کراچی میں فرقہ وارانہ ٹارگٹ کلنگ ایک بار پھر تیز، مذہبی رہنما سمیت 14 افراد جاں بحق،5 زخمی

ویب ڈیسک  منگل 3 دسمبر 2013
فائرنگ کے بعد ملزمان فرارہونے میں باآسانی کامیاب ہوگئے۔ فوٹو: فائل

فائرنگ کے بعد ملزمان فرارہونے میں باآسانی کامیاب ہوگئے۔ فوٹو: فائل

کراچی: شہر میں فرقہ وارانہ بنیاد پر قتل و غارتگری کا سلسلہ ایک بار پھرشروع ہوگیا ہے چند گھنٹوں کے دوران مذہبی رہنما سمیت 14 افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا جبکہ انچولی کے قریب واقع ایک ہوٹل پر دستی بم حملے میں ایک شخص زخمی ہوگیا۔

ایکپسریس نیوز کے مطابق سخی حسن چورنگی کے قریب نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے ڈبل کیبن گاڑی پر فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں گاڑی میں موجود 4 افراد موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے اور ایک زخمی ہوگیا، بعدازاں زخمی میرزمان اسپتال میں دوران علاج زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔ اس سے قبل  نارتھ ناظم آباد بلاک آئی میں واقع ایک مسجد کے باہر موجود چند افراد پرنامعلوم موٹرسائیکل سوار اندھا دھند فائرنگ کرکے فرار ہوگئے، فائرنگ کے نتیجے میں 2 افراد موقع پر ہی جاں بحق جبکہ 4 زخمی ہوگئے، زخمیوں کو فوری طور پرعباسی شہید اسپتال پہنچایا گیا تاہم ایک زخمی راستے میں ہی دم توڑ گیا  جبکہ دیگر 3 زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جارہی ہے۔ پولیس کے مطابق جاں بحق افراد کی شناخت سلمان ، عبدالمجید اورعمر خطاب کے ناموں سے ہوئی ہے،عبدالمجید اورعمر خطاب کا تعلق مراکش سے تھا اور یہ لوگ تبلیغ کی غرض سے کراچی آئے تھے جبکہ سلمان پاکستانی تھا۔ ادھر قائد آباد میں نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے ایک شخص کی جان لے لی، ملیر کالابورڈ پر فائرنگ سے ایک شخص زخمی ہوگیا۔

دوسری جانب  مجلس وحدت المسلمین کے جنرل سیکرٹری مولانا دیدارعلی جلبانی اپنے گارڈ کے ہمراہ کراچی یونیورسٹی کے قریب سے گزر رہے تھے کہ موٹر سائیکل پر سوار 3 نامعلوم افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں مولانا دیدارعلی جلبانی اور ان کے گارڈ شدید زخمی ہوگئے جنہیں تشویش ناک حالت میں قریبی اسپتال منتقل کیا جارہا تھا کہ راستے میں ہی دونوں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔مجلس وحدت المسلمین نے مولانا دیدار حسین کے قتل کے خلاف کل سندھ بھر میں ہڑتال کا اعلان کیا ہے،فائرنگ کے واقعے کے بعد مختلف علاقوں میں حالات کشیدہ ہوگئے اور نامعلوم افراد نے ملیر، کھوکھراپار، کالا بورڈ، عباس ٹاؤن، ابو الحسن اصفہانی روڈ، انچولی، سمن آباد اور سولجر کے علاقوں میں دکانیں اور پیٹرول پمپس بند کروا دیئے جبکہ مشتعل افراد نے گرومندر اور کیپری سینما پر گاڑیوں پر پتھراؤ بھی کیا اور ٹائر نذر آتش کئے۔

ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے فرقہ وارانہ بنیاد پرشہریوں کے قتل عام کی شدید مذمت کرتے ہوئےمطالبہ کیا کہ شیعہ سنی اکابرین ہنگامی بنیاد پر امن کمیٹیاں تشکیل دیں اور صوبائی حکومت و انتظامیہ واقعات میں ملوث افراد کو فوری گرفتار کرکے ان کے خلاف کارروائی کریں، دوسری جانب کراچی ٹرانسپورٹ اتحاد کے سربراہ ارشاد بخاری کا کہنا ہے کہ حالیہ واقعات کے بعد شہر کے مختلف علاقوں میں کشیدگی بڑھ گئی ہے جس کی وجہ سے بدھ کےروز پبلک ٹرانسپورٹ حالات کو دیکھ کر سڑکوں پر لائی جائے گی۔

واضح رہے کہ اس سے قبل کورنگی انڈسٹریل ایریا میں ایک شخص کو ہلاک کیا جاچکا ہے جبکہ  ڈاکس تھانے کی حدود سے ایک نامعلوم شخص کی تشدد زدہ لاش بھی ملی ہے۔

 

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔