سمٹتی دنیا اور وجدانِ حافظ

انیس باقر  جمعـء 10 اپريل 2020
anisbaqar@hotmail.com

[email protected]

شاعر خواہ غیر معمولی ہو یا معمولی وجدان اس کی سرشت میں ہوتا ہے۔ عجیب بات ہے بڑے شاعر اپنی نگاہ میں دماغ کے تاروں کی روشنی سے سیکڑوں سال ماضی اور مستقبل کی تصویریں دیکھ سکتا ہے۔

آتے ہیں غیب سے یہ مضامیں خیال میں

غالب صریرِ خامہ نوائے سروش ہے

یہ بھی ایک وجدان کی کیفیت ہے کہ ان دیکھی چیزوں کو شاعر دیکھ لیتا ہے۔ یہ وجدان پہاڑ کی چوٹی سے حاصل نہیں ہوتا بلکہ گوشہ نشینی اور تنہائی سے ملتا ہے۔ اور اگر کسی کو کوئی خیال یا مضمون دستیاب ہوتا ہے تو اس کو الہام کہتے ہیں۔ الہام وجدان کی اگلی منزل ہے۔ ذرا غور فرمائیے میرے خیال میں شاعر، فلسفی اور سائنسدان لگتا ہے کہ ایک ہی درخت کے ثمرات ہیں۔ کوئی تخیل کی دنیا میں ڈوبا ہے اور الفاظ کو آہنگ کی شکل دے رہا ہے۔ دوسرا مفکر ماضی اور مستقبل کی دہلیز پر کھڑا دونوں کے مشاہدے کر رہا ہے۔ اور ایک سائنسدان ہے جو تصور اور تخیل کو سانچوں میں ڈھال رہا ہے۔

تو کہنا یہ ہے ان سب جملوں کے بعد کہ فارسی زبان میں شیراز میں خواجہ شمس الدین نامی ایک شخص جو حافظ قرآن بھی تھا شاعری اور وجدان کی اس منزل پہ فائز ہو گیا کہ تقریباً سات سو سال قبل بیٹھ کر آج کے حالات پر غزل گوئی کر رہا ہے۔ جس کا تذکرۂ کچھ دیر بعد کروں گا اس حافظ قرآن نے دنیاوی اور دینی علوم کا سمندر اپنے قرطاس پر جمع کر رکھا تھا۔ جس کا اظہار کرتے ہوئے جب ایران کے شہر شیراز کے لوگوں نے دیکھا تو لوگوں نے اس دور کی پہچان کے لیے ان کا نام حافظ شیرازی رکھ دیا یہ حافظ ہی تھے جب ان کا چرچا غیر منقسم ہندوستان تک پہنچا۔ خصوصاً تیموری خاندان کے حکمرانوں تک، تو حافظ نے ان کے بلانے کو کوئی اہمیت نہ دی۔ اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ حافظ نے چشم غزال کو غزل کے محبوب کی آنکھوں میں ڈال کر دیکھنا شروع کردیا اور محبوب کی آنکھوں کو سرمہ و کاجل کے مقناطیسی اثر سے لبریز کردیا۔

اردو زبان میں حافظ کا کلام اسپ و خچر اور کشتیوں کے ذریعے بسا اوقات پیدل سفر کرتا ہوا قازقستان سے ہندوستان تک پہنچا۔ سمجھیے کہ اس دوران انسان نے ہوس ملک گیری کے لیے کس قدر خونریزیاں کیں۔ لیکن حافظ اپنے ہی قید خانے میں اپنے ہی خیال و وجود کی دیواروں میں مقید رہے اور ان کے عقیدت مند فارسی زبان کے بولنے والوں تک ان کا کلام پہنچاتے رہے۔ دیکھیے! سمرقند و بخارا سے آگے اور پلٹیے تو ہندوستانی ریاست میسور تک ٹیپو سلطان کی ریاست تک دفتری زبان فارسی تھی۔ اسی لیے جب پاک و ہند میں اردو زبان کفالت کے مرحلے میں تھی تو کئی ممالک کی زبان کی شیرینی سے صحت یاب کیا گیا۔ اسی لیے تو اسے اردو کے خطاب سے نوازا گیا۔

غیر منقسم ہندوستان تک اکثر تعلیم یافتہ ہندو اور مسلم فارسی زبان سے آشنا رہے ہیں۔ یہاں تک کہ بھارت کے پہلے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو کو بھی اسی صف میں کھڑا کیا جاسکتا ہے۔ اسی لیے وہ اردو زبان کے عشاق میں سے ایک تھے اور جوش صاحب کو پاکستان آنے سے روکتے رہے۔

حافظ شیرازی نے غزل اور غزال کو اس طرح یکجا کیا کہ آج بھی اردو زبان میں لڑکیوں کے نام غزالہ رکھے جاتے ہیں اور اردو شاعری خصوصاً غزل کا میدان حافظ کا لگایا سبزہ زار ہے۔ اسی لیے اردو شاعری میں تمام بڑے شعرا نے اپنے کلام کا ایک حصہ فارسی پڑھنے والوں کی نذر کردیا۔ جن میں غالب اور علامہ اقبال بھی شامل ہیں۔ حافظ کے صوفی تصورات اردو شاعری کی زینت بن گئے۔ خواجہ میر درد کی شاعری تصوف کی میراث ہے یہاں تک کہ اردو کے مرثیہ گو شاعر بھی حافظ کے صوفیانہ خیالات سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔ اردو کے معروف مرثیہ گو شاعر میر انیس یہ کہتے ہیں:

ہر رنگ میں جلوہ ہے تری قدرت کا

جس گل کو سونگھتا ہوں بو تیری ہے

پڑھیں درود نہ کیوں دیکھ کر حسینوں کو

خیالِ صنعت صانع ہے پاک بینوں کو

میر انیس کا یہ شعر عشقِ حقیقی کا نمونہ ہے۔ آپ نے یہ پڑھا اور سنا ہوگا کہ اردو شاعری جہاں انیسویں صدی میں انقلاب کی شاعری ہے وہاں جا بجا اردو کے بڑے شعرا کے کلام میں عشق حقیقی اور عشق مجازی کی تصویر میں جلوہ گر ہیں۔ ان حقائق کے پیچھے حافظ شیرازی کا بڑا درجہ ہے۔ جن گھروں میں دیوان حافظ ہوا کرتا تھا ان کے پاس دیگر دوست احباب اور اردو ادب کے شیدائی آکر دیوان حافظ سے فال نکالا کرتے تھے۔

جن میں عزیز حامد مدنی، سلام مچھلی شہری، باقر رضوی اور دیگر شعرا فال دیکھنے کے بعد کبھی قہقہے لگاتے اور کبھی خاموش بیٹھ جاتے۔ جانے حافظ کے کلام میں کتنی صدی کی دور بینی تھی کہ آج بھی ان کی غزل سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہے۔ آئیے کچھ دیر فارسی خاتون غزل گو کی آواز نہ سہی الفاظ کی شکل میں پڑھتے جائیے کہ انھوں نے ایسے دور کی عکاسی کی ہے کہ جس میں گنجان شہروں کو چھوڑ کر لوگ غیر آباد زمینوں کی طرف سفر کر رہے ہیں۔ سلام ہے حافظ کے وجدان کو جو آج بھی دنیا میں وجد کا نیا طوفان لے کر آئے ہیں۔

شہر خالی‘ جادہ خالی‘ کوچہ خالی‘ خانہ خالی

جام خالی‘ سفرہ خالی‘ ساغر و پیمانہ خالی

کوچ کر وہ‘ دستہ دستہ‘ آشنایاں عندلیباں

باغ خالی‘ باغیچہ خالی‘ شاخہ خالی‘ لانہ خالی

وای از دنیا کہ یار از یا می تر سد

غنچہ ہائی تشنہ از گلزار می ترسد

شہسوار از جادۂ ہموار می ترسد

ایں طبیب از دیدن بیمار می ترسد

(افسوس کہ اب دنیا میں محبوب اپنے محبوب سے ڈر رہا ہے۔)

غنچے اپنے باغ سے ڈر رہے ہیں۔ شہسوار ہموار راستوں سے ڈر رہے ہیں۔ اور معالج مریض کو دیکھنے سے ڈر رہے ہیں۔ کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ کووڈ 19 کی وجہ سے ان حاکموں نے بھی خود کو نظر بند کرلیا ہے جو پوری دنیا کو خاک میں ملانے والے ہتھیاروں اور جراثیموں کو مقید کیے بیٹھے تھے۔ اردو زبان پر حافظ کا وجدان اور احساس بھلایا نہ جائے گا۔ یہاں تک کہ پاکستان کا قومی ترانہ بھی فارسی زبان کا آئینہ لیے ہوئے ہے۔ حفیظ جالندھری فرماتے ہیں کہ ترانے میں صرف ایک لفظ اردو میں ہے۔ یوں سارا ترانہ ہی اردو ہے:

پاک سر زمین کا نظام۔۔۔۔۔۔

ایک زمانہ تھا کہ بچوں کو کراچی کے اسکولوں میں جب وہ چھٹی جماعت تک آتے تھے تو انھیں فارسی زبان کا ایک اضافی مضمون دیا جاتا تھا۔ جس سے وہ تہذیب، اخلاق اور تمدن کی شاہراہوں پر کسی ہدایت کے بغیر گامزن ہوجاتے تھے۔ تو کہنا یہ ہے کہ شاعر، مفکر اور سائنسدان ایک ہی لڑی کے موتی ہیں اور حکومتیں ان کو انسانیت کا رہوار بنا رہنے دیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔