افغانستان میں مرکزی بینک کے 5 ملازمین کا اغوا کے بعد بہیمانہ قتل ، 5 اساتذہ بھی مغوی

ویب ڈیسک  جمعـء 10 اپريل 2020
گزشتہ روز بھی 5 اساتذہ کو اغوا کر کے ایک کو قتل کردیا گیا تھا، فوٹو: فائل

گزشتہ روز بھی 5 اساتذہ کو اغوا کر کے ایک کو قتل کردیا گیا تھا، فوٹو: فائل

کابل: افغانستان کے مرکزی بینک کے 5 ملازمین کو مبینہ طور پر طالبان جنگجوؤں نے اغوا کرکے بیدردی سے قتل کردیا۔

افغان میڈیا کے مطابق صوبے ہرات میں ملک کے مرکزی بینک کے 5 ملازمین کو ڈیوٹی مکمل کرنے کے بعد گھر جانے کے دوران اغوا کرلیا گیا تھا بعد ازاں ایک ویران جگہ سے پانچوں ملازمین کی تشدد زدہ لاشیں مل گئی ہیں۔

ہرات پولیس کے ترجمان عبدالاحد ولی زادہ نے ملازمین کے اغوا اور قتل کی ذمہ داری طالبان پر عائد کرتے ہوئے میڈیا کو بتایا کہ پانچوں ملازمین نے اپنی نقل و حرکت کے حوالے سے مطلع نہیں کیا تھا جس کے باعث وہ جنگجوؤں کے ہاتھ لگ گئے۔

یہ خبر بھی پڑھیں : افغانستان میں طالبان اور دیہاتیوں میں جھڑپ، 17 ہلاکتیں

گزشتہ روز بھی صوبے ہرات میں سرکاری اسکول کے 5 اساتذہ کو اغوا کر کے ایک کو قتل کردیا گیا تھا۔ مقتول استاد کی تشدد زدہ لاش کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل کی گئی تھیں۔ گورنر ہرات نے اس واقعے کی ذمہ داری بھی طالبان پر عائد کی تھی۔

اسی طرح صوبے ہرات میں ہی کنسٹریکشن کمپنی کے 3 ملازمین کو ایک سڑک کی تعمیر کے دوران مسلح افراد اغوا کرکے لے گئے تھے جن کا تاحال کچھ پتہ نہیں چل سکا ہے۔ اغوا کی اس واردات کا الزام بھی طالبان پر عائد کیا گیا تھا۔

یہ خبر پڑھیں : افغانستان میں طالبان اور دیہاتیوں میں جھڑپ، 17 ہلاکتیں

دوسری جانب طالبان کی جانب سے سرکاری بینک ملازمین، اساتذہ اور کنسٹریکشن کمپنی کے ملازمین کے اغوا  پر کسی قسم کا تبصرہ سامنے نہیں آیا ہے، صوبے ہرات میں طالبان سمیت دیگر شدت پسند گروہ بھی حکومتی فورسز اور سرکاری اہلکاروں کو نشانہ بناتے آئے ہیں۔

 

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔