فرقہ واریت کے خاتمے کیلئے تمام مکاتب فکر کو متفقہ لائحہ عمل اپنانا ہوگا

دہشت گردی کو روکنے اورقیام امن کے لئے ضروری ہے کہ دہشت گردی کی فیکٹریاں بند کی جائیں،ایکسپریس فورم میں علما کی رائے


مظہر خان December 05, 2013
امریکا سے ڈالر آنا شروع ہوئے اوراس کے بدلے لوگوں کوجہاد کی طرف راغب کیا گیا۔ فوٹو:ایکسپریس فورم

وطن عزیز ایک دہائی سے زائد عرصہ سے دہشت گردی کا شکار ہے۔

اس دہشت گردی کی کارروائیوں سے جہاں پاکستانیوں کی اکثریت خوف کے سائے میں زندگی گزارنے پر مجبور ہے، وہاں ملکی معیشت بھی مسلسل گراوٹ کا شکار ہے جس کی وجہ سے غربت اور بد امنی بڑھ رہی ہے لیکن اس تمام تر صورتحال نے اس وقت خوفناک شکل اختیار کر لی، جب یوم عاشور اور اس کے بعد ملک میں فرقہ وارانہ فسادات شروع ہوگئے ۔

حکومت اور انتظامیہ بے بس نظر آرہی تھی اور شرپسند اپنا گھناؤنا کھیل، کھیل رہے تھے۔ راولپنڈی ،ملتان ،چشتیاں اوردیگر شہروں میں ہونیوالے فرقہ وارانہ فسادات صوبائی ومرکزی حکومتوں ،قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لئے لمحہ فکریہ ہیں بلکہ اس سے عام آدمی بھی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکا، جبکہ اس فرقہ وارانہ آگ پر قابو پانے کے لئے تمام مسالک کے علماء کرام پر بھاری ذمہ داری آن پڑی ہے کہ انہوں نے کس طرح امن ، محبت ، بھائی چارے اور یگانگی کا پیغام عام کرنا ہے تاکہ وطن عزیز پاکستان میں آئندہ کوئی بھی فرقہ وارانہ آگ نہ بھڑکا سکے۔ اس ضمن میں روزنامہ ایکسپریس ملتان نے قارئین کے لئے مختلف مسالک اور مذہبی جماعتوں کے جید علماء کرام کو ایکسپریس فورم میں اکٹھا کیا ذیل میں ان کی گفتگو پیش ہے۔

صاحبزادہ سید حامد سعید کاظمی
( سابق وفاقی وزیر مذہبی امور و رکن مرکزی شوریٰ جماعت اہلسنّت )
علماء کرام کا یقینا اپنا مقام اور منصب ہے۔ علماء کرام عوام کی رہنمائی کرنے کے ساتھ ساتھ رائے عامہ بھی بناتے ہیں۔ منبر ومحراب سے اٹھنے والی آواز کا اپنا ایک مقام ہے، تاہم موجودہ حالات میں فرقہ وارانہ مسئلہ کی تہہ تک پہنچنا انتہائی ضروری ہے۔ جب روس کی فوجیں افغانستان میں داخل ہوئیں، پاکستان سرکاری طور پر اس صورتحال میں کچھ کرنے کی پوزیشن میں نہیں تھا جس پر جہادی تنظیمیں بنائی گئیں یہ اب اوپن سیکرٹ ہے ۔اس بات کو تو مولانا فضل الرحمن اور ہیلری کلنٹن بھی مان چکی ہیں ۔

امریکا سے ڈالر آنا شروع ہوئے اور اس کے بدلے میں لوگوں کو جہاد کی طرف راغب کیا گیا ۔ نوجوانوں کو جب ہتھیار اور ٹریننگ دے دیں گے تو اس کا کیا نتیجہ نکلے گا ۔ یہ تمام جہادی تنظیمیں مذہب کے نام پر بنی تھیں ۔ ان لوگوں کی ایک خاص ذہنی ساخت بنا دی گئی اور ان تمام کاموں کو پروان چڑھانے میں امریکا کا ہاتھ تھا تاہم جب نائن الیون ہوا تو صورتحال یکسر بدل گئی۔ اب ہمیں امریکا برا لگنے لگا حالانکہ امریکا پہلے بھی اپنے ایجنڈے پر کام کر رہا تھا اور وہ اب بھی اپنے ہی ایجنڈے پر کام کر رہا ہے۔ نہ وہ پہلے دوست تھا اور نہ ہی اب ہے ۔ طالبان نے امریکا دشمنی کا علم اٹھا لیا اور اسی کو بنیاد بنا کر دہشت گردی کی کارروائیاں شروع کردیں۔ میں جس مکتبہ فکر کی نمائندگی کرتا ہوں دعویٰ اور یقین سے کہتا ہوں کہ تخریب کاروں میں سے ایک کا بھی تعلق اس مکتبہ فکر سے نہیں ہے۔

ہم نے اپنے لوگوں کو واضح بتایا ہے کہ اسلام کا اصل چہرہ درس محبت ہے اور یہی اولیاء کرام اور صوفیاء کا پیغام ہے ۔ ہماری قوم کنفیوژن (Confusion)کا شکار ہے ۔ ہمارے بعض علماء وکرام نے یہ ابہام پیدا کیا ہے، عام آدمی سمجھتا ہے کہ موجودہ حالات میں شاید خود کش حملے ٹھیک ہیں حالانکہ مذہب وقانون کے مطابق یہ درست نہیں اور نہ ہی ملک وقوم اور امت مسلمہ کے مفاد میں یہ ٹھیک ہیں۔ اس ملک میں کتنے بڑے بڑے حادثے ہوئے ۔ دربار حضرت داتا گنج بخش ؒ ،دربار حضرت سخی سرورؒ،رحمٰن باباؒ ،دربار حضرت عبداللہ شاہ غازی ؒ سمیت دیگر مزارات پر حملے ہوئے۔ ہزارہ اور کوئٹہ میں ٹارگٹ کلنگ کی کارروائیاں ہوئی ہیں مگر حالات اتنے خراب نہیں ہوئے، لیکن راولپنڈی کے واقعہ کے بعد اتنے حالات خراب کیوں ہو جاتے ہیں اس کی کیا وجوہات ہیں ؟ اگر ان وجوہات کو تلاش کر لیا جائے تو سب کچھ معلوم ہوجائے گا ۔

خود کش حملے ملک ومذہب کی جڑیں کھوکھلی کرنے کا ایجنڈا ہیں۔ بعص علماء کرام امریکا نواز پالیسی کی وجہ سے اسے ٹھیک کہتے ہیں لیکن یہ حملے مزارات پر بھی ہوتے ہیں۔ مجھے یہ بتایا جائے کہ کیا یہ بزرگ بھی امریکا نواز تھے ؟ پریڈ گروانڈ کی مسجد میں میجر جنرل کے عہدے کے لوگ شہید ہوئے، مساجد ،امام بارگاہوں،مزارات پر یہ کیوں ہو رہے ہیں ۔ اگر یہ امریکا مخالف ہیں تو شراب خانوں،سینماؤں اور امریکا نواز لوگوں پر کیوں نہیں ہو رہے ؟اب وقت آگیا ہے کہ ہم کنفیوژن (Confusion)دور کریں اس کے لئے علماء کرام کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے ۔ عوام کو اب اصل حقائق بتانا چاہئیں اور قومی معاملات اور ایشوز پر کسی کو بھی سیاست نہیں چمکانی چاہیے، مل بیٹھ کر ایشوز کو حل کیاجانا چاہیے ۔ عوام کو تمام حقائق بتانے سے حکومتو ںکو اب گریز نہیں کرنا چاہیے اور لوگوں کو بھی اپنی سوچ بدلتے ہوئے باشعور ہونا ہوگا ۔

ہمیں مل کر یہ شدت پسندی کی سوچ بدلنا ہوگی ورنہ حالات ایسے ہی رہیں گے ۔ علماء کرام کو چاہیے کہ وہ اسلام کی مثبت چیزیں عوام کو بتائیں ۔ تمام مسالک کے علماء کرام مختلف فورمز پر اکٹھے ہوتے ہیں لیکن جب مفادات کا ٹکراؤ آتا ہے تو بھائی چارے میں بھی رخنہ آجاتا ہے ۔ ہمارے ملک میں حالات اس قدر بگڑ چکے ہیں کہ دین ومذہب کے نام پر مدرسوں اور مساجد پر قبضے کئے جا رہے ہیں ۔ مسلکی اختلافات تو شروع سے ہیں ہزارسال قبل موجودہ دور کی نسبت بہترین شیعہ اور بہترین سنی تھے لیکن انہوں نے تو ایک دوسرے کے گلے نہیں کاٹے ۔ رہائشی علاقوں میں تو شیعہ سنی سب اکٹھے رہتے ہیں لیکن جب امام بارگاہوں اورمساجد میں پہنچتے ہیں تو فساد شروع ہو جاتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ کوئی ان کو وہاں سمجھاتا اور اکساتا ہے۔ درحقیقت یہ گہری سازش ہے جس کو سمجھنے کی ضرورت ہے ۔

روس کے ٹوٹنے کے بعد امریکا کو صرف اسلامی بلاک سے تھریٹ تھا یورپ تو پہلے ہی اس کا ہمنوا تھا اور ہے ۔ اسلامی بلاک میں پاکستان کی ایک کلیدی حیثیت ہے۔ اسلامی بلاک کو بننے سے روکنے کے لئے ضروری ہے کہ پاکستان جو واحد اسلامی ایٹمی ملک ہے کو دوسرے اسلامی ملکوں سے علیحدہ کیا جائے۔ اب حکومتی ایوانوں میں بیٹھے بااختیار لوگوں اور علماء کرام کو چاہیے کہ وہ پاکستان کو امن کا گہوارہ بنائیں تاکہ اس ملک میں ترقی وخوشحالی آئے اور آپس میں کوئی تفرقہ نہ ہو۔

ڈاکٹر خادم حسین ڈھلوں
( مرکزی سیکرٹری جنرل اہلسنّت والجماعت پاکستان )
سنی، شیعہ فسادات کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے ۔ ملک میں ہر طرح کی دہشت گردی قابل نفرت ہے کوئی بھی محب وطن پاکستانی ان سرگرمیوں کو سپورٹ نہیں کرسکتا۔ سنی ، شیعہ اختلافات صدیوں پر محیط ہیں۔ افسوس اختلافات پر نہیں فسادات پر ہے۔ ہمیں فسادات کی اصل وجہ پر توجہ کرنے کی ضرورت ہے اور مختلف مواقع پر اصل وجوہ بارے غوروخوض کرنے پر اس وجہ کو بھی ٹریس کیا گیا اور تمام مسالک ومذاہب نے باقاعدہ اس کے لئے ضابطہ اخلاق مرتب بھی کیا، لیکن انتہائی افسوس کی بات یہ ہے کہ اس ضابطہ اخلاق پر قانون سازی کے لئے کوششیں نہیں ہو سکیں اور فسادات کی وجہ معلوم کرنے کے لئے قائم کی جانے والی کمیٹیوں کی قیادت نے ان کمیٹیوں کو دیگر سیاسی مقاصد حاصل کرنے کے لئے استعمال کرنا شروع کردیا ۔

اس عنوان پر میرا آج بھی دعویٰ ہے کہ ماضی میں بننے والی جتنی بھی کمیٹیاں ملی یکجہتی کونسل ڈاکٹر اسرار احمد کی سربراہی میں بننے والی کمیٹی یا مولانا نیازی کی سربراہی میں بننے والی کمیٹی میں طے شدہ ضابطہ اخلاق کی قانون سازی کی جائے تو اس سے شیعہ سنی اختلافات کا حل نکل آئے گا ۔ کچھ عرصہ قبل متحدہ علماء بورڈ تشکیل دیا گیا تھا جس میں کچھ کتابیں پیش کی گئی تھیں جن پر متحدہ علماء بورڈ نے پابندی لگا دی تھی مگر پھر ایک سازش کے تحت اس بورڈ کو ہی ختم کردیا گیا ۔ اگر متحدہ علماء بورڈ کو ختم نہ کیا جاتا تو ہم تسلسل کے ساتھ تمام ایسی کتابیں متحدہ علماء بورڈ کے فورم پر لا رہے تھے۔ ماضی میں لکھی جانے والی بعض کتابو ںکو آج بھی دریا برد کردیا جائے تو ملک میں امن کا قیام یقینی ہوسکتا ہے۔ حالیہ پنڈی کا واقعہ دہشت گردی کی بدترین مثال ہے۔

ملتان ،کوہاٹ کے واقعات بھی گہری سازش ہیں لیکن یہ معلوم کرنے کی بات ہے کہ پنڈی میں ادارے ،مارکیٹ کو نذر آتش کرنے کا سامان اچانک کہاں سے آیا ۔کراچی میں کارکنوں کے جنازے اٹھائے لیکن ہم نے کوئی رد عمل نہیں دیا ۔ جلوس عرصہ دراز سے قیمتی جانوں کا ضیاع کر رہے ہیں ، موجودہ وقت میں ضرورت اس بات کی ہے کہ ان جلوسوںکو عبادت خاتوں تک محدود ہونا چاہیے۔ ایران میں بھی ایسا طریقہ کار نہیں ہے۔ جو لوگ اصحاب رسولؐ کی توہین کا ارتکاب کرتے ہیں جب تک انہیں نکیل نہیں ڈالی جاتی اس وقت تک امن قائم نہیں ہوسکتا۔ ایسے لوگوں کے لئے سزائیں تجویز کرنی چاہئیں ۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ تمام فرقہ وارانہ واقعات بالخصوص راولپنڈی سانحہ کی تحقیقات غیر جانبدارانہ کرائی جائیں اورتمام چہرے بے نقاب ہونے چاہئیں جب کہ ملک میں فرقہ واریت کے خاتمے کے لئے قانون سازی کی جائے ۔

مفتی عبدالقوی
(سربراہ علماء ونگ پاکستان تحریک انصاف )
میری تجویز ہے کہ علماء اسلام '' فرقہ ''کا لفظ استعمال کرنا ترک کردیں کیونکہ ملکی صورتحال گھمبیر ہے اور اس امر کی متقاضی ہے ۔ علماء کرام عوام کو فرقہ واریت کی لعنت سے محفوظ رکھیں اور خدارا اس آگ کو بجھانے کے لئے مثبت پہلوؤں پر گفتگو کریں۔ منفی گفتگو سے اجتناب کریں ۔ علماء کرام مختلف فورمز پر آکر بیانات دیتے ہیں کہ ہم میں 95 فیصد مشترکات ہیں اور 5فی صد اختلاف ہے۔ یہ تجزیہ زبانی کلامی تو کیا جاتا ہے حالانکہ یہ درست نہیں ہے۔ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کی برکت سے اب ہر کوئی ہر جماعت کے بارے میں جانتا ہے کہ اس کی رائے اپنی ہے یا کسی کا آلہ کار ہے ۔ ملتان کے حالات اچانک خراب ہوئے تو علماء کرام نے محبت و رواداری سے اسے امن کا گہوارہ بنایا ۔

راولپنڈی ،چشتیاں ودیگر علاقوں کے علماء کو چاہیے کہ وہ مقامی سطح پر قیام امن کے لئے تحریری دستور العمل طے کریں تاکہ آئندہ ایسے واقعات دوبارہ نہ ہوں وگرنہ یہ ایک حقیقت ہے کہ محرم الحرام کی مناسبت سے کسی جلسہ وجلوس کے شرکاء کی وجہ سے اربوں روپے کا مالی نقصان ہوتا ہے یا خون مسلم سے ہولی کھیلی جاتی ہے تو شاید انتظامیہ وپولیس متفقہ فیصلہ کرنے پر تیار بیٹھے ہیں جس جلوس سے بد امنی ہوگی اس پر پابندی لگا دی جائے ۔ اہل تشیع کے علماء ان جلوسوں کو ظلم وجبر کے خلاف تسلسل قرار دیتے ہوئے اسے واجب کہتے ہیں توانہیں چاہیے کہ شرکاء جلوس میں رواداری ،محبت اور احترام انسانیت کو بیدار کریں ورنہ حکومت کو چاہیے کہ ان تمام جلوسوں پر پابندی عائد کی جائے جن سے حالات خراب ہوتے ہیں ۔

ہر مکتبہ فکر میں چند شرپسند عناصر ہوتے ہیں اور یہ حقیقت ہے جو کسی ضابطہ اخلاق کی پابندی نہیں کرتے ان کی گفتگو منفی ہوتی ہے جیسے ملتان میں حضرات صحابہ کرامؓ کی شان میں گستاخی سے معاملہ شروع ہوا۔ تمام علماء کرام کو چاہیے کہ وہ ایسے شرپسند عناصر کو خود سے علیحدہ کریں یہ لوگ بدنامی کا باعث بنتے ہیں۔ اہل تشیع خود صحابہ کرامؓ کی شان میں گستاخی کرنے والوں کیلئے سزا تجویز کریں۔ فرقہ واریت کی آگ کو بجھانے کے لئے قانون سازی بھی بہت ضروری ہے ۔ امت مسلمہ کی مقتدر شخصیات کے بارے میں کوئی فرد کسی قسم کا گستاخانہ جملہ استعمال کرے تو اسے 15روز کے اندر اندر سزا دی جائے ۔ موجودہ حالات میں ریاست کی بعد میں علماء کی یہ پہلے ذمہ داری بنتی ہے جس جگہ خرابی ہے اس کی نشاندہی کرنی چاہیے اور ان کو گرفت میں لینے کا فیصلہ بھی علماء کو کرنا چاہیے کیونکہ فسادات میں ریاست بے بس نظر آتی ہے انتظامیہ وپولیس حکام اپنی جانیں بچانے کی فکر میں لگ جاتے ہیں، ایسے میں علماء کرام کا کردار بہت بڑھ جاتا ہے ۔

علامہ سید علی رضا نقوی
(مرکزی رہنماشیعہ علماء وکونسل )
دین میں کوئی جبر نہیں ہے اور پاکستان ایک اسلامی مملکت ہے۔ ہم نے ہمیشہ اتحاد بین المسلمین کی بات کی ہے کیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ ملک میں تفرقہ بازی نہیں بلکہ ایک منظم سازش کے تحت مذہب کے نام پر دہشت گردی کے ذریعے انسانوں کا خون بہایا جا رہا ہے اور یہ بات بھی حقیقت ہے کہ آج تک اسے روکنے کے لئے کبھی بھی اقدامات نہیں کئے گئے ۔ اگر ایسے واقعات فرقہ واریت ہوتے تو نہ ملی یکجہتی کونسل بنتی اور نہ ہی متحدہ مجلس عمل کا وجود قائم ہوتا۔ یہ بات سامنے آرہی ہے کہ عزاداری سید الشہداء کے وہ جلوس جن میں لڑائی ہو بند کردینے چاہئیں ۔

پہلی بات تو یہ ہے کہ ایسی سوچ رکھنے والے درحقیقت دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کے حامی نہیں بلکہ دہشت گردوں کو تحفظ فراہم کرنا چاہتے ہیں، دوسری بات یہ کہ اگر کوئی باہر سے آکر جلوس میں شرانگیزی کرے تو دہشت گردوں کو سزا کی بجائے جلوس بند کردینا کہاں کی دانشمندی ہے۔ اسی طرح جیسے مساجد میں دھماکے ہو رہے ہیں جنازوں اور مین بازاروں میں دہشت گردی ہو جائے ۔ اولیاء اللہ کے مزاروں پر دھماکے ہوں تو پھر کیا انہیں بھی بند کردینا چاہیے ؟عید میلادالنبیؐ اور محرم الحرام کے جلوس خوشی اور احتجاج کے جلوس ہیں ۔ اصل مسئلہ سزا کے عمل کو رائج کرنے کا ہے جس معاشرے میں سزا کا نظام نہ ہو وہاں امن قائم نہیں ہوسکتا۔ ہمارے اندر برداشت کا کلچر ختم ہو چکا ہے ۔

ملتان میں عاشورہ محرم کے بعد جو کچھ ہوا یہ مذہبی مسئلہ نہیں بلکہ سیاسی مسئلے کو مذہب کا رنگ دیا گیا اور پھر ایک اسلامی ملک میں قرآن پاک بھی شہید کردئیے گئے، مسجد کو شہید کیا گیا، یہ تمام معاملات اس بات کا ثبوت ہیں کہ ہمارے لوگوں کو استعمال کرکے مقاصد کچھ اور حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے ۔اب ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم تمام معاملات کو سمجھیں اور ملکی وغیر ملکی اداروں کے نیٹ ورک کاجائزہ لیں اور اس بات کو بھی محسوس کریں کہ ہمارے اختلافات سے فائدہ کس کو ہے ؟ایک مسلمان ریاست میں ایک مسلمان نبوت کا دعویٰ کرسکتا ہے یا پھر حضرت امام مہدی ہونے کا دعویٰ کر سکتا ہے ان کے پیچھے قوتیں ہوتی ہیں یا وہ ذہنی معذور ہوتے ہیں۔

اسی طرح اسلام کی دیگر معتبر شخصیات کے خلاف بات کرنا بھی ایک سازش ہوتی ہے جس کی کوئی شخص حمایت نہیں کر سکتا اور نہ اس ہرزہ رسائی کا کسی مسلک کے ایمان سے تعلق ہے، ایسا کرنے والے کو ہر صورت سزا ملنی چاہیے ۔ عاشورہ کے بعد راولپنڈی میں 6امام بارگاہوں ، چشتیاں میں مسجد اور امام بارگاہ کو جلا دیا گیا جس میں قرآن پاک کے نسخے بھی شہید ہوئے، ایسی کارروائیوں میں ملوث افراد کو بھی تختہ دار پر لٹکانا چاہیے ۔ دہشت گردی کو روکنے اور امن کے قیام کے لئے ضروری ہے کہ دہشت گردی کی فیکٹریاں بند کی جائیں ۔ جو علماء کے لباس میں مذموم کارروائیوں میں ملوث ہیں ان سے محراب ومنبر چھین لیاجائے جس طرح انسان کے ہاتھ یا کسی عضو پر کوئی بیماری حملہ کردے تو اس کا حل ہاتھ یا کوئی عضو کاٹنے میں نہیں اس بیماری کا علاج کرنے میں ہے۔اسی طرح دہشت گردی کا حل ملک کو بند کرنے میں نہیں دہشت گردی کے نیٹ ورک کو توڑنے اور سزاؤں پر عملدرآمد کروانے میں ہے۔