ہم غریبوں کی بھلا زیست کا مقصد کیا ہے

شاہد سردار  اتوار 3 مئ 2020

یہ ایک مسلمہ امر ہے کہ بھوک موت سے کہیں زیادہ تلخ ہوتی ہے، موت ایک مرتبہ مارتی ہے لیکن بھوک ہر آن، ہر لمحہ زندگی کو موت سے بھی زیادہ اذیت ناک بنا دیتی ہے۔ ہمارے ہاں پہلے ہی مہنگائی، غربت، بے روزگاری اور معاشی لاغری پھیلی ہوئی تھی۔ کورونا وائرس اور اس کے نتیجے میں کاروبار حیات کو بند کرکے جو تباہی عام لوگوں تک پہنچی اسے ضبط تحریر میں لانا ناممکن ہے۔

رمضان اور پھر عید الفطر یہ سب خرچے کے مہینے ہیں ، عوام کے پاس لاک ڈاؤن کی وجہ سے اب کچھ نہیں بچا۔ دو وقت کی روٹی نے بڑے بڑے سفید پوشوں کو برہنہ کرکے رکھ دیا۔ راشن، مدد کی تلاش میں بھٹکتے باوقار غیور اور باشعور پاکستانیوں کی غالب اکثریت کو تو علم ہی نہیں کہ ان کے قومی مسیحا اربوں کی امداد کہاں اور کس پر خرچ کرچکے یا خرچیں گے؟

ہمارے عوام کو تو یہ بھی نہیں پتا کہ ایک ارب میں کتنے کروڑ اور ہر کروڑ میں کتنے لاکھ ہوتے ہیں۔ ہمارے ملک میں کینسر اور کورونے کے متاثرین جب سے لاکھوں کی تعداد میں آئے ہیں تو ان کی مصدقہ گنتی گننی ممکن نہیں رہی۔ مبارک علی ناز کا یہ شعر اس وقت ہمارے تمام متاثرین افلاس و کورونا کے حشرات پر فٹ بیٹھتا ہے کہ:

ہم غریبوں کی بھلا زیست کا مقصد کیا ہے

صبح ہوتی ہے فقط شام ڈھلنے کے لیے

کورونا وائرس نے گو پوری دنیا کو بدل دیا لیکن اہل پاکستان ابھی تک نہیں بدلے۔ شاید اس لیے بھی کہ انسان اور نظام کو بدلنا ایک بہت وقت لیوا کام یا مسئلہ ہے۔ کورونا وائرس نے پاکستانی سیاست دانوں اور ان کی طرز سیاست پر کوئی اثر نہ چھوڑا، یہ اسی طرح ایک دوسرے پر الزامات لگاتے، ٹانگیں کھینچتے اور عوام کی چیزوں کو ان سے چھین کر اپنی جائیدادیں وسیع کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ صوبے وفاق سے الجھ رہے ہیں، وفاق صوبوں میں کیڑے نکال رہے ہیں۔ کوئی کسی سے پوچھنے والا نہیں چاہے وہ چینی، آٹے سے اربوں ناجائز طریقے سے کمائے، چاہے وہ اور کسی غیر قانونی طریقے سے دولت کے انبار لگائے۔

یہ ’’سیاسی مافیا‘‘ اب اس قدر دلیر ہوگیا ہے کہ وہ عوام کے منہ سے آخری نوالہ چھیننے کے لیے متحرک ہے۔ عوامی مسائل سے حکمرانوں کی بیگانگی اس حد تک بڑھ گئی کہ عدلیہ کو ازخود نوٹس لے کر یہ کہنا پڑا کہ لوگ بھوک سے تلملا رہے ہیں، انھیں کھانا نہ ملا تو خانہ جنگی ہو جائے گی، ملک انارکی کی جانب بڑھ رہا ہے اور کورونا کے حشرات سے ہمارے سیاسی نظام کو بھی خطرہ ہے۔‘‘

اس بات میں دو رائے نہیں ہو سکتی کہ وفاق اور صوبائی حکومتیں اپنے وضع کردہ راستے پر گامزن ہیں۔ سندھ اور کراچی میں ہزاروں لوگ ایسے اب بھی ہیں جنھیں تادم تحریر حکومتی امداد نہیں ملی۔ لاکھوں لوگ بے روزگار ہوچکے ہیں جن کا ڈیٹا حکومت کے پاس نہیں۔ جسٹس سجاد علی شاہ پوچھ رہے ہیں کہ ’’کہاں اور کس کو روشن فراہم کیا گیا ہے بتایا جائے؟‘‘ بہرحال عصر حاضر کی سچائی یہی ہے کہ پاکستانی حکمران طبقات کی اہلیت اور نام نہاد عوام دوستی کو کورونا نے بیچ چوراہے پر بے نقاب کردیا ہے۔

یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ حکمرانی دنیا کا سنجیدہ ترین کام ہے۔ لیکن ہمارے ملک پاکستان میں یہ برسہا برس سے غیر سنجیدہ ترین لوگوں کے ہتھے چڑھا ہوا ہے۔ نہ تحریک انصاف اس طرح کی چل رہی ہے جس طرح پارٹیاں چلا کرتی ہیں اور نہ حکومت اس طرح چل رہی ہے جس طرح کہ ستھری حکومتیں چلا کرتی ہیں۔ دراصل ہم نے عجیب قسمت پائی ہے کبھی جغرافیہ غداری کرتا ہے اور کہیں تاریخ کا پاؤں رپٹ جاتا ہے۔

آج کا ایک کڑوا سچ یہ بھی ہے کہ ملکی نظام اس قدر بوسیدہ ہوچکا ہے کہ صرف ایک وبا نے اسے ایسا مفلوج کرکے رکھ دیا ہے کہ وہ دیگر مسائل کے حل کے قابل ہی نہیں رہا۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ قیام پاکستان کے بعد رعایا کو آزادی کے ثمرات منتقل کرنے کے لیے حکمت عملی ترتیب دی جاتی لیکن ایسا نہیں ہوا بلکہ وہ لوگ جن کا جنگ آزادی میں کوئی حصہ ہی نہ تھا وہ ملکی وسائل کے مالک و مختار بن گئے اور قومی وسائل اور خزانے کو لوٹنے کا جو سلسلہ شروع ہوا وہ آج تک جاری و ساری ہے۔ جس سے ملک و ملت کی جڑیں کھوکھلی ہوتی جا رہی ہیں اور آفاقی حقیقت یہ ہے کہ ریاست، قوم یا فرد کا زوال اسی وقت ہوتا ہے جب اس کی سوچ مثبت کے بجائے منفی ہو کر اس کی قوت فیصلہ کمزور یا ختم ہو جائے۔

طاقتور ریاستیں، تجربے کار ادارے اور عقل مند افراد ملک کے مستقبل کے بارے میں نہ صرف سوچتے ہیں بلکہ اسے بہتر بنانے کی منصوبہ بندی کرتے ہیں۔ ہمیں اور آپ کو تو یہ تک نہیں پتا کہ ہمارے اس ملک کو اگلے پانچ سال بعد کس نے چلانا ہے، کبھی اس حوالے سے سوچا گیا یہ نہیں معلوم؟ خدا معلوم موجودہ حکمران پانچ سال پورے کرتے بھی ہیں یا نہیں؟ مگر ان کے بعد کیا پھر نون لیگ اور پیپلز پارٹی دوبارہ میدان میں آئیں گی؟ آج جس قیامت کو اقتدار اور سیاست سے نکال باہر کیا گیا ہے کیا انھیں پھر سے موقع دیا جائے گا؟ قومی عینک سے سیاسی منظر نامہ دیکھیں تو سیاسی میدان میں کوئی بھی متبادل رہنے ہی نہیں دیا گیا۔ کیا ریاست اور اداروں کو ملک میں استحکام کی خاطر توازن اور متبادل کی ضرورت نہیں؟

حضرت علیؓ فرما گئے ہیں کہ ’’آخری زمانے کے لوگ بھیڑیے ہوں گے اور حکمران درندے۔ درمیانی طبقہ کھا پی کر مست رہنے والوں پر مشتمل ہوگا، غریب نادار اور مردہ، سچائی دب جائے گی اور جھوٹ سر چڑھ کر بولے گا، محبت صرف زبانوں تک محدود رہ جائے گی، لوگ دلوں میں ایک دوسرے سے بیزارگی لے کر ان سے کشیدہ رہیں گے، عفت و پاک دامنی نرالی اور نایاب ہوجائے گی اور اسلام کا لبادہ الٹا اوڑھا جائے گا۔‘‘

حضرت علیؓ کے اس فرمان کے ایک ایک لفظ پر غور کریں اور پھر اپنے معاشرے یا اپنے اطراف نگاہ کریں اور ایک نگاہ اپنے حکمرانوں پر بھی ڈالیں باب الاعلم کی ہولناک سچائی ہر طرف دکھائی دیتی نظر آرہی ہے۔بہرکیف غم یا دکھ تو وقت گزرنے کیساتھ گھٹ ہی جاتا ہے لیکن کوتاہیوں یا غلطیوں کا بوجھ وقت کیساتھ ساتھ بڑھتا رہتا ہے ان پر اور گرہیں لگتی جاتی ہیں، کوتاہیوں اور غلطیوں کے انجام اپنی جگہ جم جاتے ہیں اور ان کی جڑیں کینسر کی طرح پھیلتی جاتی ہیں۔ 73 سال ہونے کو آئے ان طویل برسوں میں ہم یہی فیصلہ نہ کرسکے کہ ہماری منزل کیا اور کہاں ہے؟ اپنے ایٹمی قوت ہونے کے باوجود آج ہم کمزور دنوں کے ساتھ ہم رکاب ہیں۔ دراصل جب اپنے ہی پاؤں پر خود ہی کلہاڑی ماری جائے تو پھر لنگڑا کر چلنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوتا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔