاؤس پنجاب سمیت جہاں بھی امدادی سامان دیا جارہا ہے لوگوں کا ہجوم موجود ہوتا ہے۔

یوں ہم کہہ سکتے ہیں کہ مساجد بند کرنے کا فیصلہ درست ثابت نہیں ہوا۔ اسی طرح کراچی کی کئی کاروباری شخصیات کا کہنا ہے کہ لوگوں کےلیے اشیائے خورونوش خریدنے کا جو وقفہ حکومت نے دیا ہے اس کو بڑھا کر چوبیس گھنٹے کردینا چاہیے، کیونکہ اتنے بڑے شہر میں جب لوگ گھروں سے نکلتے ہیں تو وقت کی تنگی کے باعث رش لگ جاتا ہے۔ نیز لوگوں کو کاروبار پر آنے کی اجازت دیں ورنہ بڑا انسانی المیہ ہوگا۔

ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہم بیرون ملک کی خبروں سے اور میڈیا سے متاثر ہوکر جلد بازی میں فیصلے کرتے جارہے ہیں۔ ہمارا ایمان دین پر ہے مگر ہم نے ان کی نقالی شروع کردی جن کا ایمان سائنس پر زیادہ ہے۔ سائنس کا علم مذہب کی طرح قطعی نہیں ہوتا، اس میں تغیر واقع ہوتا رہتا ہے۔ مثلاً ہم نے کورونا کے مسئلے میں نقالی کرتے ہوئے مرنے والے کے عزیزوں کو میت سے دور رکھا۔ نماز جنازہ اور قبر میں اتارتے وقت بھی عزیز رشتے داروں کو قریب نہ آنے دیا کہ اس کے جراثیم دوسروں کو بھی لگ جائیں گے۔ ابھی چند روز قبل ڈبلیو ایچ او کے ادارے نے نئی تحقیق کے تناظر میں نیا فیصلہ دے دیا کہ کورونا سے مرنے والے مردے کو چھونے سے وائرس نہیں لگتا۔ ذرا غور کیجئے! اگر پہلے تحقیق یہ آتی کہ مردے کو جلادو، اس سے وائرس پھیلتا ہے تو ہم سائنس کے حکم کو دین پر ترجیح دے کر مردے بھی جلا دیتے۔

ہم نے اپنے ملکی حالات اور سماجی حالات کے مطابق فیصلے نہیں کیے۔ پہلے اعلان کردیا کہ سب کچھ بند سوائے دودھ اور جنرل اسٹور وغیرہ کے۔ چنانچہ ہم نے دیکھا کہ ایک جانب سپر اسٹور پر لوگوں کا ہجوم پہلے سے بھی کہیں بڑھ گیا، جبکہ ایک پنکچر لگانے والا غریب، جس کے پاس کبھی بھی ہجوم نہیں لگتا تھا، وہ بے روزگار ہوکر گھر بیٹھ گیا۔ سپر ہائی وے پر بھی پنکچر کی دکانیں بند کرادی گئیں، جس سے گڈز ٹرانسپورٹ کےلیے بھی مسائل پیدا ہوئے۔ چنانچہ بعد میں اعلان کیا گیا کہ پنکچرز والے مستثنیٰ ہیں۔ اسی طرح سندھ میں سب سے پہلے لاک ڈاؤن کا اعلان کردیا گیا۔ حالانکہ پورے صوبے کے بجائے جہاں جہاں کیسز سامنے آتے وہاں وہاں محلے، علاقے یا یوسی کی حدود کی بنیاد پر لاک ڈاؤن کرنا زیادہ بہتر ہوتا۔

خود وزیراعظم یہ تسلیم کرتے ہیں کہ اس ملک کے پچیس فیصد روز کے کمانے والے بے روز گار ہوگئے تو ان کے گھروں تک راشن پہنچانے کا بھی مسئلہ کھڑا ہوجائے گا۔ وزیراعظم کے یہ خدشات اور ان کا وژن درست ہے، لہٰذا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کےلیے کچھ اس قسم کے اقدامات کیے جاسکتے ہیں۔

پورے ملک یا صوبہ میں کرفیو لگانے کے بجائے جن علاقوں یا محلوں میں کورونا کے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، ان کو سیل کردیا جائے۔ باقی علاقے کے لوگوں کو ان کے اپنے علاقوں میں معاشی سرگرمیاں جاری رکھنے کی اجازت دی جائے البتہ علاقے کے باہر یا اندر آمدورفت کےلیے پالیسی مرتب کرکے چیکنگ کی جائے۔ مثال کے طور پر میڈیا رپورٹ کے مطابق کراچی میں اورنگی ٹاؤن میں اب تک صرف ایک کیس رپورٹ ہوا ہے۔ یہ ایشیا کی سب سے بڑی کچی آبادی ہے، چنانچہ اس ٹاؤن میں جس گلی یا محلے سے کیس آیا ہے صرف اس کو سیل کردیا جائے اور باقی پورے اورنگی ٹاؤن میں معاشی سرگرمیوں کی اجازت دے دی جائے۔ البتہ اورنگی ٹاؤن سے باہر آنے یا جانے کی پالیسی بنا کر سخت چیکنگ کی جائے۔ اس طرح ایک بہت بڑی آبادی میں نہ کھانے پینے اور روزگار کا مسئلہ ہوگا، نہ یہاں کھانے پینے کی اشیاء پہنچانے کی ضرورت پیش آئے گی۔ بالکل اسی طرح ملک کے دیگر حصوں میں بھی عمل کرکے ایک بہت بڑی آبادی کو ہم معاشی سرگرمیوں کی اجازت دے کر بہت سے مسائل سے بچ سکتے ہیں۔

قابل غور بات یہ ہے کہ ابھی تک ملک میں جس قسم کا بھی لاک ڈاؤن ہے اس میں بازاروں میں سرگرمیاں بھی کافی حد تک جاری ہیں اور کرنسی کا لین دین بھی جاری ہے۔ جس کا مطلب ہے کہ وائرس پھیلنے کی چین مکمل طور پر نہیں ٹوٹی۔ چنانچہ جتنی اموات ممکن تھیں وہ ہورہی ہیں اور کیسز بھی سامنے آرہے ہیں۔ اگر ان کیسز اور اموات کی تعداد سامنے رکھیں تو خوف کی کوئی بڑی وجہ نہیں۔ (میرے سامنے اس وقت کمپوٹر پر 29 ستمبر 2019 کے اخبار کی ایک خبر ہے جس کے مطابق پاکستان میں ہر گھنٹے میں پچاس افراد دل کی بیماریوں کے باعث انتقال کرجاتے ہیں)۔ ہمارے سامنے سوئیڈن، بیلاروس وغیرہ جیسے ممالک کی مثالیں بھی ہیں جہاں ہماری طرح لاک ڈاؤن نہیں کیا گیا۔ ہمارے ہاں خوف اس قدر پھیلا دیا گیا ہے کہ کچھ مذہبی علما نے بھی مساجد میں نمازیوں کی تعداد انتہائی مختصر کرنے کا فتویٰ دے دیا، جبکہ لوگ دیکھ رہے ہیں کہ ہر جگہ رش ہے، قطاریں لگا کر سامان لیا جارہا ہے۔ معاملات جیسے تیسے چل رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ جمعہ کی نماز کےلیے مساجد کا رخ کر رہے ہیں۔ دانشمندی کا تقاضا ہے کہ ہم

1۔ کورونا فوبیا کی فضا کو ختم کیجئے۔ زائرین، تبلیغی جماعتوں اور مساجد سے اس کا تعلق نہ جوڑیئے۔
2۔ پورے ملک کو لاک ڈاؤن کرنے کے بجائے صرف متاثرہ محلے یا علاقے کو ہی سیل کریں۔
3۔ باقی علاقوں میں معاشی سرگرمیوں کی اجازت دیں۔ صرف ہجوم کو کنٹرول کرنے کےلیے حکمت عملی اپنائیں۔

امریکی بک ’ایب نارمل سائیکالوجی‘ جو دنیا بھر کی جامعات میں پڑھائی جاتی ہے، میں لکھا ہے کہ دنیا بھر میں خودکشی کے سب سے زیادہ واقعات ان ممالک میں ہوتے ہیں جو سب سے زیادہ ترقی یافتہ ہیں۔ یہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ ہمارا معاشرہ لبرل نہیں مذہبی ہے اور ان ہی عقائد کی وجہ سے یہاں خودکشیاں بہت ہی کم ہیں۔ یہی عقائد کورونا فوبیا سے ہمیں بچاسکتے ہیں۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 1,000 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔