مصر،ریفرنڈم کیلیے نئے آئین کا مسودہ منظور، اسلام پسندوں کے مظاہرے

خبر ایجنسیاں  منگل 3 دسمبر 2013
 نئے آئینی مسودے کی منظوری کیخلاف معزول صدر مرسی کے حامیوں کا مظاہرہ، پولیس کا دھاوا، آنسو گیس کی شیلنگ، متعدد زخمی .فوٹو: رائٹرز/فائل

نئے آئینی مسودے کی منظوری کیخلاف معزول صدر مرسی کے حامیوں کا مظاہرہ، پولیس کا دھاوا، آنسو گیس کی شیلنگ، متعدد زخمی .فوٹو: رائٹرز/فائل

قاہرہ:  مصر میںریفرنڈم کیلیے نئے آئینی مسودے کی منظوری کے خلاف جمع ہونے والے مظاہرین پر پولیس ٹوٹ پڑی، آنسو گیس کی شیلنگ اور فائرنگ بھی کی گئی۔

پیر کو میڈیا رپورٹ کے مطابق مصر کے آئین ساز پینل نے نئے آئین کے مسودے کی منظوری دیدی مجوزہ آئینی مسودے پر جنوری میں ریفرنڈم کرایا جائے گا۔ نئے آئین کے اطلاق کے6 ماہ بعد ملک میں صدارتی انتخابات ہوں گے، فوج کے اختیارات میں اضافہ تجویز کیا گیا ہے، ترمیم شدہ آئین میں فوج کیلیے وسیع اختیارات تجویز کیے گئے ہیں جن میں شہریوں پر مقدمہ چلانے کے اختیارات بھی شامل ہیں۔50 رکنی پینل نے2 دن تک آئین کے ان حصوں پر بحث کے بعد ان میں ترامیم منظور کی ہیں جنھیں سابق صدر مرسی کے دور میں آئین میں شامل کیا گیا تھا۔ آئین میں ترامیم تجویز کرنے والے پینل کے سربراہ نے کہاکہ آئین کا مسودہ آج عبوری صدر عدلی منصور کے حوالے کر دیا جائے گا۔ آئین میں انتخابات کیلیے دیے گئے شیڈول میں بھی ترمیم کی گئی ہے۔

لیکن مجوزہ ترمیم سے یہ واضح نہیں ہوتا کہ اس نئے نظام کے تحت پارلیمانی انتخابات پہلے ہوں گے یا صدارتی انتخابات پہلے کرائے جائیں گے۔ مجوزہ آئین کی شق247 کے تحت ریفرنڈم کے ذریعے آئین کی منظوری کے90 دن کے اندر ملک میں عام انتخابات کرائے جانے ہیں جبکہ دیگر انتخابات6 ماہ بعد بھی کرائے جا سکتے ہیں۔ مجوزہ نئے آئین کیخلاف معزول صدر مرسی کے حامیوں نے مظاہروں کا سلسلہ ایک بار پھرشروع کردیا۔ گزشتہ رات قاہرہ میں مظاہرین او پولیس کے درمیان جھڑپیں ہوئیں، سیکیورٹی فورسز نے مظاہرین کو منتشرکرنے کیلیے آنسو گیس کی شیلنگ کی۔ دوسری جانب گزشتہ روز احتجاجی مظاہرے پر سیکیورٹی فورسزکی فائرنگ سے طالب علم کی ہلاکت کیخلاف قاہرہ یونیورسٹی کے سیکڑوں طلبہ نے بھی مظاہرے کیے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔