پیٹ بھرے مستحقین اور ننھی حوریہ کی مشکلات

محمد عارف میمن  بدھ 6 مئ 2020
حکومت اگر صادق و امین بننا چاہتی ہے تو مستحقین میں ایسے لوگوں کو فہرست میں شامل کرے جو واقعی محتاج ہیں۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)

حکومت اگر صادق و امین بننا چاہتی ہے تو مستحقین میں ایسے لوگوں کو فہرست میں شامل کرے جو واقعی محتاج ہیں۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)

لاک ڈاؤن کی صورت حال نے پورے ملک کو معاشی طورپر کنگال کردیا ہے، کاروبار تباہی کے دہانے پرپہنچ گئے ہیں، سینکڑوں ادارے مالی مشکلات کے باعث بند ہوچکے ہیں اور لاکھوں افراد اس وقت بے روزگاری کی زندگی گزار رہے ہیں۔ ایسے میں خودکشی کے واقعات میں بھی اضافہ دیکھا جارہا ہے۔ لاک ڈاؤن عوام کی بھلائی کے بجائے اب ان کی زندگی چھیننے کا سبب بن رہا ہے، شاید اس سے عوام کورونا سے تو بچ جائیں لیکن بھوک اورنفسیاتی مسائل سے نہیں بچ سکتے۔

گزشتہ روز ایک 5 سالہ ننھی پری کو رات نو بجے کے قریب چھوٹے سے واٹر کولر میں آئس کریم بیچتا دیکھ کر دل خون کے آنسو رونے لگا۔ کچھ دیر اس بچی سے بات چیت کی تاکہ معلوم ہوسکے کہ ماجرا کیا ہے۔ بقول اس ننھی حوریہ کے، ’’میں گھرمیں سب سے بڑی ہوں، ایک چھوٹا بھائی ہے جو کبھی کبھی میرے ساتھ آئس کریم بیچنے آتا ہے۔ امی ہمیں آئس کریم دیتی ہیں اور ہم اسے بیچ کر پیسے امی کو دیتے ہیں، پھر امی ہمیں دس روپے دیتی ہیں۔‘‘ بس اتنی سی ہی بات کرسکا۔ کیوں کہ ایک تو رات کا وقت تھا، پھر جس طرح کا ماحول ہے، میں اس میں اسے گھر تک بھی نہیں چھوڑ سکتا تھا۔ لہذا ایک قریبی دوست کی مدد کے ذریعے اس کے گھر کا پتا معلوم کرنے کی کوشش کی لیکن اس میں بھی ناکامی ہوئی۔ تاہم ننھی حوریہ نے اشارتاً اتنا بتادیا کہ اس کا گھر بلدیہ ٹاؤن بلاک 14 میں ہے۔

جب ننھی حوریہ کی عمر صرف پانچ سال ہے تو اندازہ لگائیے کہ اس سے چھوٹا بھائی کتنی عمر کا ہوگا اور وہ کیسے آج کے معاشرے کو جھیلتا ہوگا؟ یہاں آئے روز ننھے فرشتوں کے ساتھ انسان نما جانور زیادتیاں کرکے قتل کردیتے ہیں اور پھر ہمارا قانون بھی چیونٹی کی رفتار سے کام کرتا ہے جس میں اول تو مجرم گرفتار نہیں ہوتا اور اگر گرفتار ہو بھی جائے تو پھر عدالتوں میں بے تحاشہ پیشیاں کیس کو مزید کمزور کرکے مجرم کی آزادی کا سبب بن جاتی ہیں۔

ہمارے اس قریبی دوست نے اپنے چند دوستوں کی مدد سے یہ بات تو مجھ تک پہنچادی کہ وہ ننھی حوریہ روزانہ رات کے وقت آئس کریم بیچنے آتی ہے اوراسے میرا نمبر بھی دے دیا ہے لیکن ننھی حوریہ کے مطابق ان کے گھرمیں فون نہیں، اس لیے رابطہ بھی نہیں ہوسکا۔ جب کہ اس گھر کی تلاش میں کئی مرتبہ گئے بھی لیکن اب تک سوائے ناکامی کے کچھ سامنے نہ آسکا۔ ایک بار سوچا کہ بچی کا پیچھا کیا جائے لیکن بچی ہمیں دیکھ کر ڈر سی گئی ہے اور وہ بیچ راستے میں ہی بیٹھ کر کہتی ہے ’’انکل آپ چلے جاؤ، مجھے ڈر لگ رہا ہے۔‘‘ اس کی ننھی سی آنکھوں میں واقعی خوف کی علامات تھیں۔ اسی بناء پر ہم نے اس کا پیچھا کرنے کا ارادہ بھی ترک کردیا ہے۔

ہمارا مقصد اس کی مدد کرنا ہے اور ہمیں یقین ہے ایک دن اس میں ضرور کامیاب بھی ہوں گے۔

یہاں صرف ایک یہی حوریہ اس مصیبت کا شکار نہیں بلکہ کئی حوریہ اس وقت اپنے گھر کا بازو بن کر کفالت کا ذریعہ بنی ہوئی ہیں۔ ان ننھی فرشتوں کو لیکن یہ معلوم نہیں کہ وہ کس دنیا میں جی رہی ہیں، جہاں انسان نما درندے ہر وقت آزادی کے ساتھ گھوم رہے ہیں اور یہ انسان نما درندے قانون کی گرفت میں بھی نہیں آتے۔ حکومت نے اعلان کیا تھا کہ مستحق خاندانوں کو بارہ ہزار روپے دیئے جائیں گے لیکن ہماری اطلاعات کے مطابق ایسے لوگوں کو بھی پیسے ملے جن کے پاس رب کا دیا سب کچھ تھا، اور ایسے مستحق گھرانے بھی دیکھے جن کے پاس کھانے کو روٹی تک میسر نہ تھی۔ ایسے لوگوں میں بیوائیں بھی شامل ہیں جو آج بھی حکومتی امداد کی منتظر نظر آرہی ہیں۔ اس کے بعد حکومت نے بے روزگار ہونے والوں کےلیے بارہ ہزار کا اعلان کیا لیکن وہ بھی ایک لالی پاپ ہے جو عوام کو بے وقوف بنانے کےلیے دیا جارہا ہے۔ عوامی پیسے کا بے دریغ استعمال کرکے ’’اندھا بانٹے ریوڑیاں اپنے اپنوں کو دے‘‘ کی مثال ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق سندھ حکومت نے 8 ارب روپے کا راشن مستحقین میں رات کے اندھیروں میں تقسیم کیا، لیکن اب تک مجھے ایک بھی ایسا شخص نہیں ملا جسے حکومت سندھ کی جانب سے راشن ملا ہو۔

یہاں بھی بڑے پیمانے پر کرپشن کی کہانیاں میڈیا پر زیر گردش ہیں جن پر عدالت عظمیٰ نے بھی نوٹس لے رکھا ہے۔ تاہم یہ وہ اونٹ ہے جو کبھی کسی کروٹ نہیں بیٹھتا، بلکہ کھڑے کھڑے ہی اپنا کام کرجاتا ہے۔

مستحقین کے نام پر اس وقت ایک عجیب تماشا زوروں پر جاری ہے۔ کہیں شناختی کارڈ کی کاپیاں لی جارہی ہیں تو کہیں یہ کہہ کر لوگوں کو بے و قوف بنایا جارہا ہے کہ آپ کا راشن گھر تک پہنچا دیا جائے گا۔ لیکن شناختی کارڈ کی کاپیاں دینے والے آج بھی دربدر کی ٹھوکریں ہی کھاتے نظرآرہے ہیں۔ مخیر حضرات کی جانب سے جو راشن تقسیم ہوا، صرف اسی پر لوگوں نے اکتفا کیا ہوا ہے ورنہ ڈی سی آفس سے جاری ہونے والا راشن آج بھی نامعلوم راستوں پر گامزن ہے جو مستحقین کے دروازوں تک کبھی نہیں پہنچے گا۔ اس پر نہ تو کبھی کوئی ایکشن ہوگا اور نہ ہی کبھی کوئی انکوائری رپورٹ منظرعام پر آئے گی۔

ہمارے معاشرے کا سب سے بڑا المیہ یہی ہے کہ کرپشن پر کرپشن کی جاتی ہے، جس کی کئی مثالیں ہمارے سامنے موجود ہیں۔ جہاں کرپشن ہوئی اس پر ایک کمیٹی بنائی گئی، اس کمیٹی پر ایک اور کمیٹی بنانے کا رواج بھی اسی ملک میں ہے۔ کمیٹیوں کے چکر سے نکلنے کےلیے اس پر کمیشن بنایاجاتا ہے اورپھر انکوائری اگر ایمانداری سے کی گئی تو آپ سمجھ جائیے کہ وہ رپورٹ کبھی منظر عام پر نہیں آئے گی اور اگر اس میں سامنے والے کو پاک صاف دکھانا ہے تو دو چار ہفتوں میں ہی اندورنی طو رپر جوڑ توڑ کرکے اسے دنیا کا شریف النفس انسان بناکر ہمارے سامنے پیش کردیا جاتا ہے۔

وطن عزیز میں ننھی حوریہ کا مستقل آج بھی تاریک ہے، جسے روشن کرنے کےلیے حکومتی سطح پر کوئی ٹھوس اقدامات نہیں کیے گئے۔ ایسی ننھی حوریہ ہمیں روزانہ کہیں نہ کہیں نظرآجاتی ہے؛ کبھی آئس کریم بیچتے ہوئے تو کبھی سموسے، تو کبھی جوتے پالش کرتے یا پھر کبھی کسی کے آگے ہاتھ پھیلاتے ہوئے۔ یہ وہ درد ناک مناظر ہیں جو اقتدار میں بیٹھے اشرافیہ کو کبھی نظرنہیں آتے۔

ملکی بجٹ بناتے وقت بھی سب سے کم بجٹ صحت، تعلیم اور غذا پر رکھا جاتا ہے اور اس میں بھی بندر بانٹ ہوتی رہتی ہے۔ سرکاری اسپتال صرف برائے نام مفت ہیں، یہ تو اسی شخص کو معلوم ہوتا ہے جس کا پیارا ان سرکاری اسپتالوں کی بھینٹ چڑھتا ہے۔ جہاں قدم قدم پر نوٹ دکھانے پڑتے ہیں، ایک چپراسی سے لے کر ڈاکٹر تک مریضوں کے اہل خانہ سے تمیز سے بات نہیں کرتے، کچھ معلومات بھی لینی ہو تو جواب یہی ملتا ہے کہ اگراتنی جلدی ہے تو کسی پرائیویٹ اسپتال میں چلے جاتے، یہاں آنے کی کیا ضرورت تھی؟ لیکن یہ بات نہ ان ڈاکٹروں کو معلوم ہے اور نہ ہی چپڑاسی کو کہ یہاں سے جوتنخواہ وصول کرتے ہیں وہ ان ہی غریبوں کا پیٹ کاٹ کر ادا کی جاتی ہے۔

آخر میں صرف اتنا ہی کہوں گا کہ حکومت اگر واقعی صادق اور امین بننا چاہتی ہے تو ایمانداری سے ایسے لوگوں کو فہرست میں شامل کرے جو واقعی محتاج ہیں، جن کا اللہ کے سوا کوئی آسرا نہیں، نہ کہ ایسے لوگوں کو جن کے پاس پہلے ہی سب کچھ موجود ہے۔ غریبوں کو پیچھے چھوڑ کر ملک کو ترقی کی شاہراہ پر لانے کا خواب صرف خواب ہی رہ جائے گا، ان کی ترقی میں ہی ملک کی ترقی ہے، لہٰذا صوبائی اور وفاقی حکومت پہلے ان کا خیال کرے پھر ملک کی ترقی کی بات کرے۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 1,000 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

محمد عارف میمن

محمد عارف میمن

بلاگر سولہ سال سے صحافت سے وابستہ ہیں؛ اور ایک مقامی اخبار میں گزشتہ 3 سال سے اسپورٹس ڈیسک پر اپنی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ ان کا ٹوئیٹر ہینڈل @marifmemon ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔