لیاقت آباد، لانڈھی ، ناظم آباد میں ٹارگٹڈ کارروائیاں،106ملزم گرفتار

اسٹاف رپورٹر  جمعرات 5 دسمبر 2013
بینک ڈکیتیوں میں ملوث4ملزمان کی گرفتاری ظاہر،اسلحہ اور لوٹی ہوئی رقم برآمد ہوئی، فوٹو : محمد ثاقب / ایکسپریس/فائل

بینک ڈکیتیوں میں ملوث4ملزمان کی گرفتاری ظاہر،اسلحہ اور لوٹی ہوئی رقم برآمد ہوئی، فوٹو : محمد ثاقب / ایکسپریس/فائل

کراچی: پولیس اور رینجرز نے شہر کے مختلف علاقوں میں ٹارگٹڈ آپریشن اور چھاپہ مار کارروائیوں میں106ملزمان کو گرفتار و حراست میں لے کر ان کے قبضے سے اسلحہ برآمد کر لیا ۔

تفصیلات کے مطابق پولیس ترجمان کے مطابق گزشتہ24 گھنٹوں کے دوران مختلف علاقوں میں 67 چھاپہ مار کارروائیوں اور6مبینہ پولیس مقابلوں میں 23 مفرور سمیت77ملزمان کو گرفتار کر کے ان کے قبضے سے مختلف اقسام کے35 ہتھیار اور5دستی بم برآمد کر لیے،گرفتار ملزمان میں اسلحہ ایکٹ کے تحت12 ، منشیات ایکٹ کے تحت10، ڈکیتی اور چوری میں ملوث13، دہشت گردی ایکٹ کے تحت5 اور 3 ٹارگٹ کلر زکے علاوہ دیگر جرائم میں ملوث 11 ملزمان شامل ہیں،رینجرز ترجمان کے مطابق رینجرز کی مختلف ٹیموں نے منگل اور بدھ کی درمیانی شب لیاری سیفی لائن ، لانڈھی ، گڈاپ ٹاؤن 400کوارٹرز ، نارتھ ناظم آباد بلاک ایم اور بلاک ایل ، النور سوسائٹی ، لیاقت آباد ، اتحاد ٹاؤن ، لائنز ایریا اور ناظم آباد مجاہد کالونی میں ٹارگٹڈ آپریشن جبکہ سائٹ ایریا ، فیڈرل بی ایریا عائشہ منزل اور لیاقت آباد سندھی ہوٹل کے قریب اسنیپ چیکنگ کے دوران مجموعی طور پر29 ملزمان کو حراست میں لے کر ان کے قبضے سے سب مشین گن سمیت مختلف اقسام کا اسلحہ برآمد کر لیا ، ملزمان کو تفتیش کے لیے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔

علاوہ ازیں ایس ایس پی اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ محمد فاروق اعوان نے گزشتہ روزپریس کانفرنس کے دوران4ملزمان راشد کشمیری ، محمد اعجاز ، عمیر علی ، اور سعید خان کی گرفتاری ظاہر کرتے ہوئے ان کے قبضے سے واردات کے دوران بینکوں کے گارڈز سے چھینا گیا ۔

اسلحہ جس میں ایک ایم پی 5 رائفل ، ایک بی بی کلاشنکوف ،4 پستول ، 2 موٹر سائیکلیں اور لوٹی ہوئی رقم15 لاکھ روپے نقدی برآمد کرنے کا دعویٰ کیا ہے ، مذکورہ اسلحہ ملزمان نے واردات کے دوران5 بینکوں کے گارڈز سے چھینا تھا، انھوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان نے ابتدائی تفتیش کے دوران انکشاف کیا کہ انھوں نے بینکوں سے ایک کروڑ روپے سے زائد کی رقم لوٹی ہے ، ملزمان نے انکشاف کیا کہ وہ اسنیپ چیکنگ کے خوف سے رکشوں میں اسلحہ لاتے اور لے جاتے تھے۔

واردات کے دوران ملزمان کا ایک ساتھی بینک کے باہر اپنے رکشے میں بیٹھ کر نگرانی کرتا تھا اور واردات میں استعمال کیا جانے والا اسلحہ بھی اپنے رکشے میں لاتا تھا، 2ملزمان بینک میں داخل ہوتے تھے اس کے بعد گروہ کا سرغنہ محمد راشد کشمیری اپنے گلے میں آفس بیگ لٹکائے ہوئے بینک میں داخل ہوتا تھا جس میں بے بی کلاشنکوف اور دیگر اسلحہ موجود ہوتا تھا،ذرائع نے بتایا کہ گرفتار ملزمان محمود آباد کے رہائشی ہیں جنھیں چند روز قبل سب انسپکٹر راشد علوی نے مخبر کی اطلاع پر محمود آباد کے علاقے سے پکڑا تھا ، ملزمان کا ایک ساتھی محمد علی ذاتی دشمنی کے دوران فائرنگ سے ہلاک ہو چکا ہے جبکہ ملزم اعجاز اغوا برائے تاوان کے ایک مقدمہ میں گرفتار ہوا تھا جسے بعد ازاں عدالت نے ضمانت پر رہا کر دیا تھا تاہم وہ اب مفرور ہے جبکہ اس کے ایک ساتھی کو اغوا کے اس مقدمے میں25 سال قید کی سزا ہو چکی ہے ، ملزمان نے دیگر متعدد وارداتوں کا بھی اعتراف کیا ہے جس کی تصدیق کی جا رہی ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔